گیان واپی مسجد سے غفلت نہ کیجئے ✍:پرویز نادر

ملک کے موجودہ حالات میں قریب ایک ماہ سے اہانت رسولﷺ کے خلاف معاملات اور اب اگنی پتھ اسکیم کی مخالفت میں حالات نے سنگینی اختیار کی ہوئی ہے،ایسے میں گیان واپی مسجد سے غفلت امت کے لیے ایک نیا خسارہ ثابت ہو سکتی ہے۔گزشتہ دن کے جمعہ میں گیان واپی مسجد میں صرف ۳۵۰ افراد نے نماز جمعہ ادا کی ہے جبکہ اس سے پہلے کے جمعہ میں ایک ہزار کی تعداد شریک تھی،یہ بات قابل افسوس ہیکہ معمول کے مطابق جس مسجد میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ نماز پڑھتے ہوں وہاں صرف ایک تہائی تعداد موجود ہو جبکہ اس مسجد کی طرف بت پرستوں کی میلی نظریں گڑی ہوئی ہیں،اور کسی بھی وقت ایک نیا معمہ یا مصنوعی شعبدہ بازی کی جا سکتی ہے، میں نے اس سے پہلے کے تبصروں میں اس بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد کو نماز کے لیے گیان واپی مسجد پہنچنا چاہیے اور کچھ لوگوں کو تو مسجد کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت معمور ہونا چاہیے، کل ہی کے جمعہ میں فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اور پابندی کے باوجود پچاس ہزار فلسطینی مسلمانوں نے مسجد اقصٰی میں نماز ادا کی، لیکن ہمیں شاید مسئلے کی حساسیت کا ادراک ہی نہیں یا پتہ نہیں کن خدشات اور اندیشوں نے حکمت و مصلحت کا لبادہ اوڑھ کر ہمارا ایمان کمزور کیا ہوا ہے کہ ہم بابری مسجد کے تجربے کے بعد پھر غفلت کی اسی روش کو اختیار کیے ہوئے ہیں