اتراکھنڈ کے ہریدوار میں منعقد دھرم سنسد کے دوران نفرت انگیز تقریر کے معاملے پر سماعت کے لیے سپریم کورٹ تیار ہو گیا ہے۔ پیر کے روز ہریدوار دھرم سنسد کے تعلق سے مجرمانہ کارروائی کا مطالبہ کرنے والی مفاد عامہ عرضی پر جلد سماعت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ہریدوار دھرم سنسد میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی گئی اور مبینہ طور پر مسلمانوں کے قتل عام کی اپیل بھی کی گئی تھی۔

سینئر وکیل کپل سبل نے اس تعلق سے فوری سماعت کے لیے چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کے سامنے گزارش کی۔ سبل نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ایسے وقت میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ملک میں ’ستیہ میو جیتے‘ نعرہ بدل کر ’شستر میو جیتے‘ ہو گیا ہے۔‘‘

چیف جسٹس این وی رمنا نے کپل سبل کی دلیلوں کو سننے کے بعد کہا کہ ’’ہم اس پر غور کریں گے۔ کیا پہلے سے ہی کچھ جانچ چل رہی ہے؟‘‘ اس کے جواب میں سبل نے بتایا کہ حالانکہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، لیکن کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ ساتھ ہی سبل نے گزارش کی کہ ’’یہ معاملہ اتراکھنڈ ریاست میں پیش آیا ہے۔ آپ کی مداخلت کے بغیر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔‘‘ بعد ازاں چیف جسٹس آف انڈیا اس معاملے کی سماعت کے لیے تیار ہو گئے.

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں