بنگلورو: 26 اپریل۔کرناٹک کے باگل کوٹ میں شری رام سینا کے سربراہ پرمود متھالک نے اقلیتی طبقہ کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم پر ایک پتھر پھینکا گیا تو ہم مسلمانوں پر ہزار پتھر پھینکیں گے! آج تک کی رپورٹ کے مطابق پرمود متھالک نے یہ متنازع بیان ضلع باگل کوٹ میں ایک پروگرام میں شرکت کے بعد دیا۔ ان کے اس بیان پر وہاں موجود لوگوں نے ان کے حق میں نعرے بازی شروع کر دی۔پروگرام کے دوران انہوں نے کہا، ’’نہ صرف کرناٹک بلکہ ملک کے کسی کونے میں رام نومی، ہنومان جینتی، گنیش چترتھی یا کسی بھی تہوار پر ایک پتھر پھینکا جاتا ہے تو مسلمانوں پر ایک ہزار پتھر پھینکے جائیں گے۔

بھگوان نے ہمیں بھی دو ہاتھ دیئے ہیں، اس لیے ہوشیار رہیں۔‘‘شری رام سینا کے سربراہ نے مزید کہا، ’’ہمارے وکیل تیار ہیں، آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وافر تعداد میں وکلا آئیں گے اور آپ کو رہا کرائیں گے لیکن تاش کھیل کر جیل مت جاؤ، پھر ہم آپ کو بچانے کے لیے نہیں آئیں گے۔‘‘انہوں نے کہا ’’اگر آپ ہماری ہندو لڑکیوں کو آزاد کرانے کی کوشش کر رہے ہیں تو ہم آپ کی رہائی کو یقینی بنائیں گے۔ اگر آپ گائے کی حفاظت کر رہے ہیں اور آپ کو اس کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے، تو ہم آپ کی رہائی کے لیے لڑیں گے۔ اگر آپ تبدیلی مذہب میں ملوث عیسائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہیں اور آپ کے خلاف مقدمات درج ہوتے ہیں تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے اور آپ کی رہائی کو یقینی بنائیں گے۔

‘‘اس سے پہلے کھرگون سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ گجیندر پٹیل بھی پتھراؤ کے حوالہ سے اشتعال انگیز بیان دے چکے ہیں۔ ایک مذہبی پروگرام میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا تھا ’’ہزاروں رام بھکتوں پر پھول برسانے کے بجائے پتھر پھینکے گئے ہیں۔ اب اس بات کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔ یہاں موجود نوجوان یہ عہد کریں۔ یہ یہ بھارت ماتا کا ملک ہے، ہم مذہب کی بنیاد پر زندگی گزارتے ہیں۔ اگر آپ نے پتھروں کی بارش کی تو ہم بھی سناتن دھرم کے لوگ ہیں، اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے لیے تیار رہیں۔‘‘رکن پارلیمنٹ گجیندر پٹیل نے اپنے اس بیان پر بعد میں کہا ’’ہاں میں نے بیان دیا تھا کہ لوگ رام جی کے جلوس پر پھولوں کی بجائے پتھر پھینک رہے ہیں، ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔‘‘