مور کی دم اتنی رنگین اور جاذبِ نظر کیوں ہوتی ہے؟ اس سوال کا سب سے مشہور ارتقائی جواب یہ ہے کہ وہ اپنے جینیاتی معیار کا ایک ’ایماندارانہ اشارہ‘ دیتے ہیں۔ اگر اس کے پَر اتنے بڑے اور دلکش نہ ہوں تو وہ مقابلے میں کمزور رہے گا۔دوسری جانب روایتی حکمت ہمیں یہ باور کروانے کی کوشش کرتی ہے کہ انسانوں میں چہرے کے بال بھی یہی کام کرتے ہیں۔انسانوں میں چہرے کے بال روایتی طور پر دو جنسوں کے درمیان ایک منظم فرق کو واضح کرتے ہیں۔ اب تک سمجھا جاتا تھا کہ چہرے کے زیادہ بال رکھنے والوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی بلند مقدار ’ایمانداری کا اشارہ‘ سمجھا گیا ہے، جس سے وہ زیادہ مردانہ یا طاقتور ظاہر ہوتے ہیں۔

تاہم جریدے ’آرکائیوز آف سیکشوئل بیہیویئر‘ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں چہرے کے بالوں کی تعداد اور مردوں میں لمبی داڑھی اور ان کے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کے درمیان کوئی تعلق نہیں پایا گیا۔اس تحقیق کے لیے محققین نے 97 نوجوانوں اور جسمانی طور پر فعال مردوں سے ڈیٹا اکٹھا کیا۔ بہت سے عوامل مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو متاثر کر سکتے ہیں، لہٰذا محققین نے مطالعے میں متعدد معیارات کا استعمال کیا، جس میں صبح 7 سے 11 بجے کے درمیان شرکا سے ٹیسٹوسٹیرون کی مقدار کی پیمائش کرنا شامل ہے، کیونکہ مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح دن بھر قدرتی طور پر کم ہوتی رہتی ہے۔

شرکا سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ مطالعے سے 24 گھنٹے قبل سگریٹ نوشی اور شراب نہ پیئیں یا ورزش نہ کریں۔ ان سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ ٹیسٹ سے دو گھنٹے پہلے کھانے یا دانت صاف کرنے سے بھی گریز کریں (ٹیسٹوسٹیرون کی مقدار کو لعابِ دہن کے نمونوں کے ذریعے ناپا گیا)۔

سب سے پہلے شرکا سے ان کی عمر، وزن، قد اور داڑھی سے متعلق سوالات کے جوابات دینے کے لیے کہا گیا، جسے محققین نے ڈیجیٹل کیلیپرز سے 0.01 ملی میٹر کے ریزولوشن تک بھی ناپا۔ ٹیم نے داڑھی رکھنے کی ان کی معروضی پیمائش اور شرکا کے خود تشخیص کے درمیان ایک مضبوط تعلق کو نوٹ کیا۔اس سب کے بعد ان کے لعاب کا پہلا نمونہ لیا گیا۔ ان کے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو بڑھانے کے لیے، شرکا نے پھر جسمانی سرگرمی (سائیکلنگ) کی اور 12 منٹ کے بعد، لعاب کا دوسرا نمونہ لیا گیا۔ 12 منٹ کے وقفے کے دوران، مردوں نے اپنی داڑھی کے بارے میں سوالات کے جوابات دیے۔

شرکا میں اس مردانہ غلبے کی پیمائش پانچ سوالات سے بھی کی گئی جہاں انہیں بیانات کے ساتھ اپنے متفق ہونے کا اندازہ لگانا تھا جیسے کہ ’میں اکثر دوسروں کو اپنی تجویز کے مطابق برتاؤ کرنے پر آمادہ کرتا ہوں،‘ اور ’میں ہی ہوں جو دوسروں کو متاثر کرتا ہوں، نہ کہ دوسرے مجھے کرتے ہیں۔‘یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہے کہ اگرچہ اس تحقیق میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ داڑھی خود سمجھے جانے والے نفسیاتی غلبے یا ٹیسٹوسٹیرون کی جسمانی مقدار کے قابل اعتماد اشارے ہیں، لیکن اس میں کوئی منفی تعلق بھی نہیں دیکھا گیا۔

محققین تجویز کرتے ہیں کہ مرد کے چہرے کے بال صرف ایک جمالیاتی حس کو پیش کرنے کی حکمت عملی کے طور پر کام کر سکتے ہیں، جو مکمل طور پر ہمارے ثقافتی اصولوں پر مبنی ہو سکتی ہے اور اس کا ارتقائی اشارے سے بہت زیادہ تعلق نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، ایک بڑی، کھرچنی داڑھی والا کسان میٹروپولیٹن فرد کے مقابلے میں اپنے ساتھیوں سے بالکل مختلف بات کر سکتا ہے، جس نے ایک سٹائل پر مبنی داڑھی کو تیار کرنے میں وقت صرف کیا ہے۔

2020 میں ایک اور تحقیق میں داڑھی اور نفسیاتی غلبے کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا اور کچھ متضاد نتائج برآمد ہوئے، جہاں چہرے کے بالوں اور انفرادی غلبے کے درمیان ایک اہم تعلق دیکھا گیا۔ تاہم، اس مثال میں، محققین نے ہارمون کے نمونے نہیں لیے تھے۔

اگرچہ موجودہ مطالعے کے نتائج مردوں میں داڑھی کے ممکنہ اثرات کے بارے میں گفتگو میں مزید اعداد و شمار کا اضافہ کریں گے، لیکن یہ بحث جاری رہے گی کہ آیا چہرے کے بال مردانہ غلبے اور مردانگی کے جذبات کے لیے ایک پراکسی ہیں، یا پھر انسانی ارتقا کا یہ مرحلہ صرف فیشن کا معاملہ بن گیا ہے۔

محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ ’ہم دیگر تحقیق کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے نتائج کو بڑی تعداد میں نمونوں کے ساتھ پرکھیں تاکہ مستقبل کے تجزیے داڑھی، ٹیسٹوسٹیرون کی مقدار اور غلبے کے درمیان تعلق کو واضح کر سکیں۔‘یہ تحقیق جریدے آرکائیوز آف سیکسوئل بیہیویئر میں شائع ہوئی ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔