وارانسی: 15 اپریل۔ وارانسی کی عدالت نے گیانواپی مسجد-کاشی وشوناتھ مندر معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے کمشنر تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔ مقرر کردہ کمشنر 19 اپریل کو مندر-مسجد کمپلیکس کا دورہ کریں گے اور ویڈیو گرافی بھی کریں گے۔ اس دوران عدالت نے مندر مسجد کے احاطے میں سیکورٹی فورسز کو تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔درخواست گزار نے عدالت سے احاطے کے معائنے، ریڈار اسٹڈی اور ویڈیو گرافی کا حکم دینے کی مانگ کی تھی۔

بتادیں کہ وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ نے یہ حکم ستمبر 2020 میں دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سنایا ہے۔گیانواپی مسجد وارانسی میں کاشی وشوناتھ مندر کے قریب واقع ہے۔ یہاں پر مسلمان دن میں پانچ وقت اجتماعی طور پر نماز ادا کرتے ہیں۔ مسجد کو انجمن انتظامیہ کمیٹی چلاتی ہے۔ سال 1991 میں وارانسی کے سول جج کی عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی۔اس درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جس جگہ گیانواپی مسجد واقع ہے، وہاں پہلے بھگوان وشیشور کا مندر ہوا کرتا تھا اور شرنگار گوری کی پوجا کی جاتی تھی۔ مغل حکمرانوں نے اس مندر کو توڑ کر قبضہ کر لیا تھا اور یہاں مسجد تعمیر کرا دی۔

ایسے میں گیانواپی کمپلیکس کو مسلمانوں سے خالی کر کے ہندوؤں کے حوالے کیا جانا چاہیے اور انہیں شرینگار گوری کی پوجا کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ گیانواپی مسجد کا کاشی وشوناتھ مندر ٹرسٹ کے ساتھ کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ مندر ٹرسٹ اس پورے معاملے میں کہیں بھی فریق نہیں ہے اور نہ ہی اس نے کہیں بھی کوئی عرضی دائر کی ہے۔ خود ساختہ دیوتا وشیشور گروپ گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے تیسرے فریق کے طور پر عدالتی جنگ لڑ رہا ہے۔