نئی دہلی،9اپریل (یو این آئی) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ”تحفظ عبادت گاہ‘ قانون کے تحت جو عبادت گاہ جہاں تھی اس کی وہی پوزیشن مانی جائے گی اور مسلمانوں کو گیان واپی مسجد کے سلسلے میں تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات آج یہاں جاری ایک ریلیز میں کہی گئی ہے۔ریلیز کے مطابق گیان واپی مسجد بنارس کے قضیہ کے سلسلہ میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانیکارگزار جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا ہے کہ1991ء میں قانون’تحفظ عبادت گاہ‘ کا جو قانون بنا، اس کے تحت 15/ اگست 1947ء کو جہاں جو عبادت گاہ تھی، اس کی وہی پوزیشن مانی جائے گی، اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔


انہوں نے کہاکہ اس قانون کے پاس ہونے کے بعد فرقہ پرستوں کی طرف سے گیان واپی مسجد کے سلسلہ میں عدالت میں درخواست دائر کی گئی کہ اس جگہ پہلے ایک مندر تھا، اس کی تحقیق کی جائے، ظاہر ہے کہ اس قانون کے آنے کے بعد اب اس کی گنجائش باقی نہیں رہی؛ چنانچہ مسجد کی کمیٹی اور سنی وقف بورڈ اترپردیش نے اس درخواست کی مخالفت کی اور ایک مرحلہ پر یہ درخواست خارج کر دی گئی؛ لیکن دوبارہ یہ معاملہ سول کورٹ تک پہنچا، اور مسجد کمیٹی کی پیروی کی بنیاد پر ہائی کورٹ نے اس پر اسٹے لگا دیا۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ اس کے باوجود سول کورٹ کے ایک جج نے مسجد کی زمین کا سروے کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔


انہوں نے کہا کہ یہ قانون سے کھلواڑ ہے اورقطعاََ ناقابل قبول ہے، مسجد کمیٹی اور سنی وقف بورڈ اس سلسلہ میں الٰہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رہا ہے، مسلمانوں سے گزارش ہے کہ وہ اس سلسلہ میں مایوسی کا شکار نہ ہوں، مسجد کمیٹی اور سنی وقف بورڈ پوری قوت کے ساتھ اس مقدمہ کی پیروی کررہا ہے، اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور اس کی لیگل کمیٹی اس پر اپنی نظر رکھے ہوئی ہے اور تعاون بھی کر رہی ہے، ان شاء اللہ فرقہ پرستوں کی سازشیں ناکام ونامراد ہوں گی۔