”ہرویندرسنگھ عرف رندا ابھی زندہ ہے“پنجابی ٹی وی کولائیو انٹرویودیا : ویڈیو دیکھیں

1,317

ناندیڑ:20 ۔جنوری (ورق تاز ہ نیوز)ہروندر سنگھ عرف رندا مردہ نہیں زندہ ہے۔ جب میں مہاراشٹر میں 15 سال کا تھا،ناندیڑ میں لوکل کرائم برانچ کی طرف سے میرے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے بعد میں نے جرائم کی طرف رجوع کیا۔ ہروندر سنگھ ملک میں سیاسی اور انتظامی لوگوں پر اپنا غصہ ظاہر کر رہے تھے ۔انہوں نے نیوز چینل اے بی پی سنجا کو 19 جنوری کو رات 9 بجے ایک لائیو انٹرویو دیا۔ نیوز چینل کے ایڈیٹر جسویندر پٹیال نے یہ انٹرویو لیا ہے۔جب میں 15 سال کا تھا تو مجھے ناندیڑ کا ایک پولیس اہلکار ناندیڑ کی لوکل کرائم برانچ لے گیا کیونکہ مجھے لوکل کرائم برانچ لے جانے والے پولیس والے نے مجھ سے کہا کہ میری عمر کے ایک نوجوان سے دوستی ختم کر دو۔ اس جگہ مجھے دھمکیاں دی گئیں کہ تم پر چوری کے مزید الزامات لگیں گے۔

اس دن میرا امتحان تھا۔ مجھے امتحان میں تاخیر ہوئی اور اس واقعے کے بعد میرا ذہن جرائم کی دنیا کی طرف چلا گیا۔ میں جیل سے عسکریت پسند بن گیا۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے رندا نے اس انٹرویو میں اپنے ساتھ پیش آنے والے کئی واقعات کا ذکر کیا۔ یہ انٹرویو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ جب آج یہ انٹرویو سنا تو 24 گھنٹے گزرنے سے پہلے تقریباً 1.5 لاکھ لوگوں نے اس انٹرویو کو سنا۔ساجھا کے ایڈیٹر جسویندر پٹیال نے رندا سے پوچھا، کیا تم پاکستان میں رہ کر آئی ایس آئی کے ہاتھ میں کٹھ پتلی کی طرح کام کر رہے ہو، لیکن رندا نے واضح کیا کہ وہ پاکستان میں نہیںہے اور پاکستان کی آئی ایس آئی میری سیکیورٹی کی دیکھ بھال نہیںکررہی ہے۔

جسویندر پٹیال اس سے پوچھتا ہے کہ ”تم گرو مہاراجہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق کیوں نہیں چل رہے“ رندا کہتا ہے کہ میں ناانصافی کے خلاف کام کر رہا ہوں اور آج تک تقریباً 100 کروڑ روپے بھتہ وصول کر چکا ہوں۔ جب جسوندر پٹیال اس سے تاوان کے استعمال کے بارے میں پوچھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں نے یہ رقم کسی کو دی ہے ۔ لیکن اگر وہ اس کا نام کہیں گے تو محکمہ پولیس انہیں جیل میں ڈال دیںگے ۔ میں بھارتی نظام کے خلاف لڑ رہا ہوں۔ اس پر جسوندر پٹیال کہتے ہیں کہ نظام کو بدلنے کے لیے آپ الیکشن لڑیں اور خود نظام بدل لیں میں آپ کے ساتھ ہوں لیکن رندا کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ آپ کی موت کی جعلی خبر کیسے پھیلائی گئی اس کی وضاحت کرتے ہوئے رندا کہتا ہیکہ ہانگ کانگ میں رہنے والی ایک خاتون وکیل نے سرکاری اداروں سے 50 لاکھ روپے لے کر میری موت کی جعلی خبر پھیلائی۔ آپ کے خیال میں میں پاکستان میں کیوں ہوں؟ اس طرح کا سوال رندا خود ایڈیٹر کو پوچھتا ہے جس پر پٹیال اس سے کہتا ہے کہ وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہے کہ پاکستان میں نہیں ہے مگر رندا اس کا کوئی جواب نہیں دیتا ہے۔

میں بہت سے انتہا پسندوں، مجرموں کو جانتا ہوں، میں ان سے بات کرتا رہتا ہوں، ناانصافی، غلط نظام کے خلاف جو لڑائی شروع کی ہے اسے جاری رکھوں گا۔ اس پر پٹیال رندا سے کہتا ہے کہ تمہارے طریقہ کار سے نہ کبھی انقلاب آسکتا ہے نہ جیت ہوگی۔ اس طرح دہشت گرد کہلانے والے ہروندر سنگھ عرف ردا کے انٹرویو کو نشر ہوئے 19 گھنٹے ہوچکے ہیں اور 19 گھنٹوں میں ہر گھنٹے میں ایک لاکھ سے زائد لوگ اس انٹرویو کو دیکھ رہے ہیں۔ہرویندر سنگھ عرف رندا آج جہاں کہیں بھی ہیں، ان پر الزامات چاہے کچھ بھی ہوں، لیکن انٹرویو کرنے والے ایڈیٹر جسوندر پٹیال نے جو کہا وہ سچ ہے کہ رندا کے نظریے کی بنیاد پر کوئی انقلاب نہیں آسکتا۔ اسلئے مقامی نوجوانوں کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ سچائی کاساتھ دیںاور جرائم کے پیشہ کواختیار نہ کریں۔