Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

گودی میڈیاکازہریلااثر:اب مسلمانوں سے کرنسی نوٹ لینے سے بھی انکار

IMG_20190630_195052.JPG

نئی دہلی،9؍اپریل : قومی دارالحکومت میں تبلیغی جماعت کے اجتماع کے پس منظر میں بعض سوشیل میڈیا ویڈیوز نے سماج میں خام خیالی اور ایک پیام عام کردیا ہے کہ کورونا وائرس کی منتقلی روکنے مسلمانوں سے کرنسی نوٹ قبول نہ کرو۔ایسی افواہوں نے سماج میں نئے مسائل پیدا کردیئے ہیں۔ پھل اور میوے جیسی اشیاء بیچنے والے مسلمان اپنی شناخت چھپانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ سبزی فروشوں اور میوہ فروشوں کو ایسا اس لئے کرنا پڑرہا ہے کہ لوگوں نے مسلمان ہونے کی وجہ سے ان سے سامان خریدنا بند کردیا ہے جس سے مسملم برادری کے ان بے قصور لوگوں کی روزی روٹی خطرہ میں پڑ گئی ہے۔

اس پیام نے نہ صرف سماج کے نوکری پیشہ تعلیم یافتہ طبقہ کو بلکہ دہلی۔این سی آر کے اطراف چھوٹے ٹاؤنس اور ہریانہ و اتر پردیش جیسی قریبی ریاستوں کے بعض حصوں میں متوسط طبقہ کو بھی متاثر کیا ہے۔قومی درالحکومت کے مضافات میں ان کالونیوں میں گریٹر نوئیڈا دکا شاہ بیری علاقہ ایک ہے۔ یہ علاقہ اترپردیش کے فیکٹری ہب کہلانے والے غازی آباد کے قریب واقع ہے۔ یہ جولائی 2018 میں اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب یہاں پرجڑواں عمارت منہدم ہوجانے سے 9 افراد کی جان گئی تھی۔

آئی اے این ایس سے بات چیت میں کئی سبزی اور میوہ فروشوں نے جو 21 روزہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے نوکری جانے کے بعد یہ کام کررہے ہیں، کہا کہ پتہ نہیں لوگ ہم سے ایسا برتاؤ کیوں کررہے ہیں جبکہ تبلیغی جماعت یا ایسی کسی دیگر تنظیم سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ایک 71 سالہ سبزی فروش نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر آئی اے این ایس سے کہا کہ میں خود کو اور اپنے کبنہ کو کیوں نقصان پہنچاؤں گا؟۔ میں بھی وی احتیاط برت رہاں جو آپ برت رہے ہیں۔ میری پیدائش اور پرورش یہیں ہوئی۔ دوسرے فرقوں کے لوگ جو یہاں رہتے ہیں میرے کنبہ کی طرح ہیں۔ لوگو ں کو سوچنا چاہئے کہ کون ایسی افواہیں پھیلا رہا ہے کہ مسلمان لوگ کورونا پھیلا سکتے ہیں۔

بزرگ سبزی فروش نے کہا کہ کئی لوگ مجھ سے سبزی خریدنے سے انکار کررہے ہیں۔ چند لوگ سبزی خریدتے ہیں لیکن ٹھیک ٹھیک رقم ادا کرتے ہیں۔ وہ مجھ سے چلر لینا نہیں چاہتے ۔ یہ مسئلہ اچانک پیدا ہوگیا کیونکہ تبلیغی، ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ کورونا پھیلا رہے ہیں۔ایک 29 سالہ الکٹریشن نے بھی یہی بات کہی۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک خانگی اسکول میں کام کرتا تھا لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس کی نوکری چلی گئی۔ اس کے بعد سے وہ میوہ بیچنے لگا ہے۔ چار پانچ دن پہلے تک سب کچھ ٹھیک تھا کہ اچانک گاہک فروٹ خریدنے سے پہلے میرا نام پوچھنے لگے۔ مجھے اپنی شناخت چھپانی پڑی کیونکہ حقیقی نام سنتے ہی کئی گاہک میوہ نہیں خریدتے ۔ اس نے کہا کہ اس کی 6 رکنی فیملی ہے اور گھر چلانے والا وہی واحد فرد ہے۔ یہ ٹھیلہ ہی اس کی گزر بسر کا واحد ذریعہ ہے۔اس نے کہا کہ اپنے اہل خانہ کی روزمرہ ضروریات کی تکمیل کے لئے اس کا جھوٹ بولنا ضروری ہوگیا ہے۔

نوئیڈا سیکٹر 70 میں گوشت کی دکان کے مالک نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر آئی اے این ایس سے کہا کہ لا ڈاؤن کی وجہ سے میری دکان بند ہے اور میں نوئیڈا کے دیگر سیکٹرس میں سبزی بیچ رہا ہوں کیونکہ میری کالونی میں لوگ مجھے جانتے ہیں اور مسلمان ہونے کی وجہ سے وہ مجھ سے ترکاری نہیں خریدتے ۔ میں نے ٹوپی لگا نا بند کردیا ہے۔ اب میں پگڑی باندھ رہا ہوں۔

دہلی، اتر پردیش ، ہریانہ اور مہاراشٹر میں تک ایسی افواہیں پھیل گئی ہیں۔ مہاراشٹرا کے پونے میں پولٹری صنعت کے لوگوں کا کہنا ہے کہ تبلیغی جماعت اور کورونا کیسس کی جب سے خبریں آنے لگیں کسان، مسلمان ڈرائیورس کو گاڑی لانے نہیں دے رہے ہیں۔ ناسک، آحمد آباد اور پونے کے 2 تعلقوں میں ایسے واقعات پیش آئے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے خلاف جو گمراہ کن مہم چلی ہے کئی لوگ اسے سچ مانتے ہیں حالانکہ حکومت عوام سے کہہ چکی ہے کہ وہ ایسی افواہوں پر یقین نہ کریں۔