غازی آباد:( ایجنسیز)اتر پردیش میں بی جے پی ایک بار پھر زبردست اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کے لیے تیار ہے۔ اس درمیان غازی آباد کے لونی سے دوبارہ منتخب ہوئے بی جے پی رکن اسمبلی نندکشور گوجر نے انتہائی متنازعہ بیان دے کر اپنے تکبر کا مظاہرہ کر دیا ہے۔ انھوں نے لونی کے افسروں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں ایک بھی گوشت کی دکان دکھائی نہیں دینی چاہیے۔ بی جے پی رکن اسمبلی کے اس بیان نے علاقے میں ابھی سے اقلیتی طبقہ کو خوفزدہ کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نندکشور گوجر نے افسروں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’لونی کے افسران سمجھ لیں، ایک بھی گوشت کی دکان علاقے میں دکھائی نہیں دینی چاہیے۔ لونی میں رام راج چاہیے، اس لیے دودھ-گھی کھاؤ اور دَنڈ بیٹھک کرو۔‘‘

واضح رہے کہ نندکشور گوجر پہلے بھی اپنے متنازعہ بیان کی وجہ سے سرخیوں میں آ چکے ہیں۔ رواں سال کے جنوری ماہ میں انھوں نے لونی کے بہیتا حاجی پور گاؤں میں انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ جو لوگ علی کا نام لیتے ہیں انھیں پاکستان چلے جانا چاہیے۔ بیان میں بی جے پی رکن اسمبلی نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ ’’علی کا نام لینے والوں کو لونی چھوڑنا ہوگا۔ اس انتخاب کے بعد لونی میں مکمل رام راج ہوگا۔‘‘

بی جے پی رکن اسمبلی نندکشور گوجر کے پرانے بیان اور تازہ بیان کو دیکھیں تو بہ آسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ انھوں نے انتخابی تشہیر کے دوران رام راج قائم کرنے کی بات کہی تھی، اور اب رام راج قائم کرنے کے لیے پہلے قدم کے طور پر علاقے کو گوشت کی دکان سے پاک کرنے کا واضح اشارہ مقامی افسران کو دے دیا ہے۔