گورنر بھگت سنگھ کوشیاری عہدہ سے دستبردار ہونے کے خواہشمند!

172

ممبئی:28/نومبر(ایجنسیز) مہاراشٹر میں اپوزیشن لیڈران کے ساتھ ساتھ بی جے پی لیڈران کی بھی تنقید کا سامنا کر رہے مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری اپنے عہدہ سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں۔ یہ خبر ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ نے ذرائع کے حوالے سے دی ہے۔ اے بی پی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے اپنے قریبیوں سے اپنے عہدہ اور ذمہ داری سے سبکدوش ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

اب وہ مہاراشٹر چھوڑ کر آبائی ریاست اتراکھنڈ لوٹنا چاہتے ہیں۔دراصل بھگت سنگھ کوشیاری اپنے کچھ متنازعہ تبصروں کی وجہ سے لگاتار تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ انھوں نے ایک تقریب کے دوران مرکزی وزیر نتن گڈکری اور این ایس پی لیڈر شرد پوار کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند پیش کرتے وقت شیواجی کو لے کر ایسا تبصرہ کر دیا جس نے ایک ہنگامہ برپا کر دیا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’ہم جب مڈل اسکول اور ہائی اسکول میں پڑھتے تھے تو اساتذہ ہم کو سوال دیتے تھے ’ہو اِز آور فیوریٹ ہیرو؟‘ (ہمارا پسندیدہ ہیرو کون ہے؟)

اس وقت جس کو سبھاش چندر بوس اچھے لگے ان پر لکھتے تھے، جن کو نہرو جی اچھے لگے تو ان پر، اور جن کو گاندھی جی اچھے لگتے تھے تو ان پر لکھتے تھے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگر کوئی آپ سے کہے کہ ’ہو اِز یور آئیکن، ہو اِز یور فیوریٹ ہیرو؟‘ تو باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہیں مہاراشٹر میں آپ کو مل جائیں گے۔ شیواجی تو پرانے دور کی بات ہیں، میں نئے دور کی بات بول رہا ہوں۔ ڈاکٹر امبیڈکر سے لے کر ڈاکٹر گڈکری تک، نتن گڈکری صاحب تو یہیں مل جائیں گے۔‘‘گورنر کوشیاری کے اس بیان کے بعد مہاوکاس اگھاڑی لیڈران کے ساتھ ساتھ بی جے پی رکن پارلیمنٹ ادین راجے بھوسلے اور ریاست میں برسراقتدار بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ سمبھاجی راجے چھترپتی نے شدید تنقید کی۔

کئی لیڈران نے انھیں گورنر عہدہ سے ہٹانے کا مطالبہ تک کیا۔ ان کے بڑھتے دباؤ کی وجہ سے گورنر کوشیاری اب بیک فٹ پر دکھائی دے رہے ہیں۔ این سی پی سربراہ شرد پوار نے بھی گورنر کوشیاری کے تبصرہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے اپنی ساری حدیں پار کر دی ہیں۔ شرد پوار نے تو صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی گزارش بھی کی تھی۔