ہزاروں ایرانیوں اور عراقیوں کا فلسطینیوں کے حق میں مارچ

0 1

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یوم القدس کے موقع پر ایران میں ریاستی حمایت سے 950 مقامات پر یہ مارچ کیا گیا، جس میں ’اسرائیل مردہ باد‘ اور ’امریکا مردہ باد‘ کے نعرے لگائے گئے تھے۔ مارچ میں شرکاء نے‘یروشلم فلسطین کا ازلی دارالحکومت‘ جیسے نعرے بھی لگائے۔

ایرانی نیوز ویب سائٹس پر سامنے آنے والی تصاویر میں مظاہرین امریکی پرچم اور صدر ٹرمپ کے پتلے بھی جلاتے دکھائی دیے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی چینل پر عراق میں ہونے والے مظاہروں کی ویڈیوز بھی نشر کی گئیں۔ عراقی دارالحکومت بغداد میں شیعہ ملیشیا سے تعلق رکھنے والے ہزاروں جنگجوؤں نے بھی مارچ کیا۔

بغداد کی صوبائی کونسل کے رکن معین الخاتم کے مطابق، ’’بغداد اور دیگر عراقی صوبوں کے علاوہ پوری دنیا میں منایا جانے والا یوم القدس صدر ٹرمپ کی ڈیل آف دا سینچری کو مسترد کرتا ہے، کیوں کہ ٹرمپ کا منصوبہ ہے کہ فلسطینی عزم کو اپنے طریقے سے ختم کر دیں۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ بغداد میں ملیشیا سے تعلق رکھنے والے جنگجو مکمل جنگی وردی میں تو تھے، تاہم غیرمسلح تھے۔ انہوں نے عسکری گاڑیوں یا ہتھیاروں کی نمائش نہیں کی۔ ماضی میں گو کہ یہ ملیشیا بھاری ہتھیاروں کے ساتھ یوم القدس مارچ میں شریک ہوتے تھے۔

روئٹرز کے مطابق یوم القدس مارچ میں شریک افراد کی تعداد تو ماضی جیسی ہی تھی، تاہم اس مرتبہ غیر عمومی طور پر بااثر شیعہ رہنما ان مظاہروں میں شریک نہیں تھے۔ یوم القدس پر عموماﹰ شیعہ رہنما اسرائیل کے خلاف انتہائی تنقیدی اور جذباتی خطاب کرتے نظر آتے رہے ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ قدس ڈے کا آغاز ایرانی انقلابی رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی نے ایران میں سن 1979 کے انقلاب کے بعد کیا تھا اور یہ ہر سال رمضان کے آخری جمعے کو منایا جاتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں عرب ممالک کی سرمایہ کاری میں اضافہ چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ سے متعلق اپنے منصوبے کو ’صدی کا سب سے بڑا معاہدہ‘ قرار دے رکھا ہے۔ فلسطینی حکام نے تاہم اس منصوبے کو یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ یہ مکمل طور پر اسرائیل کے حق میں ہے جب کہ ایران کا موقف ہے کہ یہ منصوبہ ناکام ہو جائے گا۔

Source بشکریہ قومی آواز بیورو—