گیان۔واپی مسجد کو کاشی وشوناتھ مندر میں تبدیل کرنے کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں، آج وارانسی کورٹ نے مندر کی تحقیق کیلیے گیان واپی مسجد میں کھدائی کا حکم جاری کردیا،

ہندوﺅں کا دعویٰ ہیکہ ۔ مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر ؒ نے 1664 میں ۲ ہزار سال قدیم مندر کے ایک حصے کو منہدم کرکے وہاں پر گیان واپی مسجد بنائی تھی اب اس معاملے میں عدالت نے ASI سروے کا حکم جاری کردیاہے جس کا خرچ سرکار برداشت کرےگی ۔

یہ بالکل واضح بیانیہ ہے کہ، مندر۔مسجد اور ہندو۔مسلم جیسے نفرتی ایشوز ریاست ازخود انگیز کررہی ہے جسے روکنا اور اس کے اثرات سے عام انسانوں کو بچانا ریاستی سطح پر ہی ممکن ہے، برہمن ہندوتوا کے علمبردار انسانیت کے غدار اور امن کے دشمن ہیں، یہ لوگ کبھی امن پر قائم نہیں رہتے، ان کا نظریہ ایک ہی ہے نسل پرستانہ بالادستی اور وہ اس کی خاطر بدامنی کا طوفان اٹھاتے رہیں گے، اور اب یہ بدامنی اور فسادات ریاستی طاقت پر قبضہ کرکے برپا کیے جارہےہیں جسے کسی بھی حال میں کمزوری کی سطح پر رہ کر روکا نہیں جاسکتا اور جو لوگ یہ فلسفہ

بگھارتے ہیں کہ وہ آنے والے سنگین خطرات کا محکومیت کے عالم میں مقابلہ کرلیں گے سیاسی و ریاستی اختیارات سے علیحدہ رہ کر وہ مسلم۔دشمن سَنگھی اسلاموفوبیا کے عفریت سے لوہا لے لیں گے، وہ بالکل غیرفطری سوچ پر ہیں، اور یہ حقیقت آنے والے ہر دوسرے دن میں آشکار ہورہی ہے، ایکطرف گیان واپی مسجد میں کھدائی کا فیصلہ کردیاگیاہے دوسری طرف متھرا عیدگاہ کے مسئلے کو بھی جس طرح گرمانے کی تیاریاں ہیں جس کا قضیہ کورٹ اور

فریقین کے معاہدے سے بند کیاگیاتھا اس نے ثابت کردیا ہیکہ ہندو احیاء پرستی کے علمبردار معاہدوں میں صلیبیوں اور یہودیوں کے نقش قدم۔پر گامزن ہیں، موجودہ بھارت کے حکمران جس نظریاتی استعمار کا حصہ ہیں وہ آج نہیں لیکن کل ہر ہر صورت میں ہندوستان کو اسرائیل کی غیرعلانیہ ہی سہی تجرباتی کالونی بنائینگے اور عالمی نسل پرست

طاقتوں کو ہندوستان تھالی میں سجا کر دینگے،
بہرحال وہ دانشورانِ امن پرست جو کہا کرتےتھے کہ، بابری مسجد چھوڑ دینے سے دیگر تمام مساجد محفوظ ہوجائیں گی وہ بالآخر غلط ثابت ہوچکےہیں_

*سمیع اللّٰہ خان*

۸ اپریل ۲۰۲۱

ksamikhann@gmail.com