ہ گورنر کا بیان نہ صرف مہا راشٹر کی بلکہ مراٹھی عوام اور مراٹھی شناخت کی بھی توہین ہے

21

تھانے (آفتاب شیخ) مراٹھی عوام نے جب ممبئی ہاتھ میں لی اس وقت نا گھبراتے ہوے ۱۰۵ بہادروں نے بندوق کی گولیوں کا سامنا کیا اور جام شہادت نوش کیا لیکن ممبئی حاصل کی۔ آج ہم گورنر گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو واپس بلانے کا مطالبہ نہیں کریں گے بلکہ ان کو یہاں سے بھگاکر ہی دم لیں گے اس طرح کے خیالات کا اظہار سابق کابینی وزیر ڈاکٹر جتیندر اوہاڈ نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کیا۔

گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کا بیان نہ صرف مہاراشٹر کی بلکہ مراٹھی لوگوں اور مراٹھی شناخت کی بھی توہین ہے۔ این سی پی لیڈر جتیندر اوہاڈ نے آج تھانے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مراٹھی لوگوں اور مہاراشٹر کی توہین کو کبھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ چونکہ گورنر کو مہاراشٹر اور مراٹھی لوگوں کی تاریخ کا کوئی علم نہیں ہے، اس لیے وہ مراٹھی لوگوں پر اظہار خیال کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ اس لیے انہوں نے یہ رائے بھی ظاہر کی کہ اب

وقت آگیا ہے کہ گورنر کو واپس بھیج دیا جائے بلکہ انہیں براہ راست ہٹا دیا جائے۔ مہاراشٹر کے گورنر نے حال ہی میں ایک پروگرام میں بیان دیا ہے کہ اگر گجراتی اور راجستھانی لوگوں کو ممبئی سے نکال دیا جائے تو یہاں کوئی پیسہ نہیں بچے گا۔ سیاسی قائدین اس پر ردعمل ظاہر کررہے ہیں اور این سی پی لیڈر جتیندر اوہاڈ نے گورنر پر سخت تنقید کی ہے۔ ممبئی

اتنے آسانی سے مہاراشٹر کا حصہ نہیں بنی ہے بلکہ ؛سینکڑوں افراد نے اس لیے اپنی جانیں قربان کی۔ ہم گجراتی اور راجستھانی برادری کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن، جیسے ہی مہاراشٹر کے مراٹھی مزدوروں نے یہاں کاروبار کے لیے ایک اچھا ماحول بنایا، مختلف برادریوں کے شہری یہاں آئے۔ مراٹھی نے ممبئی کو بڑا بنایا۔ ممبئی نے ملک کو کاروباری شکل دی ہے۔ ملک کے تمام پیشہ ور صرف مہاراشٹر میں پلے بڑھے ہیں۔

چونکہ گورنر کو یہ ساری تاریخ نہیں معلوم اس لیے وہ مراٹھی کے بارے میں بات کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ اس لیے اوہاڈ نے گورنر سے اپنے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ اوہاڈ نے اپنی رائے ظاہر کی کہ گورنر کو یہاں سے ہٹانے کا وقت آگیا ہے اور اگر وقت آیا تو وہ راج بھون میں داخل ہونے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ گورنر کو کولہا پوری چپل دکھائیں اور اس وقت اوہاڈ نے ان کا ساتھ دیتے ہوئے نامہ نگاروں سے کہا کہ این سی پی گورنر

کے خلاف جوتا مارو احتجاج کرے گی اور وہی جوتے گورنر کو بھیجے جائے گے۔ وہی جتیندر اوہاڈ نے کہا کہ پیسوں کے بارے میں مراٹھی عوام کو کیا بولتے ہو نانا شنکر سیٹھ یہ مراٹھی اتنا رئیس تھا کہ انگریز بھی کاروبار کے لیے ان سے قرض لیتے تھے۔ جن کی حکومت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا ایسے حکمران کو قرض دینے والا بھی ممبئی کا مراٹھی شخص تھا یہ بات کوشیاری ذہن نشین کرلیں۔