امروہہ:03جولائی(یواین آئی) رسوئی گیس کی قیمتوں میں لگاتار ہورہے اضافہ کی بدولت مرکزی حکومت کی سب سے دیرینہ اجولا اسکیم کو شدید دھچکا لگا ہے اور غریب سماج ایک بار پھر روایتی لکڑی اور گوبر کے ایندھن والے چولہے کی جانب مائل ہونے لگا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے یکم مئی 2016 کو مشرقی اترپردیش کے بلیا سے اجولا اسکیم کا آغاز کیا تھا۔ اسی اسکیم کا مقصد غریب کنبے کی خواتین کو سیکورٹی اور صحت مند ماحول میں کھانہ پکانے کی سہولیت کی دستیابی کو یقینی بنانا تھا۔ اسکیم کے مطابق لاکھوں کنبوں کو حکومت نے مفت گیس کنکشن کی سہولیت دستیاب کرائی تھی لیکن جنوری سے لے جولائی تک سات بار گھریلو گیس کی قیمتوں میں اضافے سے پریشان غریب سماج سلنڈروں کو فروخت کر کے پھر سے چولہا پھونکنے کو مجبور ہونے لگا ہے۔

گھروں میں کام کر کے روزی روٹی کمارنے والی مندریس کا کہنا ہے کہ جہاں پہلے سبسڈی ملتی تھی اب سبسڈی پوری طرح سے ختم ہوگئی۔اوپر سے مہنگائی کی مار جس سے گھروں میں دیسی چولہے کی رویت پھر سے واپس لوٹ آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکم جولائی سے گھریلو گیس سلنڈروں کی قیمتوں میں 25روپئے کا اضافہ ہونے سے گھریلی گیس سلنڈر اب 832.50روپئے کا ہوگیا ہے جبکہ مئی 2016 میں رسوئی گیس سلنڈروں کی قیمتیں محض 509 روپئے تھیں۔ یعنی تب سے لے کر اب تک کل 323.50روپئے فی سلنڈر قیمت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ایل پی جی گیس پر پہلے سبسڈی بھی ملتی تھی جو کہ اب حکومت نہ پوری طرح سے ختم کردی ہے۔ کمرشیل گیس سلنڈروں میں بھی 43.50روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

جنوری سے لے کر یکم جولائی تک سات بار گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔ جس میں کل 140.50روپئے گیس سلنڈر مہنگا ہوچکا ہے۔ اپریل 2020سے گھریلو گیس سلنڈر پر ملنے والی سبسڈی کوپوری طرح سے ختم کردیا گیا ہے۔ حکومت نے شروع میں اپنی مرضی سے سبسڈی چھوڑنے کے لئے اہل لوگوں سے اپیل کرتےہوئے یہ لاجک پیش کیا تھا کہ حکومت بڑے لوگوں کی سبسڈی چھوڑنے سے غریب اور ضرورت مند لوگوں کو بھی رسوئی گیس دستیاب کرارہی ہے۔ اب مہنگائی کی سب سے زیادہ مار غریبوں پر پڑنے سے جب سلنڈر ریفل نہیں ہوا تو اسے فروخت کر کےپھر سے چولہے پر کھانا پکانے کے لئے مجبور ہونا پڑرہا ہے۔