Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

’ہر زور ظلم کی ٹکر میں سنگھرش ہمارا نعرہ ہے‘… سید حسین افسر

لکھنؤ: خواتین کی گودیوں میں شیر خوار بچے، ہاتھوں میں پرچم اور لبوں پر انقلاب کے نعرے ہیں۔ ان کے بچوں کی مٹھیاں بھنچی ہوئی ہیں وہ آسمان کی طرف دیکھ کر سی اے اے اور این آر سی کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ بوڑھی عورتوں میں سے کچھ کی کمر خمیدہ ہے،آنکھوں پر موٹا چشمہ اور لبوں پر وہی نعرے جو کسی انقلاب کی دستک کے لئے ہوتے ہیں، ان کے بھائی، شوہر اور رشتہ دار دور سے ان کی ہمت افزائی کر رہے ہیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں کے ہم تمھارے ساتھ ہیں۔

پولیس کی وردیوں میں گھومتے سپاہی کافی تعداد میں ہیں ان میں سے زیادہ تر خواتین پولیس ہیں، مگر عورتوں کا کہنا ہے کہ ’’ہم ڈھیٹ اور ظالم“ پولیس والوں سے ڈرتے نہیں۔ ان کے لبوں پر بیچ بیچ میں نعروں کی آوازیں بلند ہوتی ہیں جیسے وہ خاکی وردی پوشوں کو چِڑھا رہی ہوں، دن بھر چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بھی لکھنؤ کے حسین آباد گھنٹہ گھر کے سبزہ زار پر ہزاروں خواتین اس قانون کے خلاف جد و جہد کر رہیں جس کو شہریت ترمیمی قانون کہا جا رہا ہے۔

بہت سے نو خیز بچے اور بچیاں اس قانون کے بارے میں باریکی سے نہیں جانتے مگر موٹے طور پر اس کی خامیوں اور نیت سے خوب واقف ہو چکے ہیں۔ بس ان کو یہ دھن ہے کہ کسی طرح سے یہ قانون واپس لیا جائے۔

شیش محل کی سکینہ بی کہتی ہیں کہ ہم اسی مٹی سے پیدا ہوئے اسی خاک میں مل جائیں گے مگر ہم باہر جانا پسند نہیں کریں گے۔ ان کا خیال ہے مودی سرکار ان کو شہریت نہ ثابت کرنے کی صورت میں ڈیٹینشن کیمپوں میں ٹھونس دے گی۔

پوجا شکلا جو ابھی چار دن کی جیل کاٹ کر واپس مظاہروں میں پہنچی ہیں،جوش و ولولہ سے سرشار ہیں، ان کو مودی، یوگی اور امت شاہ سے بالکل امید نہیں ہے، اپنی پر جوش تقریر میں اس ’’کالے قانون“ کی واپسی کا زور و شور سے، طالبہ کر رہی ہیں۔ ان کی ہمت کا عجیب عالم ہے۔ صدف جعفر پوری پوری رات گھنٹہ گھر کے اس مظاہرے میں خواتین اور بچوں کا حوصلہ بڑھا رہی ہیں۔

دن میں سابق وائس چانسلر روپ ریکھا ورما بھی احتجتاج کا حصہ بن جاتی ہیں، روپ ریکھا جی مقامی مظاہروں کا ہمیشہ محور و مرکز رہی ہیں۔ کمزور، نحیف مگر آہنی ارادوں کی مالک اس خاتون کو ابھی تک کوئی ڈگمگا نہیں سکا ہے۔ جہاں ظلم و زیادتی کے مناظر رونما ہوتے ہیں وہاں وہاں روپ ریکھا اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ پہنچ کر مجمع کی لائف لائین بن جاتی ہیں۔ وہیں میگسیسے ایوارڈ یافتہ سندیپ پانڈے ایک چرخہ لے کر مظاہرے میں اپنے گاندھی نواز ہونے کا ثنبوت دے رہیں۔

حسین آباد گھنٹہ گھر میں دن بھر اردو اور ہندی نظموں کا دور جاری رہتا، نوجوان لڑکیاں بھلے ہی شاعری کے وزن کے اعتبار سے نا موضوع کلام نظم کرتی ہوں مگر ان کے بروقت موزوں سے وہاں جمع سب ہی کبھی اشکبار اور کبھی جوش و ولولہ سے سرشار ہوجاتے ہیں۔ زمین پر رنگولی، خوبصورت نمونے ابھر ابھر کر آ رہے ہیں، یہاں کی تصویریں اور رنگ و برش سے اخلاقیات کے جو مناظر پیش ہو رہے ہیں اس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ان حالات میں بھی اپنی تخلیق کاری کے بہترین ہاتھ دکھانے میں کسی سے کم نہیں ہیں۔

مظاہرے میں ہندو-مسلمان کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ نماز، ہون اور ارداس سبھی تو یہاں ہوئے اور سبھی مذاہب کے ماننے والوں نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر دعائیں کیں کہ اے دنیا کے رکھوالے ہم پر رحم کر ان ظالموں کو عقل دے، ان کے ظلم و جور سے ہم سب کو محفوظ رکھ، اے ہمارے پالن ہار، ہمارے برے وقت میں تو ہی ہے جو اپنی مخلوق کی ہر طرح سے مدد کرتا ہے، ایک کونے میں نماز پڑھتی خواتین، دوسرے کونے میں آگ سے ہون کرتی مستورات تو تیسری طرف ارداس کراتے سکھ بھائی، ایک دل نشیں نظارہ سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

نکڑ ناٹک کرنے والے’’آج“ کے ظلم و ستم کی بھرپور عکاسی کر رہے ہیں ان کے مکالموں میں زبردست طنز و مزاح، ان کی گفتگو میں ’’ہر زور ظلم کے ٹکر میں سنگھرش ہمارا نعرہ ہے“ کی تکرار موجود افراد کے جسموں میں جوش بھر دیتی ہے۔ ایک ایسی تکرار جو گونج کر فضا میں تحلیل ہوجاتی ہے۔ ناٹکوں کے مناظر کافی دلچسپ اور دل پر اثر کرنے والے ہوتے ہیں، جیسے ہم آخری دم تک بس لڑتے ہی رہیں گے۔ ان کی آس اور ان کی جد و جہد کیا گل کھلائے گی یہ وقت ہی بہتر بتا سکتا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو