ڈاکٹر علیم خان فلکی
صدر سوشیوریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد9642571721

ٓ یا تو یہ لوگ واقعی غفلت کی نیند سو رہے ہیں، یا پھر اپنے Status quo یا پھر اپنی Income یا پھر اپنی جھوٹی ذہانت Pseudo-intellectuality کے نشے میں اپنے آپ کو ملّت سے اتنا دور اور اتنا بلند سمجھتے ہیں کہ ملت اور ملت کے مسائل ان کی نظر میں بہت چھوٹے ہوچکے ہیں۔ اگرچہ کہ ہمارے ہاں بڑے بڑے نامور ایڈوکیٹس ہیں جو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک خوب اثر رکھتے ہیں، ان کے آگے پیچھے ہاتھوں میں فائل لئے Clients کا ہجوم ہوتا ہے، لیکن ملت کے لئے یہ کتنے کام کے ہیں، اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ھادیہ، تین طلاق، بابری مسجد، اور حجاب جیسے مقدمات جیتنے کے جذبے کے ساتھ لڑنے کے لئے اہلیت رکھنے والا کوئی مسلمان وکیل دور دور تک نہیں ملتا۔ان کے علاوہ بے شمار ییوروکریٹس ہیں جو بڑے بڑے قابلِ فخر عہدوں سے ریٹائر ہوچکے ہیں، کچھ ہونے والے ہیں، جن کی Contact listمیں بڑے بڑے بااثر لوگ ہیں،جو نوکری کرنے تک اپنے آپ کو سیکولر ثابت کرنے کے احساسِ کمتری میں مبتلا رہے، اور ریٹائر ہونے کے بعد سیمینارز میں چیف گیسٹ بننے کے کام کرتے ہیں۔ان میں سفیر بھی ہیں اور IAS, IPSبھی۔ بڑی بڑی منسٹریز کے آفیسرز بھی اور ڈائرکٹرز بھی۔ اب قوم کے لئے بڑی بڑی لمبی تقریریں فرمانے لگے ہیں۔ لیکن یہ ملت کے مسائل سے کتنی دلچسپی رکھتے ہیں، اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب بڑے بڑے واقعات پر یہ لوگ بھی چبوترے پر یا پان کے کھوکحوں پر جمع ہونے والے عام لوگوں کی طرح صرف گفتگو فرماتے ہیں، کچھ کرنے کا خیال ان کے ذہنوں میں آتا ہی نہیں۔ اسی طرح بے شمار ڈاکٹرز ہیں جن کی پرائیوٹ کلینکس نوٹ چھاپنے کے پریس ہیں۔ بے شمار انجینئر، بِلڈر، لینڈ گرابرس،NRis، کنٹڑاکٹرس، سجّادے، مدرسوں کے مالکان، اور بڑے بڑے بزنس مین ہیں۔ لیکن یہ لوگ قوم کے کتنے سچے ہمدرد ہیں، اس کا اندازہ اُس وقت ہوتا ہے جب یہ چھوٹے چھوٹے ثواب کے کاموں پر تو خرچ کرتے ہیں، لیکن جب ملت پر حملے ہوتے ہیں، اور اس کا دفاع کرنے کا سوال آتا ہے تو انہیں اِنکم ٹیکس یا ED کے چھاپے کا خوف آتا ہے، یاپولیس کی نظروں میں آجانے کا خوف آتا ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ دفاع کا کام کرنے والے پہلے فاشسٹوں کے پاس سے ایک Conduct سرٹیفکٹ یا نوآبجکشن سرٹیفکٹ لے کر لائیں۔یہ لوگ ملت کے لئے کیا کرسکتے ہیں، اور کیا کررہے ہیں، اس کا احتساب کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

اس کے لئے حقیقی حالات کیا ہیں، یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آپ نے گوشت کی دکان کے سامنے یہ دیکھا ہوگا کہ قصاب جوں ہی کوئی چھیچھڑا پھینکتا ہے، طاقتور کتے لپک لیتے ہیں، اور اگر کمزور کتا احتجاج کرے تو اس پر اس زور سے بھونکتے ہیں کہ وہ بھاگ جاتا ہے اور گلی کے نکّڑ پر جاکردور سے غصے میں صرف غراتا رہتا ہے۔ آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ لڑائی میں کوئی غنڈہ جب مکّے رسید کرتا ہے تو کمزورشخص بوکھلاہٹ میں یہی کہہ کہہ کر پیچھے ہٹتا چلاجاتا ہے کہ ”مجھ پر ہاتھ اٹھایا؟“، ”اب کے مار، بتا تا ہوں“، ”تجھے چھوڑوں گا نہیں“، وہ یہ کہتا چلاجاتا ہے، اور طاقتور مکوں کی بارش کرتا چلاجاتا ہے۔ کشمیر، گجرات، آسام، مظفرپور، دہلی، تین طلاق، NRC، بابری مسجد، دھرم سنسد، کشمیر فائلس، حجاب وغیر ہ وغیرہ،جیسے تابڑ توڑ مکّے پڑچکے ہیں، اور ابھی اور پڑنے والے ہیں، ہم لوگ کیا انہی کتّوں کی طرح دور بھاگ کر غراتے نہیں کھڑے ہیں؟ کیا مکے کھانے والے کی طرح کا ردعمل نہیں دکھا رہے ہیں؟
لوگوں کی چار Catagories ہیں۔ پہلی کیٹاگِری اُن 90% لوگوں کی ہے، جو ان جانوروں کی طرح ہوتی ہے جو صرف گھاس چرنا جانتے ہیں۔ سر اٹھا کر یہ نہیں دیکھتے کہ کس کا کھیت ہے، کس کی سرحد میں داخل ہورہے ہیں،یا کس کی فصل خراب ہوگی۔ یا آپ نے سڑکوں پر آٹو یا بائیک والوں کو دیکھا ہوگا، یہ لوگ نہ رانگ سائڈ ہونے کی پروا کرتے ہیں، نہ سِگنل کی اور نہ کسی کے زد میں آکر زخمی ہوجانے کی پروا کرتے ہیں، ان کی ایک ہی دھن ہوتی ہے کہ بس میری گاڑی نکل جائے۔ یہی نفسیات ان کی زندگی کے ہر شعبے میں ہوتی ہے، نہ ان کو ملت کی پروا ہوتی ہے، نہ جائز ناجائز کی اور نہ اخلاقی یا غیراخلاقی اصول کی۔ ان کی زندگی میں پیسہ کمانے اور موبائیل پر وقت ضائع کرنے کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ ہاں کبھی کبھی نمازیں، روزے اور خیرات کا خوب اہتمام کرتے

ہیں۔
دوسری کیٹاگِری ان 5% لوگوں کی ہوتی ہے، جن کے پاس ضرورت سے زیادہ دولت جمع ہوجاتی ہے۔ اور دولت جب زیادہ ہوجائے تو نفسیاتی طور پر ایسے لوگ خودساختہ لیڈر اور انٹلکچول بن جاتے ہیں۔ ان سے کم حیثیت رکھنے والوں کو یہ بہت چھوٹا سمجھتے ہیں۔ تیسری کیٹاگِری اُن 2-3%؛وگوں کی ہوتی ہے جن کو آپ ایجوکیٹیڈ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ان میں اچھے اسپیکر بھی ہیں، IT کے پروفیشنلس بھی ہیں۔ خوب لکھنے والے بھی ہیں، ان کو پچاس ساٹھ سال کے بوڑھے تو وقت گزاری کے لئے پڑھ لیتے ہیں، لیکن تعلیم یافتہ نوجوان کوئی نہیں پڑھتا، پھر بھی یہ لوگ لکھے جاتے ہیں، پتہ نہیں کیوں۔ ان میں قابل الذکر وہی وکیل، ڈاکٹر، اور بیوروکریٹس بھی ہیں جو آج کا ہمارا عنوان ہیں۔ ان تمام کیٹاگریز میں ایک بات مشترک ہے۔ سارے کے سارے بہترین مشورہ دینے والے، بلکہ مشوروں کی گڈّیاں جیبوں میں لے کر پھرنے والے ہیں، حالات کا بہترین تجزیہ Analysisکرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ اپنی ذہانت، تجربے، روابط اور جیبوں کے ذریعے قوم کی قیادت کرسکتے ہیں، لیکن قیادت تو دور کی بات یہ لوگ تو جمع ہونے کے بھی قائل نہیں۔ ہاں اسی شرط پر جمع ہونگے کہ ان کے ہاتھ میں مائیک دیا جائے۔ چندہ کوئی اور دیتا رہے، یہ لوگ تقریر فرماکر چلے جائیں گے۔

باقی 1 to 2% لوگ بچتے ہیں جن کے پاس ملت کے کئے سنجیدگی کے ساتھ عملی اقدام کا مخلصانہ جذبہ ہے۔ ملک میں جس تیزی سے لاقانونیت اور آتنگ واد تیزی سے بڑھ رہا ہے، اصل آتنک وادی جو دیش کے دشمن ہیں، وہ دوسرے امن پسند لوگوں کو آتنک وادی کہہ کر میڈیا پر قبضہ کئے ہوئے ہیں، ان کا مقابلہ آتنک واد سے نہیں کیاجاسکتا۔ اس کا مقابلہ صرف قانون کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ کہ فاشسٹ اس قانون کو تبدیل کرنے کی تیاریاں مکمل کرچکے ہیں، لیکن یہ Constitutionجب تک ہے، اس میں دیش کی بقا کی ضمانت ہے۔ دیش کو بچانے کے لئے جو باہمت اور سمجھدار لوگ ہیں، وہ مشکل سے 1 to 2% ہیں جو کہ ہمارا آج کا موضوع ہیں۔ ان لوگوں کی رہنمائی کے لئے سب سے پہلے وکیلوں اور بیوروکریٹس کو آنا چاہئے۔ ان لوگوں کو صرف پتہ بتانے کی حد تک نہیں بلکہ ان کو ساتھ بٹھا کر لے کر جانے کی ضرورت ہے۔ مگر یہ قابل وکیل اور بیوروکریٹس حضرات گھنٹوں انتظار میں بٹھا کر، فرماتے ہیں ”ٹھیک ہے، آپ فلاں فلاں ڈاکومینٹ تیار کیجئے، شواہد Witness جمع کیجئے اور فلاں فلاں شخص سے جاکر ملئے۔“ اس کو رہنمائی کرنا نہیں کہتے بلکہ ٹالنا کہتے ہیں۔ اور ہمارے قابل وکیل اور بیوروکریٹس یہی کام بڑی خوبصورتی سے کررہے ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ سامنے والے کے پاس نہ تو تجربہ ہے، نہ وسائل Resources ہیں، نہ اسٹاف ہے اورنہ پیسہ۔ سب کچھ تو ان وکیلوں کے پاس ہے، لیکن اپنا مونگ لگے نہ پھٹکری، اپنے آپ کو یہ زحمت میں ڈالنا ہی نہیں چاہتے۔ Hate speech پورے عروج پر ہے۔ فاشسزم تیزی سے پھیلایا جارہا ہے، معصوم لوگوں کو بند کیا جارہا ہے، نہ جلسہ کرنے کی اجازت ہے نہ اپنی Freedom of speech کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ اگر کوئی یہ ہمت کرے تو اس کو مقدمات میں پھنسا کر پریشان کیا جارہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں علی الاعلان ایک مخصوص دھرم اور گمراہی کو عام کیا جارہا ہے، کیا ہمارے وکیل اور بیوروکریٹس کی غیرت نہیں جاگتی؟ کیا یہ لوگ انہی 1 to 2% افراد کو استعمال کرکے خود کچھ نہیں کرسکتے؟ صرف مشوروں پر کیوں ٹالنا چاہتے ہیں؟ اس غفلت کا نتیجہ کیا ہوگا؟ غنڈہ گردی بڑھتی چلی جائیگی۔مریں گے کون؟ مریں گے معصوم مسلمان، دلت، بی سی، پاڑدی، لمباڑے وغیرہ جن کو دھرم کی چرس پلادی گئی ہے۔ اصل مجرم جو ان کو لڑارہے ہیں، وہ تو ہر طرح سے محفوظ رہیں گے، صرف محفوظ ہی نہیں، پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتے چلے جائیں گے۔

اسی طرح ڈاکٹرز حضرات جو اپنے ایک ایک منٹ کا پیسہ وصول کرتے ہیں، ان کے ساتھ ساتھ بلڈر، انجینئر، NRIs، بزنس مین وغیرہ، یہ سارے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ عمارت کی تعمیر سمنٹ کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح آج امت کی عمارت جس کی ہر دیوار گر رہی ہے، اس کو پھر سے تعمیر کرنے کے لئے سمنٹ کی ضرورت ہے۔ اور وہ سمنٹ ہے پیسہ۔ آج ان دیواروں کو مزدور کی طرح کام کرکے پھر سے کھڑا کرنے کے لئے 1 to 2% لوگ اپنے جان، جوش اور توانائیوں کے ساتھ کام کرنے تیار تو ہیں لیکن پیسہ نہیں ہے۔ پیسہ انہی لوگوں کے پاس ہے جن کا ذکر ہم نے کیا۔ لیکن یہ لوگ جیبوں سے پیسہ نکالنے تیار نہیں۔ گھر کی شادی پر خرچ کرنے لاکھوں بلکہ کروڑوں ہیں، لیکن قوم کی بیٹیوں کے برقع سرِعام اتروائے جارہے ہیں، ان کی غیرت نہیں جاگتی۔ملت کا قتلِ عام Genocide کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، کشمیر فائلس دکھا کر دیکھنے والوں کے انٹرویوزکو نیشنل میڈیا اور سوشیل میڈیا پر پھیلا کر یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ اگر کوئی مسلمان تمہارے پڑوس میں رہتا ہے تو اس سے بدلہ لینا ہے، کوئی بس سے اتررہا ہے تو اسے مارو، کوئی ٹرین سے اتر رہا ہے تو اسے مارو، مسلمان لڑکیوں کی عصمت ریزی کرو اور ان کے حمل ٹھہراو۔ لیکن ہمارے یہ پیسے والے جن کے بینکوں میں کم سے کم بیس پچیس لاکھ ہیں، جائدادیں ہیں، عورتوں کے پاس کم سے کم پندرہ بیس تولے سونا جمع ہے، یہ سارے بے حِس ہوچکے ہیں۔ دراصل کل تک یہ سارے بھی غریب تھے۔ ان کے دادا اور نانا سائیکل پر پھر تے تھے۔ غربت ان کی نفسیات میں بس چکی ہے۔ آج اگرچہ ان کے پاس پیسہ ہے لیکن ذہن میں سالہاسال سے یہ بیٹھا ہوا ہے کہ”ہم غریب ہیں، ہم کیا کرسکتے ہیں، ہم تو لینے والے Takers ہیں، ہم دینے والے Givers کیسے بن سکتے ہیں؟جو کچھ پیسہ آج ہمارے پاس ہے، وہ تو دامادوں کو خریدنے اور بچوں کو باہر بھیجنے کے لئے کافی نہیں“۔

یاد رکھئے؛ جتنا آپ نے اپنے گھر، والدین، بہن بھائیوں اور اولادوں اور دامادوں کے لئے خرچ کرنا چاہئے تھا، آپ نے کردیا۔ اب عمر کا آخری حصہ، اس کمائی کا ایک ایک روپیہ، آپ کی ذہانت Intellect کا ایک ایک Talent جس کے ذریعے آپ شہرت اور دولت کی اس منزل تک آئے، اب یہ سب قوم کی امانت ہیں۔ اس کی آخرت میں سخت پکڑ ہوگی۔ اگر یہ سارا مال، وقت اور توانائیاں اب بھی بیٹوں اور دامادوں کے لئے چھوڑ کر جانے کے لئے ضائع ہوتی رہیں، تو کل یہ بیٹے یا داماد، وراثت میں لاکھوں لے کر خوش تو ہاجائیں گے لیکن آپ کی و قبر پر دعا کرنے کبھی نہیں آئیں گے، البتہ یہ اگر قوم کے کام آجائے تو قوم کے ہزاروں نوجوانوں کی طاقت بن جائیں گے، اور لاکھوں کے لئے آپ ایک Inspiration بن جائیں گے، اور ان کی دل سے نکلنے والی دعاوں کے آپ حقدار ہوجائیں گے۔ ورنہ قوم کی حالت جو آج ہے اس سے بھی بدتر ہوجائے گی، اس بچے کی طرح ہوجائے گی۔ جس کا باپ تو زندہ ہے لیکن بچہ یتیم کی طرح ٹھوکریں کھاتا پھررہا ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ ہماری طاقت بنئے، ہمارا ساتھ دیجئے۔ مشورے مت دیجئے، صرف یہ بتایئے کہ ملت کی بقا کے لئے آپ وقت، توانائیاں اور مال خرچ کرنے کے لئے کتنے تیار ہیں؟