ٹیم انڈیا کے تیز گیند باز محمد سمیع اور ان کی اہلیہ حسین جہاں کا تنازع ایک مرتبہ پھر سرخیوں میں ہے ۔ امروہہ پولیس نے محمد سمیع کی اہلیہ حسین جہاں کو امن میں خلل ڈالنے کے خدشہ میں گرفتار کرلیا ہے ۔ دفعہ 151 میں چالان کرنے کے بعد حسین جہاں کو لے کر پولیس ایس ڈی ایم کورٹ پہنچی ہے ۔
خیال رہے کہ حسین جہاں گزشتہ رات ڈیڈولی تھانہ علاقہ کے سہس پور علی نگر گاوں میں محمد سمیع کے آبائی گھر پر پہنچی تھیں ، جہاں محمد سمیع کی والدہ اور افراد خانہ سے حسین جہاں کی کہا سنی ہوگئی ۔ اس کے بعد حسین جہاں نے ان کے گھر پر قبضہ کرلیا حسین جہاں نے پولیس کی روک کے باوجود میڈیا اہلکاروں کے سامنے اپنا درد بیان کیا اور بتایا کہ کس طریقہ سے پولیس ان پر زیادتی کررہی ہے ۔ حسین جہاں نے کیمرے کے سامنے کہا کہ دیکھئے رات کے بارہ بجے پولیس مجھے گھر سے اٹھا کر لائی ہے ۔ میں نے کون سا جرم کردیا ہے ؟ میں اپنے شوہر کے گھر آئی ہوں اور یہ میرا حق ہے ۔ زبردستی میرا فون ان لوگوں نے چھین لیا ۔ کون سا قانون ہے یہ ؟ کیسی دادا گیری ہے ؟ رات کے بارہ بجے کسی مجرم لڑکی کو بھی تھانہ نہیں لایا جاتا ہے ۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کہاں پہنچی تھیں تو حسین جہاں نے بتایا کہ میں اپنے سسرال سینی احمد کے گھر پہنچی تھی ، جہاں مجھے شادی کرکے لایا گیا تھا ۔ وہ میرے شوہر نے بنایا ہے ، میں اپنی کام والی اور بچی کے ساتھ وہاں آئی ہوں ، لیکن پولیس زبردستی میرا فون چھین کر مجھے یہاں پر لے کر آئی ہے ۔ میں گھر پر سورہی تھی ۔
اس دوران حسین جہاں نے میڈیا سے مدد کی بھی فریاد کی ۔ انہوں نے پوچھا کیوں یوگی حکومت نہیں دیکھ رہی ؟، کیوں مودی سرکار نہیں دیکھ رہی ؟ بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو اور میں بھی ایک بیٹی ہوں ، کس طرح میرے ساتھ برتاو کیا جارہا ہے ۔ رات کے بارہ بجے مجھے میرے بستر سے کھینچ کر دھکا مار کر لایا گیا ہے ۔ میرے ہاتھ سے فون چھین لیا گیا ۔