ہائی اسکول طلباء کے بیاگس سے کنڈوم، سگریٹ اور دیگر اشیاء برآمد

2,511

بنگلورو: بنگلورو کے اسکولوں میں طلبا کے اسکول بیگ چیک کرنے پر ان میں سے کنڈوم، مانع حمل ادویات، سگریٹ اور وائٹنرس دستیاب ہوئے ہیں۔ جن کے اسکول بیاگس کی تلاشی لی گئی ان میں طلبا اور طالبات دونوں شامل ہیں۔آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت کے لڑکے اور لڑکیوں کے اسکول بیاگس سے ان اشیا کے برآمد ہونے کے بعد اسکولوں کے مینجمنٹ اور اولیائے طلبا کے علاوہ بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنطیموں کے اوسان خطا ہوگئے ہیں اور وہ فکرمند ہیں کہ کس طرح اس معاملہ کو سنبھالا جائے کیونکہ اگر کوئی کارروائی کی جاتی ہے تو ان بچوں کے حقوق متاثر ہوں گے، جو ان سب کاموں میں ملوث نہیں ہیں۔

کرناٹک میں ایسوسی ایٹیڈ مینجمنٹس آف اسکولس کے جنرل سکریٹری ڈی ششی کمار نے کہا کہ بنگلورو کے اسکولوں میں شراب نوشی اور ووڈکا شاٹس لگانے جیسے واقعات ان دنوں کافی عام ہوچکے ہیں لیکن پریشان کن بات یہ ہے کہ اب ایسی چیزیں بھی بچوں کے اسکول بیاگس سے برآمد ہونے لگی ہیں جن کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ششی کمار نے مزید بتایا کہ یہ تو صرف چند باتیں ہیں جو علم میں آگئی ہیں ورنہ اصل حقیقت مزید بھیانک ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اسکولوں نے ان بچوں کو 10 دن کی چھٹی پر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسکولوں کے انتظامیہ نے بچوں کی معلومات کو خفیہ رکھنے اور طلباء اور اولیائے طلبا کے لئے کونسلنگ کا انتظام کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔اسکول بیاگس کی چیکنگ بنگلورو کے مضافات میں واقع اسکولوں میں کی گئی تھی جس کے دوران آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت کے بچوں کے بیاگس سے کنڈوم اور مانع حمل ادویات دستیاب ہوئیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پوچھنے پر طلباء نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے ٹیچرس سے کہا کہ انہیں اپنے سخت شیڈول کے درمیان کچھ تفریح کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ماہرین، طلبا کے اس رویے کو کوویڈ وبائی مرض کے دوران دو سال کی تنہائی کی مدت سے منسوب کرتے ہیں کیونکہ بچوں نے اس دوران اپنا زیادہ تر وقت الیکٹرانک گیجٹس کے ساتھ گزارا تھا۔ والدین اور اسکول انتظامیہ بدنامی کے خوف سے ان حقائق کو چھپارہے ہیں۔ششی کمار نے مزید بتایا کہ چھوٹے بچوں کے ذریعہ منشیات فروخت کئے جاتے ہیں۔ اگر معاملہ اعلیٰ سطحی کمیٹی تک پہنچتا ہے تو وہ لوگ اس پر بات کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اسکولی طلبا کے بیاگس کی چیکنگ ایک معمول کی مشق تھی جو ایسوسی ایٹیڈ مینجمنٹس آف اسکولس کے مشورے پر اسکولوں کے انتظامیہ نے کی تھی۔ اس دوران طلباء کے مفاد میں ان حقائق پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کو چار دن پہلے ہی درخواست دے چکے ہیں تاہم ادھر سے کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کے ایک گروپ کے حقوق کے تحفظ کے لئے دوسرے بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔
یہ بچے دوسرے بچوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ پریشان کن چیزیں منشیات اور تمباکو کا غلط استعمال، دوستوں کا دباؤ، لڑائی جھگڑا، آپسی تقابل ان بچوں کے درمیان ہو رہا ہے اور بدقسمتی سے کوئی بھی بچوں سے سوال کرنے والا نہیں ہے۔ششی کمار نے کہا کہ والدین بے بس ہیں اور اساتذہ تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ ان دنوں بچوں سے معمولی سی پوچھ گچھ کرنا بھی جرم جیسا ہے۔کرناٹک کے محکمہ تعلیم کے ذرائع نے بتایا کہ انہیں ابھی تک اس حوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔