ہم جنس پرستوں کی شادی کی درخواستیں، سپریم کورٹ کا مرکز کو نوٹس

108

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو تسلیم کرنے کی ہدایت دینے کے لیے دہلی ہائی کورٹ میں زیر التوا درخواستوں کو عدالت ِ عظمیٰ میں منتقل کرنے کی دو عرضیوں پر آج مرکز سے جواب طلب کرلیا۔

چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا پر مشتمل بنچ نے سینئر وکیل مینکا گروسوامی کی درخواستوں کا نوٹ لیا کہ یہ درخواستیں مساوات کے بنیادی حق سے متعلق ہیں۔ بنچ نے کہا کہ نوٹس جاری کریں۔

یہ بنچ کویتا اروڑا اور نویدیتا کی جانب سے داخل کی گئی دو علیحدہ منتقلی کی درخواستوں کی سماعت کررہا تھا۔ عدالت نے ان دونوں درخواستوں سے نمٹنے کے لیے اٹارنی جنرل آف انڈیا آر وینکٹ رمنی سے مدد بھی طلب کی۔

واضح رہے کہ اسپیشل میریج ایکٹ کے تحت ہم جنس پرستوں کی جانب سے ہم جنسوں کی شادی کی اجازت دینے کے لیے دو درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ اسپیشل میریج ایکٹ 1952ء ان جوڑوں کے لیے شادی کی سول شکل فراہم کرتا ہے جو اپنے ذاتی قانون کے تحت شادی نہیں کرسکتے۔