ہبلی کے عیدگاہ میدان کو ’گائے کے پیشاب‘ سے ’پاک‘ کرنے کے بعد سہ روزہ ’گنیش اتسو‘ کا آغاز

2,162

ہُبلی: کرناٹک ہائی کورٹ سے منظوری حاصل ہونے کے بعد بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے درمیان بدھ کے روز ہبلی شہر کے عیدگاہ میدان میں گنیش چترتھی کا اتسو (جشن) شروع ہوا۔ رپورٹ کے مطابق ہندو کارکنوں نے اتسو کے آغاز سے قبل عیدگاہ میدان کی زمین کو گائے کے پیشاب (گئو موتر) سے شدھ (پاک) کیا۔ وہیں، میدان میں گنیش دیوتا کا مجسمہ نصب کرنے سے قبل بم ناکارہ بنانے والے دستہ نے معائنہ کیا۔ حفاظت کے لئے میدان کی ڈرون کے ذریعے بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔ادھر، ہبلی کے عیدگاہ میدان میں گنیش اتسو منانے کی اجازت دینے کے ہائی کورٹ کے فیصلہ پر وقف بورڈ نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ ہندو کارکنوں کو خدشہ تھا کہ وقف بورڈ اس معاملہ میں سپریم کورٹ سے رجوع کر کے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کر سکتا ہے۔ادھر، سری رام سینا کے سربراہ پرمود متالک نے گنیش کے پوسٹر اور ساورکر اور بال گنگا دھر تلک کی تصاویر کے ساتھ عیدگاہ میدان کا دورہ کیا۔ مجسمہ کے بغل میں ساورکر کی تصویر نصب کی گئی ہے۔ مرکزی کوئلہ، کانکنی اور پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے متنازعہ مقام کو چنما گراؤنڈ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ زمین بلدیہ ادارہ کی ہے اور کسی بھی تنظیم یا مذہب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔جوشی نے عدالتی فیصلہ کا خیرمقدم کیا اور لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عیدگاہ میدان میں سال میں دو مرتبہ نماز ادا کرنے اجازت دی تھی۔ انہوں نے کہا ’’مسلمانوں کے نماز ادا کرنے پر کسی نے اعتراض ظاہر نہیں کیا، لہذا سہ روزہ گنیش اتسو منانے کی بھی مخالفت نہیں ہونی چاہئے۔‘‘