• 425
    Shares

کرناٹک ہندو مہاسبھا کے سکریٹری دھرمیندر نے کرناٹک کے وزیر اعلی اور بی جے پی کو لے کر ایک سخت بیان دیا ہے۔ دھرمیندر نے کہا ہے کہ بر سر اقتدار بی جے پی نے میسور میں ایک تاریخی مندر کے انہدام کی اجازت دے کر ہندوؤں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوؤں کے خلاف حملوں کو لے کر اگر گاندھی جی کو مارنا ممکن تھا تو آپ کیا ہیں۔ پولیس نے دھرمیندر کو گرفتار کر لیا ہے۔

منگلورو پولیس نے ریاست کے وزیر اعلی کو دھمکی دینے کے الزام میں انہیں گرفتار کیا ہے۔ دھرمیندر کے خلاف ہندو مہاسبھا کے ریاستی صدر نے ہی شکایت درج کرائی تھی۔ ہندو مہاسبھا کا دعوی ہے کہ پارٹی نے انہیں سال 2018 میں نکال دیا تھا۔

واضح رہے دھرمیندر نے یہ بھی کہا ہے کہ اب اس لڑائی میں آر ایس ایس کا استعمال کر اپنی حرکتوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ نیوز پورٹل پر شائع خبر کے مطابق انہوں نے الزام لگایا کہ مندر انہدام کئے جانے کے خلاف سنگھ کی تنظیموں کی لڑائی بی جے پی حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کی کو شش ہے۔

دھرمیندر نے کہا کہ انہیں یہ لڑائی لڑ رہی سنگھ کی تنظیموں پر رحم آتا ہے اور اگر وہ اپنی لڑئی کے تئیں ایماندار ہیں تو آنے والے انتخابات میں انہیں بی جے پی کو ہرانا چاہئے اور ہندو مہاسبھا کی حمایت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو مہاسبھا ہندوتوا کی بنیاد پر بنی پارٹی ہے۔

انہوں نے بی جے پی کے خلاف کھلے طور پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر مندروں پر حملے جاری رہے تو ہندو مہاسبھا بی جے پی اور ریاست کی ریڑھ کی ہڈی کے بغیر والی حکومت کو نہیں بخشے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی مندر انہدام کی کارروائی کو سپریم کورٹ کا حکم بتا رہی ہے، جبکہ دوسرے طبقوں کے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔