افریقی ملک موزمبیق میں پولیس کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد نے ایک گنجے شخص کا سر ایک خریدار کو بیچنے کے لیے تن سے جدا کر دیا ہے۔پولیس کے مطابق وہ اس شخص کے سر کو مالی سے تعلق رکھنے والے ایک خریدار کو بیچنا چاہتے تھے لیکن جب وہ خریدار غائب ہوگیا تو ملزمان اس سر کو سرعام چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

موزمبیق میں بعض توہم پرست افراد کا یہ اعتقاد ہے کہ ’گنجے مردوں کے سر میں سونا ہوتا ہے‘۔افریقی ممالک موزمبیق، ملاوی اور تنزانیہ میں انسانی اعضا کی تجارت قدرے عام ہے جہاں ایک مخصوص طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ ایسا کرنے سے تقدیر اور پیار کے معاملے میں خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے۔

خاص کر جلد کی بیماری ’ایل بینیزم‘ کے شکار افراد کے اعضا زیادہ قیمت پر فروخت ہوتے ہیں۔موزمبیق سے اس قسم کے واقعات سے متعلق پہلی بار خبریں 2017 میں سامنے آئی تھیں۔سنہ 2017 میں موزمبیق میں پولیس نے تین گنجے مردوں کی ہلاکت کے بعد مردوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ توہم پرستوں کے حملوں سے ہوشیار رہیں۔اس وقت بھی یہ کہا گیا تھا کہ موزمبیق میں بعض توہم پرستوں کا اعتقاد ہے کہ گنجے مردوں کے سر میں سونا ہوتا ہے اور گنجے مردوں کے اعضا سے بنی ہوئی دوا کھانے سے وہ بھی امیر ہو سکتے ہیں۔

اس وقت زمبیزیا صوبے کے پولیس سربراہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ بعض لوگوں کا اعتقاد ہے کہ ’گنجے مردوں کے سر میں سونا ہوتا ہے اور وہ امیر ہوتے ہیں‘۔پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ ان اعضا کو عطائی ایسے کاہگوں کے لیے تیار کی جانے والی دوا میں استعمال کرتے ہیں جو دولت کے متلاشی ہوتے ہیں۔