• 425
    Shares

شمس تبریز قاسمی
مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری ، آسام میں تقریباً 800 مسلمانوں کے گھروں کا انہدام ، تین مسجدوں کی مسماری اور 23 ستمبر کو نہتے بے گھر لوگوں پر پولس کی فائرنگ کی ، اتر پردیش میں مسجدوں کو منہدم کرکے مندر بنانے کی بی جے پی لیڈر سنگیت سوم کی دھمکی ۔باحجاب تصویر ہونے کی وجہ سے مغربی بنگال میں ایک ہزار مسلما ن لڑکیوں کی پولس محکمہ میں ملازمت کیلئے دی گئی درخواست کا رد کردیا جانا ، بہار کے مدھے پور میں نماز پڑھنے جارہے 65 سالہ محمد اکبر کی ماب لنچنگ، متھرا میں گوشت لیجانے کے شک میں دو مسلم نوجوانوں کی بھیڑ کے ذریعہ بے دردی سے پٹائی ، دہلی میں بیرسٹر اسد الدین اویسی کی سرکاری رہائش گاہ پر ہندو سینا کے غنڈوں کا حملہ ، مظفر نگر فسادات کے 20 ملزمان کو مقامی عدالت کا بری کردینا اور علی گڑھ کے ایک قبرستان میں سرکاری دفتر کی تعمیر اور مسجد کا دروازہ بند کردینا جیسے کئی مسائل ہیں جو گذشتہ دو دنوں میں پیش آئے ہیں۔

اوپر مذکورسبھی مسائل کا تعلق براہِ راست مسلمانوں سے ہے، لیکن مسلمانوں میں خاموشی ہے ، مسلم تنظیموں اور سربراہوں کو زیادہ تر مسئلوں کا علم نہیں ہے ، کچھ کے بارے میں معلومات ہے لیکن خاموشی چھائی ہوئی ہے ، کچھ نے بولنے کی بھی کوشش کی ہے ، اردو اخبارات میں پریس ریلیز شائع ہوگئی ہے ۔ مسلم نوجوان اور نئی نسل سے تعلق رکھنے والے ٹوئٹر ، فیس بک اور سوشل میڈیا پرغم و غصہ کا اظہار کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم یونہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشائی بنے رہیں گے۔ ایسے واقعات کو رونما ہوتے ہوئے دیکھتے رہیں گے اور غم و غصہ کا اظہار کرکے ، ٹوئٹر ٹرینڈ چلاکر ، پریس ریلیز شائع کرکے ، اسپیس میں گفتگو کرکے یہ سمجھ لیں گے کہ ہماری ذمہ داری پوری ہوگئی ہے یا پھر اسے روکنے کی کوئی کوشش کی جائے گی یا پھر ہمارے قائدین اور رہنماؤں کو لگتا ہے کہ ان کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا ، جنہیں پولس نے گرفتار کیا ہے، واقعی ان میں کچھ خامیاں موجود تھیں ، وہ غلط راستے پر تھے ، آئینِ ہند کے خلاف کام کررہے تھے ، ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے، اس لئے انہیں گرفتار کیا گیا ہے ، حکومت کسی بے گناہ پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی ہے ۔ ان کی گرفتاری اس لئے ہوئی ہے کہ وہ اس طرح کے کام کررہے تھے ، ہمیں ، ان کو ، فلاں کو کیوں گرفتار نہیں کیا گیا ، دھواں اٹھنے کا مطلب ہے کہیں آگ لگی ہے ۔
ڈاکٹر ذاکر نائک پر حکومت نے شکنجہ کسنا شروع کیا اور بالآخر انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ، کرونا معاملوں کو لیکر مولانا سعد صاحب کو میڈیا نے لگاتار نشانہ بنایا ، معروف وکیل محمود پراچہ کی آفس پر 17 گھنٹے کا ریڈ پڑا ۔ سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو چن چن کر جیل میں بند کردیا گیا ،صدیق کپن کو گرفتار کرلیا گیا، جون میں جناب عمر گوتم اور قاضی جہانگیر صاحب کی گرفتار ی ہوئی ، اب مولانا کلیم صدیقی صاحب کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ ایسے شخصیات کی لمبی فہرست ہے جن پر ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور سچ بولنے کی پاداش میں مختلف دفعات کے تحت کیس کیا گیا ہے، پاپولر فرنٹ آف انڈیا کو لگاتار نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن ملت اسلامیہ ہند مجموعی طور پر خاموش ہے ۔ ہمارا ووٹ حاصل کرنے والی اپوزیشن پارٹیاں بھی ہمارے مسائل پر خاموشی اختیار کرلیتی ہیں کیوں کہ انہیں اب مسلمانوں کی فکر نہیں بلکہ ہندوؤں کی ناراضگی کا خدشہ رہتاہے ، مسلم قائدین اور تنظیموں کے سربراہ خاموشی کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں یا پھر پریس ریلیز جاری کرکے اپنی ذمہ داری نبھانے کا اعلان کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ٹی وی چینلوں ، یا یوٹیوب ، فیس بک اور ٹوئیٹر جیسے پلیٹ فارمز پر آکر یہ بول دیتے ہیں کہ الیکشن جیتنے کیلئے بی جے پی کی سرکار یہ سب کررہی ہے ، مسلمانوں کا فائدہ اسی میں ہے کہ وہ خاموش رہیں ۔ ایسے اقداما ت کرکے بی جے پی مسلمانوں کو اکسانا اور سڑکوں پر لانا چاہتی ہے تاکہ وہ ہندوؤں کی مزید ہمدردی حاصل کرسکے اس لئے مسلمان اپنے اوپر ہونے والے تمام مظالم کو چپ چاپ سہتے رہیں۔
لیکن یاد رکھیے ! عمر گوتم ، قاضی جہانگیر اور مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری پر یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے ۔بلکہ یہ جاری رہے گا اور ایک ایک کرکے مسلمانوں کو اسی طرح جیل میں بند کیا جائے گا، ان گرفتاریوں کا تعلق صرف سیاست اور انتخاب سے نہیں ہے ، بلکہ اس کا مقصد مسلمانوں کو خوف زدہ کرنا ، کمیونٹی کو ڈرانا ، ان کے تعلیمی اور دوسرے مشن پر قدغن لگانا ، مسلم تنظیموں اور اداروں کی مالی مدد کرنے والوں کو خوفزدہ کرنا ، مسلم سرگرمیوں پر پابندی لگانا ، اسلام میں داخل ہونے والوں کوخوف کا شکار بنانا اور اس جیسے کئی کثیر المقاصد ایجنڈا ہیں ۔

شہریت ترمیمی بل جب پاس ہوا اور حکومت نے پورے ملک میں آین آر سی نافذ کرنے کا اعلان کیا تو ملت نے خاموشی اختیار کرلی لیکن جامعہ ، علی گڑھ اور شاہین باغ کی خواتین نے کسی تنظیم ، لیڈر اور شخصیت کا سہارا لئے بغیر ملک گیر احتجاج شروع کردیا جس کا اثر پوری دنیا نے محسوس کیا ۔ حالات بتارہے ہیں کہ ایک مرتبہ پھر کچھ ایسے ہی انقلاب کی آہٹ دکھائی دے رہی ہے ، کچھ لوگ میدان میں نکلیں گے ، ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوجائیں گے اور انہیں عوام کا سپورٹ ملے گا لیکن اس دوران ملی تنظیموں اور قائدین کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ آخر وہ کیا کررہے ہیں ، قوم کو کتنا سہارا دے رہے ہیں اور ایسا مسلمانوں کو کیوں احساس ہوتا ہے کہ وہ بے بس ہیں ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہندوستان میں جب بھی کسی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے ،ظلم ہوتا ہے تو سب ایک ساتھ میدان میں آکر انصاف دلانے کی مانگ کرتے ہیں ، سرکار پر دباؤ بناتے ہیں ، سبھی اپوزیشن پارٹیاں سرکار پر دباؤ بناتی ہے لیکن اگر مسلمانوں کے ساتھ کچھ ہوتا ہے ہم مسلمانوں کے درمیان پہلے یہ موضوع بحث ہوتا ہے کہ ہمارے حق میں کیو ں کوئی نہیں بول رہاہے ، کس نے آواز اٹھائی اور کس نے نہیں ؟ کس نے ٹویٹ کیا اور کس نے نہیں ، مظلوم کو انصاف دلانے کے بجائے کوشش یہ ہوجاتی ہے کہ فلاں لیڈر اس موضوع پر بات کرے تاکہ اسے میڈیا میں جگہ مل سکے ۔

گرفتاری ہوجانے کے بعد ہماری کچھ تنظیموں کی جانب سے عدالتی کاروائی میں مدد دی جاتی ہے ، وکلاء کا انتظام کیا جاتا ہے اور قوم کے درمیان اسی کو عظیم الشان خدمت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ فلاں صاحب کی کیس ہم لڑیں گے ۔ یہ ایک ضروری کام ہے اور قابل ستائش ہے لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے اور نہ ہی بنیادی کام ہے ، یہ ایک فرض کفایہ جو کسی نہ کسی کو کرنا ہی ہے اور کسی نہ کسی طرح ہوجاتا ہے، جیسے جب کسی کی موت ہوجاتی ہے تو میت کی تدفین کسی نہ کسی طرح ہوہی جاتی ہے ، خواہ قریبی رشتہ داروں کے ذریعہ ہو، یا پھر پڑوسی اور بستی والے یہ ذمہ داری نبھائیں ، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسے واقعات رونما کیوں ہورہے ہیں ، کیوں باربار گرفتاری ہورہی ہے ، کیوں قوم کو فزدہ کیا جارہے اور ہم اسے روک کیوں نہیں رہے ہیں ، کیسے اس سلسلے کو روکا جاسکتا ہے ۔ یہ کام ضروری ہے ، اس کیلئے سبھی کو متحدہونے کی ضرروت ہے ، اسی مقصد کے تحت مارچ میں مولانا محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ کی صدارت میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے وکیل محمود پراچہ نے دہلی کے انڈیا انٹر نیشنل سینٹر میں ایک منعقد کی تھی ، ملت کی اہم ترین شخصیات نے اس میں حصہ لیا تھا لیکن بعد میں اسے بھی لوگوں نے صرف تنقید کا نشانہ بنایا ، سپورٹ نہیں کیا ، کچھ نے اس میٹنگ کی مخالفت کی کہ اتنی ساری تنظیمیں بنی ہوئی ہیں تو پھر ایک الگ سے کمیٹی کیوں بنائی جائے، ادھر مولانا رحمانی کا انتقال ہوگیا ، مفتی اعجاز ارشد قاسمی بھی اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں، بہر حال محمود پراچہ اسے پایۂ تکمیل تک پہونچانے میں مصروف ہیں اور اپنی کوششیں کررہے ہیں ۔
مسلم نوجوانوں ، سماجی کارکنان ، علماء اور کچھ تنظیموں کو جس طرح حکومت کی جانب سے لگاتار نشانہ بنایا جارہا ہے ایسے موقع پر یہ ضروری ہوگیا مسلمان سیاسی ، سماجی اور ملی مسائل کیلئے اتحاد کا ثبوت دیں ،صرف مسلکی اتحاد کی تقریروں تک خود کو محدود نہ رکھیں ، سڑکوں پر نکلیں ، احتجاج کا راستہ اپنائیں ، میڈیا ہاؤسز قائم کریں ، جو لوگ میڈیا کے میدان میں کام کررہے ہیں ان کا تعاون کریں ، قانونی لڑائی لڑیں، عدالتوں میں گرفتاری کے بعد مقدمہ لڑنے سے زیادہ ان افسران کے خلاف کیس کو ترجیح دیں جو مسلمانوں کو بے قصور پھنساتے ہیں ، پولس افسران کے خلاف ایف آئی آر کرائیں جو مسلمانوں کو ہراساں کرتے ہیں اور صحیح تفتیش کرنے کے بجائے مسلمانوں کو گرفتار کرکے جیل میں بند کردیتے ہیں، اے ٹی ایس کی غیر قانونی کاروائیوں کو عدالتوں میں چیلنج کریں ، دہلی فسادات کے کیس میں عدالتوں سے بار بار پولس کو پھٹکار لگائی جارہی ہے کیوں کہ یہاں کئی کیس محمود پراچہ اور دوسرے وکیلوں نے پولس کے خلا ف کر رکھا ہے ، پچھلے دنوں ایک کیس میں عدالت نے 25 ہزار روپے کا جرمانہ بھی پولس پر عائد کردیا تھا ۔ گرفتار لوگوں کی رہائی سے زیادہ ترجیحی ایجنڈا یہ ہونا چاہیئے کہ گرفتار کرنے والوں کے خلاف قانونی لڑائی لڑی جائے ، گرفتاری ، ماب لنچنگ اور اس طرح کے مسلم مخالف اقدامات کو روکنے کی عملی کوششیں کی جائے ۔
(مضمون نگار ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹر ہیں)

stqasmi@gmail.com

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔