نئی دہلی: یوپی انتخابات میں بی جے پی کی جیت اور دیگر پارٹیوں کی ہار کے سلسلہ میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اہم انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل کانگریس کی جانب سے بی ایس پی کو اتحاد کی پیشکش دی گئی، مایاوتی کو وزیر اعلیٰ کے عہدہ کی بھی پیشکش کی گئی تھی مگر انہوں نے جواب تک نہیں دیا۔

راہل گاندھی نے یہاں تک کہا کہ مایاواتی نے اس مرتبہ انتخابات میں مقابلہ ہی نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ’’ہماری طرف سے انہیں اتحاد کی پیشکش کی گئی۔ ہم نے تو یہ بھی کہا تھا وہ وزیر اعلی بن سکتی ہیں لیکن انہوں نے ہماری پیشکش پر کوئی جواب نہیں دیا۔ دراصل مایاوتی اب ای ڈی اور سی بی آئی سے خوفزدہ ہیں اور انتخاب نہیں لڑنا چاہتیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں : مہنگائی کی تکلیف بھلانے کے لیے مذہب کی افیم کھلا کر ٹالا جا رہا لوگوں کا غصہ… آدتیہ آنند

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ وہ کاشی رام کا بہت احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے دلتوں کو بااختیار بنایا تھا۔ کانگریس کمزور ہوئی ہے لیکن یہ مسئلہ نہیں ہے۔ دلتوں کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے لیکن مایاوتی کہتی ہیں کہ وہ انتخاب نہیں لڑیں گی۔ راستہ پوری طرح کھلا ہے لیکن سی بی آئی، ای ڈی، پیگاسس کی وجہ سے وہ لڑنا نہیں چاہتیں۔

یوپی انتخابات میں بی ایس پی کی خراب کارکردگی کی بات کریں تو اس بار پارٹی کو 10 فیصد کم ووٹ ملے ہیں۔ بی ایس پی کا ووٹ شیئر 2017 میں 22 فیصد سے گھٹ کر صرف 12 فیصد رہ گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مایاوتی کے بنیادی ووٹر جاٹو بھی بی جے پی کے ساتھ چلے گئے۔ نتیجتاً مایاوتی کو نہ مسلمانوں کے ووٹ ملے، نہ برہمن ساتھ آئے اور نہ ہی جاٹو کی حمایت ملی۔