ہزاروں ورکرز کی ضرورت: آسٹریلیا اس سال زیادہ غیر ملکیوں کو شہریت دے گا

1,278

آسٹریلیا دس سالوں میں پہلی بار تارکین وطن کے لیے مستقل سکونت پر عائد پابندیوں میں نرمی لا رہا ہے جس سے وہاں کام کرنے والوں کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔

اس پابندی کے ہٹنے سے رواں مالی سال میں آسٹریلیا میں موجود ایک لاکھ پچانوے افراد کی تعداد میں پینتیس ہزار افراد کا اضافہ ہو گا۔

کورونا وائرس اور آسٹریلیا میں سخت سرحدی پالیسیوں کی وجہ سے بہت سے شعبوں میں سٹاف کی کمی بڑھ چکی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ خالی آسامیوں کو بھرنے کے لیے چین، انڈیا اور برطانیہ سے ملازمین کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا میں تارکین وطن میں ان ممالک کے سب سے زیادہ لوگ موجود ہیں۔

آسٹریلیا میں اس وقت چار لاکھ اسّی ہزار آسامیاں خالی ہیں مگر ساتھ ہی بے روزگار افراد کی شرح گذشتہ نصف صدی میں کم ترین سطح پر ہے۔ ایسے میں خالی آسامیوں کو پُر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

رواں ہفتے کنبریا میں نیشنل جاب سمٹ میں بتایا گیا ہے کام کرنے والوں کی کمی نے ایئر پورٹس پر افراتفری مچا رکھی ہے، درختوں پر لگے پھل خراب ہو رہے ہیں اور ہسپتالوں پر کام کا بہت دباؤ ہے۔

داخلہ امور کی وزیر کلیئر او نائل نے کہا کہ ہماری توجہ ہمیشہ سے نوکریوں پر رہی ہے۔۔۔ لیکن کورونا کی وبا کے اثرات بہت زیادہ تھے، اگر ہم ہر دوسرے امکان کو بھی ختم کر دیں تب بھی کم ازکم قلیل مدت میں کئی ہزار ورکرز کی کمی رہے گی۔

مستقل سکونت 2010 میں کم ہونے سے پہلے تک سنہ 2017 کے وسط تک ایک لاکھ نوے ہزار سالانہ تک بڑھی اس وقت امیگریشن کا موضوع ایک سیاسی بحث بن چکا تھا۔

مگر بزنس اور یونینز اور سیاسی مخالفین کی جانب سے مزید تارکین وطن کو لائے جانے کا مطالبہ کیا گیا۔

داخلہ امور کی وزیر کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک ایسے نظام سے دور ہو رہے ہیں جو تقریباً مکمل طور پر اس بات پر مرکوز ہے کہ ہم لوگوں کو کس طرح ایک ایسے نظام سے دور رکھیں جو یہ تسلیم کرے کہ ہم ٹیلنٹ کی عالمی جنگ میں ہیں۔‘

اب صحت کے شعبے میں ورکرز کے لیے اضافی طور پر 4700 آسامیاں بنیں گی اور ملک کے دیگر علاقوں میں مزید 9000 لوگ جائیں گے۔

طفینی ٹرنبُل

بی بی سی نیوز، سڈنی