محمدتقی (9325610858)

پھرا یک بار آج صبح ہی سے خبر ِغم کی آمد کاسلسلہ چل پڑا ہے ۔ چند گھنٹوں میں چھ انسانی جانیں کورونا کے قہر کاشکار ہوگئیں ۔ رات کی آخری ساعتوں تک پتہ نہیں اور کتنے اللہ کے بندے اس جہانِ فانی سے رخصت ہوجائیں گے؟ موبائل فون کے واٹس ایپ اسکرین پر جب کوئی خبرِ غم نمودار ہوتی ہے تو دل دھڑکنے لگتا ہے ۔دھڑکنیں تیز ہونے لگتی ہےں ۔ ایک انجانہ خوف ذہن پرطاری ہونے لگتا ہے ۔لرزتے ہونٹوں پربس ایک ہی کلمہ ہوتا ہے ۔ ”اے رب العلمین رحم کر“۔موت کی خبریں لکھتے لکھتے اب تو قلم بھی بے زار ہونے لگا ہے ۔روشنائی ختم ہونے لگی ہے ۔انگلیاں فگار ہیں ۔ لیکن سخت جان کرونا (کوویڈ19) بے رحم موت کاروپ دھاکرقریہ قریہ ‘گلی گلی‘گاوں گاوں‘ شہرشہر بے قابو چڑیل کی طرح قہقہے لگاتی ‘شور مچاتی گھوم رہی ہے ۔ اورانسان اُس سہمے ہوئے پرندے کی طرح ہے جو باز کے نشانے پرہے۔

میں کہ سہما ہوا پرندہ ہوں

وقت کا باز میری تاک ہے

کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ اخبار کے دفتر کوکورونا سے مرنے والوں کی منحوس اطلاع نہ آتی ہو ۔ مارچ 2021ءسے اس وبا ءنے سارے ملک میںہنگامہ برپا کررکھا ہے ۔ ابتدائی دنوں میںایک آدھ شخص کے مرنے کی خبرسنائی دیتی تھی لیکن اب تو یہ عالم ہے کہ صرف ہمارے اکیلے ضلع ناندیڑ(مہاراشٹر) میں روزانہ 25تا30اموات ہونے کی دل دہلانے والی خبریں آنے لگی ہیں ۔ یہ تو سرکاری اعدادوشمار ہیں۔غیر سرکاری اطلاع کے اعداد و شمار ان سے کہیں زیادہ یعنی چارگنا ہیں ۔ اورافسوس صد افسوس کہ نہ تو ہماری ریاستی حکومت اور نہ ہی مرکزکی زعفرانی حکومت کے کانوں پرجوں تک رینگ رہی ہے۔

زمیں لوگوں سے خالی ہو رہی ہے
یہ رنگ آسماں دیکھانہ جائے گا

عوام کااعتبار او راعتماد کھوچکی دونوں حکومتیں اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ کورونا کے اژدہا کا کام تمام کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں ۔ حکومت صرف ”لاک ڈاون“ کے ایک ہی ڈنڈے سے اس اژدہا کومارنے کی لاحاصل کوشش کررہی ہے ۔ ارے کوئی حکومت کو یہ بتائے کہ اژدہا نکل چکا ہے اب لکیر پیٹنے سے کوئی فائدہ نہیں! جب جب بھی لاک ڈاون لگا ہے‘کورونا کے بے رحم پنچے ادرک کے پنجوں کی طرح تیزی سے پھیلے ہیں۔ا ب تو لوگ لاک ڈاون کے ذکر سے بھی حقارت کرنے لگے ہیں ۔صورتِ حال کیاکہیں ۔ نفسانفسی کاعالم ہے ۔ جب کوئی شخص کورونا مرض سے متاثر ہوتا ہے اسے اس کے گھر والے ایک علاحدہ کمرے میں یا کونے میںتنہا چھوڑ دیتے ہیں ۔ان آنکھوں نے وہ دلدوز اور دردناک منظر بھی دیکھا ہے کہ گھر والے مریض کو دور سے لکڑی کے تختے پر غذا‘پانی اور دوا رکھ کراس کی طرف سرکادیتے ہیں ۔ایک زمانہ تھا کہ جذام کے مریض کے ساتھ ا س کے رشتہ دار ایسا ہی بدبختانہ سلوک کیا کرتے تھے ۔ ہر شخص خوف زدہ ہے کہ کہیں یہ جان لیواکورونا مرض اس کولاحق نہ ہوجائے ۔ اگر مریض کو کسی دواخانے میںشریک کیاجاتا ہے تو اس سے کسی کوملنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے ۔ سب کچھ دواخانہ کا عملہ کرتا ہے ۔ مرنے پر مریض کواس کے ورثا کے حوالے نہیں کیاجاتا بلکہ ان تنظیموں کے حوالے کیاجاتا ہے جومُردوں کودفنانے کاکارِ خیر رضاکارانہ طور پرانجام دیتی ہیں۔ دواخانہ سے لاش سیدھا شمشان گھاٹ اگرلاش مسلمان کی ہے تو قبرستان پہونچائی جاتی ہے۔ا س طرح 20تا25 افراد نماز جنازہ میںشریک ہوتے ہیں اور لاش کی تدفین ہوتی ہے ۔حالات انتہائی پریشان کُن ہیں۔

سینے میں جلن ‘آنکھوں میں طوفان سا کیوںہے

اس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے

پریشان ساکیوں ہے ؟ یہ سوال اب ہمیں اپنے آپ سے کرناہے ۔ اپنا محاسبہ کرنا ہے ۔پروردگارکی نافرمانیوں کاجائزہ لینا ہے ۔ انسانوں کی بے کسی اورلاچاری دیکھی نہیں جاتی۔شمشان گھاٹوں اورقبرستانوں کے عبرتناک مناظر اتنے دردناک ہیں کہ انھیں دیکھ کر زمین بھی رو رہی ہے ۔ آسمان اشک بار ہے ۔چاند ‘تارے سیسکیاں لے رہے ہیں ۔ روئے زمین کی ہرشئے پر اداسی طاری ہے ۔کیاانسان ‘کیا پرند سبھی کی آنکھ پُرنم ہے ۔آنسو مسلسل رواں ہیں ۔ اب تو بُلبل کے نغمے‘ کوئل کی کوک پپیہہ کی پیہو پیہو اورفاختہ کی چہچاہٹ کہیں سنائی نہیں دیتے ۔ایسالگتا ہے خوف زدہ پرندے بھی سہم گئے ہیں اوراپنے اپنے آشیانوں میں پناہ گزیں ہوگئے ہیں ۔چارسو ہوکا عالم ہے ۔ہرشخص پرموت کے منحوس سائے لہرانے لگے ہیں ۔ میرے مولیٰ !یہ کیسا ہیبت ناک پُرآشوب دور ہے ۔انسان ہیں کہ گھروں میں سہمے بیٹھے ہیں ۔باہر موت رقصاں ہے۔دن کوقرار ہے نہ راتوں کوچین ہے ۔ایک گھر سے دو دوتین تین جنارے نکل رہے ہیں ۔ گورکن قبریں کھودتے کھودتے تھک چکے ہیں ۔قبرستانوں میں دو گز زمین حاصل کرنا دشوار ہوگیا ہے۔انسانوں کی مجبوری اور مُردوںں کی بے سروسامانی دیکھی نہیں جاتی ۔
درد اتنا ہے کہ ہررگ میں ہے محشر برپا
جب ذہن کی روشنیاں گل ہونے لگتی ہیں۔ دِلوں کی قندیلیں بُجھنے لگتی ہیں ۔ ہرسوغم کے بادل چھانے لگتے ہیں ۔ مُسرتیں روٹھ جاتی ہیں ۔ خوشیاں ماتم کے سانچوں میںڈھل جاتی ہیں تو بہاروں پربھی خزاں کاگمان ہوتا ہے ۔ جب دل ڈوبا ہو تو کلیوں کا چٹکنا ‘شاخوں کالکچنا ‘ پھولوں کالہراکر مہکنا ‘بادِ صبا کی صر صر کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔
نہ گُل کھلے ہیں ‘نہ اُن سے ملے ‘نہ مے پی ہے
عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے

اے میرے پالن ہار! آج تیرا یہ گنہگار بندہ دنیاکوتیاگ کے تیرے درپرآگیا ہے۔تیرا مجرم بن کر کھڑا ہے۔ میرے خیال کے بھنور ‘میرے دل کی دھڑکن ‘روشنائی ‘ میرا قلم ‘نوِک ِ قلم‘ نوکِ قلم سے نکلنے والا ہرلفظ ‘لفظ کاہر حرف ‘میری چشمہ تر سے بہنے والا ہرآنسو یہ تمام تیرے حضور میں سجدہ ریز ہیں ۔ سب نافرمانیوں ‘اپنی خطاﺅں ‘لغزشوں ‘ کوتاہیوں اورگناہوں پرنادم ہیں ۔تجھ سے معافی کے طلب گار ہیں ۔ اے میرے مالک حقیقی ! سرکارِ دو عالم رسول کریم اور ان کے نواسوںسے والہانہ محبت و عشق کے صدقے میں سارے انسانوں کومعاف کردے ۔ ہم تجھ سے انسانوں کی سلامتی اور زندگیوں کی بھیک مانگتے ہیں ۔اپنی رحمت کو حکم دے ۔ اپنے رحم و کرم کے موتی ہماری کشکول میں ڈال دے ۔ کورونا موت کے سایوں کو ہمیشہ ہمیشہ کےلئے دنیابدر کردے ۔ ہم جانتے ہیں تیری رحمت وکرم کاکوئی کنارہ نہیں ہے ۔ کوئی حد نہیں ہے ۔ اور جب تُومائل بہ کرم ہوتا ہے توروٹھی بہاریں ‘روٹھی خوشیاں پھر سے لوٹ آتی ہیں۔