• 425
    Shares

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی اور بڑھتے ہوئے کنٹرول کے باعث وہاں کی خواتین مایوس ہیں اور ایک بار پھر 20 سال پہلے کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کر رہی ہیں۔دوحہ میں طالبان سے مذاکرات کرنے والے افغان حکومتی مشن میں چار خواتین بھی موجود ہیں لیکن اطلاعات ہیں کہ تشدد روکنے اور مؤثر اقدامات نافذ کرنے کے لیے نہ بات آگے بڑھی ہے اور نہ ہی طالبان سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

بی بی سی نے افغانستان کے مختلف علاقوں کی خواتین سے بات کی جنھیں اس تحریر میں ان ہی کی زبانی پیش کیا جا رہا ہے۔

’اب غزنی میں بھی کوئی عورت گھر کے مرد کے بغیر باہر نہیں جا سکتی‘
میرا نام سارہ (فرضی نام) ہے۔ مجھے غزنی بہت عزیز ہے۔ وہاں میرا گھر ہے، میں وہاں پیدا ہوئی لیکن تین دن پہلے مجھے اپنے خاندان کے ہمراہ اسے چھوڑنا پڑا۔ نجانے میں کبھی وہاں لوٹ پاؤں گی یا نہیں۔ میں نے ایک مہینہ وہاں مسلسل لڑائی دیکھی ہے۔ پھر میں اپنے والد اور بہن بھائیوں کے ہمراہ دو روز پہلے کابل پہنچی ہوں۔

اب وہاں طالبان کا مکمل کنٹرول ہے۔ جس جگہ ہم رہتے تھے وہ پچھلے ایک مہینے سے طالبان کے کنٹرول میں تھا۔ ہمارا گھر پولیس سٹیشن کے قریب تھا۔ مرکزی شہر سے ذرا دور ایک قصبے میں۔ہم نوجوان لڑکیاں اور عورتیں اپنے گھر کے مردوں شوہر، بھائی یا بیٹے کے بغیر باہر نہیں نکل سکتی تھیں۔ وہاں رہنا بہت مشکل ہے، ناممکن ہے۔ طالبان نے ہماری آزادی چھین لی ہے۔

وہ کسی بھی گھر پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ جو ان کی بات نہ مانے وہ اسے قتل کر رہے ہیں۔مثال کے طور پر اگر وہ میرے والد کو کہیں کہ ان کے لیے کھانا تیار کریں، اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو وہ مار دیتے ہیں۔ علاقے میں انھیں کوئی گھر پسند آتا ہے اور وہ اس گھر میں رہنے والے کو کہیں کہ یہ ان کے لیے خالی کریں، تو اگر وہ یہ حکم نہ مانے تو وہ اسے مار دیتے ہیں۔میرے والد مزدوری کرتے ہیں۔ وہ کچھ روز کام کر سکے۔

میری ایک دوست طالبان کے حملے میں ہلاک ہو گئی۔ اس کے گھر پر گولے برسائے گئے۔ وہ راکٹ اور گن استعمال کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنے علاقے کے بہت سے لوگوں کو کھویا بھی ہے۔میں اپنی سب دوستوں سے بچھڑ گئی ہوں۔ میں یہاں یونیورسٹی میں لٹریچر میں ماسٹرز کر رہی تھی۔مجھے نہیں معلوم آپ لوگ ہمارے جذبات ہماری صورتحال کو سمجھ سکتے ہیں یا نہیں، لیکن ہم اسے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے۔

وہاں غزنی سے کابل پہنچنے میں ہمارا بہت زیادہ کرایہ لگا اور یہ ایک طویل سفر تھا۔ ہم گھر سے نکلے تو دو روز ہمیں شہر کے مرکز میں اپنے رشتے داروں کے گھر میں رہنا پڑا۔اس راستے میں ہمیں ہر جگہ طالبان گھومتے پھرتے دکھائی دیے۔ وہ گشت کر رہے تھے اور آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔

میں امید ہی کر سکتی ہوں کہ حالات بہتر ہوں۔ ہم افغانستان سے باہر نہیں جا سکتے۔ نہیں معلوم آنے والے دنوں میں کیا ہو گا۔ یہاں کابل میں ہم ایک چھوٹی سی جگہ میں رہنے پر مجبور ہیں اور ہمارا سب کچھ پیچھے رہ گیا ہے۔میں اب غزنی کے خوبصورت مقامات پر گشت کرتے طالبان کو دیکھ رہی ہوں اور یہ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔

اب ہمیں برقعے میں رہنا ہو گا
میرا نام مریم (فرضی نام) ہے۔ میں یہاں کابل میں ہوں اور اپنے اور اپنی کزنز کے مستقبل کے لیے ہر ایک کے لیے بہت خوفزدہ ہوں۔ اب میں اپنے گھر سے باہر نہیں نکلتی۔ شاپنگ کے لیے اور کافی شاپ پر جانا بند کر دیا ہے۔ اب مجھے برقعے میں زندگی گزارنا ہو گی۔ میری تعلیم میری نوکری میرا مستقبل، سب کچھ ختم ہو جائے گا۔

زندگی 20 سال بعد پھر صفر پر جا رہی ہے۔

خوست میں موجود میرے خاندان کی لڑکیاں جو ابھی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، جو ابھی کابل کی یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے پیسے جمع کر رہی ہیں وہ کہتی ہیں کہ خاندان کے مرد ان سے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے کہا تھا نا شادی کر لو۔ اب طالبان نے اگر یہاں آ کر ہمیں حکم دیا کہ کنواری لڑکیوں کا ہاتھ دو تو ہم کیا کریں گےہمارے خاندان کے مرد انھیں کہہ رہے ہیں کہ تم ہمیں شرمسار کرو گی جب ہمیں یہ سب کرنا پڑے گا۔

ہم نے تو پہلے بھی زندگی کا صحیح معنوں میں لطف نہیں لیا لیکن ہم یہ امید رکھتے تھے کہ ہماری اگلی نسل پر امن زندگی گزارے گی۔یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ جمعے کے خطبوں میں کہا جا رہا ہے کہ لڑکیوں کی مردوں سے شادی اچھا کام ہے ثواب کا کام ہے۔

آپ بتائیں اب ہمارے لیے فرار کا کیا راستہ ہے؟ ہمارے پاس رقم بھی نہیں ہے کہ ہم کسی اور ملک میں جا سکیں۔

کابل میں طالبان کے پہنچنے سے پہلے ہی ہم خواتین کی زندگی بدل رہی ہے۔ اب سوشل میڈیا پر عام خواتین کی پوسٹس اور خاص طور پر تصاویر اور سٹیٹس بہت کم دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

’لوگ صدمے سے دوچار ہیں‘
میرا تعلق پکتیکا سے ہے میں ایک سماجی کارکن ہوں۔ اب میں یہاں کابل میں ہوں اور کام کے لیے اب میں پکتیکا نہیں جا رہی، لیکن وہاں مسلسل رابطے میں ہوں۔

اگرچہ ابھی وہ طالبان کے کنٹرول میں نہیں لیکن صورتحال نارمل بھی نہیں رہی۔ لوگ وہاں سے نکل رہے ہیں۔ یہ غیر یقینی کی صورتحال ہمیں مار رہی ہے۔ آنے والا کل مزید بدترین دکھائی دے رہا ہے۔

مرنا آسان ہے لیکن اس ظلم و بربریت میں جینا مشکل ہے، ہر انسان امن چاہتا ہے ،محبت کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔

میری یہاں کابل میں دوسرے صوبوں سے آنے والے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔ انھوں نے ایک جوڑے کپڑے اور جوتے میں گھر چھوڑا۔ یہ لوگ یہاں پارکوں، سڑکوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ہزاروں خاندان کابل پہنچ چکے ہیں۔کابل کی سڑکوں پر خواتین بھیک مانگنے پر مجبور
بی بی سی کی صحافی یلدا حکیم کہتی ہیں کہ بے کسی کی حالت اس وقت افغانستان میں دکھائی دے رہی ہے۔ بہت سی عورتیں مدد کی بھیک مانگ رہی ہیں۔ وہ بہت خوفزدہ ہیں کہ طالبان کا افغانستان پر کنٹرول ہو گیا تو کیا ہو گا؟

یلدا نے اپنی ٹویٹ میں ایک خاتون کا پیغام شیئر کیا جس میں وہ کہتی ہیں ’مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے یہاں سے باہر نکلنے کے لیے آپ کی مدد کی ضرورت ہے افغانستان میں صورتحال بہت خراب ہو رہی ہے۔ میں عورتوں کے حقوق کے لیے شوز کررہی تھی، افغان نیشنل آرمی کے لیے شو کرتی تھی اور افغانستان کی بہتری کی بات کرتی تھی۔‘

’مجھے نہیں معلوم کہ میں زندہ چھوڑ دی جاؤں گی یا مجھے مار دیا جائے گا۔ اگر تم میری یہاں سے باہر نکلنے میں مدد کرو تو میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں زیادہ محنت سے کام کروں گی۔ میں یہاں سے باہر رہ کر بھی اپنے ملک کی خدمت کر سکتی ہوں۔ مجھے بہت خوشی ہو گی اگر آپ میری مدد کر سکیں۔’

یہاں کابل کی سڑکوں پر، گلیوں میں اور کیمپس میں مختلف علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے لوگ پہنچ رہے ہیں۔ ننھی نازدانہ ڈاکٹر بنننا چاہتی تھیں لیکن اب کابل کے کیمپ میں موجود ہیں۔

یلدا کہتی ہیں کہ طالبان نے مجھے بتایا کہ اب بارہ سال سے بڑی کوئی لڑکی سکول نہیں جا سکتی۔ جو بغیر شادی کے تعلقات رکھے گا اسے سنگسار کیا جائے گا، چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہو گی۔

’ہمیں کوئی امید نہیں، خواتین بچے خون میں لت پت ہیں‘

سلام، سب کو سلام۔ میں قندھاری ہوں۔ حالات بہت خراب ہو گئے ہیں۔ یہاں قریبی چوک تک طالبان پہنچ چکے ہیں۔ حکومت کی فورسز اور طالبان کے درمیان بہت سخت لڑائی ہوئی۔

ہماری مائیں بہنیں سڑکوں پر چیخ رہی ہیں۔ بچے بوڑھے عورتیں خون میں لت پت ہیں۔

یہاں بچے، بوڑھے اور شیر خوار مارے گئے ہیں۔ ہم سڑکوں پر خوار ہو رہے ہیں۔ طالبان یہاں قندھار میں آ گئے ہیں۔ یہاں چنائی نامی علاقے میں ہسپتالوں پر بھی طالبان قابض ہو چکے ہیں۔ ان میں میری رشتہ دار حاملہ عورتیں بھی شامل ہیں جنھیں چنائی کے ہسپتال میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان خواتین کی حالت بہت خراب ہے۔

تین دن میں انھوں نے ہمارے 12 شہروں میں قبضہ کیا۔ حکومت کی آنکھوں میں پٹی بندھی ہوئی ہے۔ بغیر لڑائی کے وہ ہر صوبہ انھیں دے رہے ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ ہم کر لیں گے، دیکھ لیں گے۔ ہمیں ان سے کوئی امید نہیں۔ افغانستان کسی کو نظر نہیں آ رہا کوئی ہماری طرف نہیں دیکھ رہا، افغانستان نہ امریکہ کو نظر آ رہا ہے نہ جرمنی کو نہ یورپ کو۔ ہمارا خون بہہ رہا ہے لیکن ان لوگوں نے ہماری طرف پیٹھ کر دی ہے۔ ساری دنیا نے افغانستان سے اپنا مطلب نکالا۔ افغانوں کو کوئی نہیں دیکھتا۔

حالات بہت خراب ہیں، ہمیں کوئی امید نہیں ہے ہماری سب امیدیں ختم ہو چکی ہیں کہ پھر سے افغانستان کے حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔

طالبان نے میرا گھر تباہ کر دیا
میرا نام مہرین ہے۔ قندھار میں طالبان نے میرا گھر بھی تباہ کر دیا ہے۔ میں ایک استاد ہوں۔ قندھار چھوڑنا ہماری خواہش نہیں مجبوری بن گئی تھی۔ یہ ہماری زندگی کا مشکل ترین فیصلہ تھا۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ جنگ اتنی بڑھ جائے گی۔ رات کے 12 بجے جب میرے گھر کی پچھلی دیوار پر گولیاں برسائیں گئیں تو ہمیں برقعے اوڑھ کر گھر چھوڑنا پڑا۔

بعد میں ہمیں اطلاع ملی کہ ہمارے اور اردگرد کے گھروں میں طالبان داخل ہو گئے اور وہاں بیٹھ گئے تھے۔

جب گھر چھوڑا تو بس ہاتھ میں اپنی شناختی اور تعلیمی اسناد لیں جو کہ میرے لیے بہت اہم ہیں۔ ایک ہفتے تک اپنے ایک عزیز کے یہاں وقت گزارا، پھر ہم واردک چلے گئے۔ وہاں 16 روز گزارے اور دوست کی مدد سے کابل میں کرائے پر ایک گھر لیا۔

ان حالات کی وجہ سے میری بھاوج کا بچہ ضائع ہو گیا۔ قندھار سے ہمارے بہت سے رشتہ دار پاکستان اور ہرات چلے گئے تھے۔ جب میں گھر چھوڑ رہی تھی تو پورا ضلع خالی دکھائی دے رہا تھا۔ سب گھر دکانیں سب کچھ بند پڑا تھا۔ ہر بندہ سڑک کے کنارے اپنے لیے گاڑی کی تلاش میں تھا۔

راکٹوں کی آوازیں سننے کے کئی روز بعد اب بھی ہمارے بچے خوفزدہ ہیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔