گیان واپی مسجد معاملہ پر وارانسی کورٹ کے فیصلے سے مایوس مسلم فریق نے ہائی کورٹ جانے کا کیا اعلان

74

وارانسی:گیان واپی-شرنگار گوری معاملے پر سیوان ضلع کورٹ سے مایوسی ہاتھ لگنے کے بعد مسلم فریق نے ہائی کورٹ جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ضلع جج وشویش نے جب ہندو فریق کی عرضی کو قابل سماعت قرار دیا، تو مسلم فریق کو بہت حیرانی ہوئی۔

اس معاملے میں مولانا خالد رشید نے کہا کہ ’’بابری مسجد کے فیصلہ کے دوران وَرشپ ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے جو باتیں کہی تھیں اس سے یہ لگنے لگا تھا کہ اب ملک میں مندر-مسجد کا مسئلہ ختم ہو گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی اس طریقے کے ایشوز سامنے آ رہے ہیں۔‘

موصولہ اطلاعات کے مطابق عدالت کا کہنا ہے کہ وارانسی-گیان واپی احاطہ کو لے کر داخل مقدمہ نمبر 2021/693 (2022/18) راکھی سنگھ بنام اتر پردیش اسٹیٹ، مذکورہ مقدمہ عدالت میں سماعت کے قابل ہے۔ اس کے ساتھ ہی جج نے انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کے ذریعہ داخل کردہ 11/7 کی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔

ضلع جج اجئے کرشن وشویش نے جب فیصلہ سنایا تب ہندو فریق کے وکیل ہری شنکر جین اور وشنو جین اس دوران موجود تھے۔ اس کے علاوہ 5 عرضی گزار خواتین میں سے 3 (لکشمی دیوی، ریکھا آریہ اور منجو ویاس) بھی پہنچی ہوئی تھیں۔ راکھی سنگھ اور سیتا ساہو عدالت نہیں پہنچیں۔ کورٹ روم میں فریقین اور ان کے وکلاء سمیت تقریباً 40 لوگوں کو ہی داخلہ ملا تھا۔ کورٹ روم سے تقریباً 50 قدم دور پر ہی باقی لوگوں کو روک دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ 18 اگست 2021 کو ’وشو ویدک سناتن سنگھ‘ کے سربراہ جتیندر سنگھ وشئے کی قیادت میں راکھی سنگھ سمیت پانچ خواتین نے سول جج سینئر ڈویژنل روی کمار دیواکر کی عدالت میں ایک مقدمہ داخل کیا تھا۔ مقدمہ میں پانچ خواتین نے مطالبہ کیا تھا کہ گیان واپی احاطہ واقع ماں شرنگار گوری کے مندر میں مستقل دَرشن اور پوجا کی اجازت ملے۔ اس عرضی پر گزشتہ 23 اگست کی سماعت میں دونوں فریقین کی بحث پوری ہو گئی تھی۔ دونوں فریقین کی بحث سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔