اُن کی عمر محض اٹھارہ برس کے قریب تھی اور وہ پیشہ ور رقاصہ اور گائیک تھیں۔ مگر ایک ہی ملاقات میں اُن کے حُسن اور آواز کے سحر نے حاکمِ وقت کو اپنا اسیر بنا لیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ اس لڑکی سے شادی کرنے کے لیے کوڑے کھانے پر بھی تیار ہو گئے۔

یہ لڑکی امرتسر کی گل بہار تھیں۔ پنجاب کے حاکم مہاراجہ رنجیت سنگھ نے پہلی مرتبہ انھیں ایک شاہی محفل میں گاتے سُنا اور دیکھا۔ اسی وقت مہاراجہ نے گل بہار کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کی۔ وہ انھیں اپنی محبوبہ بنا کر رکھنا چاہتے تھے۔ مگر گل بہار نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔

پنجاب کی تاریخ پر نظر رکھنے والے محقق اور مصنف اقبال قیصر کے مطابق رنجیت سنگھ ان پر اس قدر فریفتہ تھے کہ اپنا سب کچھ لٹانے کو تیار تھے۔ ’گل بہار ایک مسلم گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اس لیے انھوں نے رنجیت کو کہا کہ وہ محبوبہ بن کر نہیں رہ سکتیں۔‘

اس وقت مہاراجہ کی عمر 50 برس سے زیادہ تھی اور یہ وہ دور تھا جب انگریز نے برصغیر میں قدم جمانے شروع کر دیے تھے۔ گل بہار نے پیشکش کی کہ اگر مہاراجہ چاہیں تو وہ ان سے شادی کرنے کو تیار ہیں۔

اقبال قیصر بتاتے ہیں کہ ’مہاراجہ رنجیت سنگھ اس قدر جذباتی ہوئے کہ انھوں نے یہ پیشکش قبول کر لی۔‘ پنجاب کے مہاراجہ نے گل بہار کے گھر والوں سے باقاعدہ طور پر ان کا ہاتھ مانگا۔

ایک روایت کے مطابق گل بہار نے شادی کی پیشکش کے ساتھ یہ شرط رکھی کہ رنجیت سنگھ ان کے گھر والوں سے رشتہ مانگنے کے لیے خود پیدل چل کر لاہور سے امرتسر آئیں گے۔ تاہم اقبال قیصر کے مطابق مستند تاریخ کی کتابوں سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوتی۔

تاہم پنجاب کے مہاراجہ کے لیے بھی سکھ مذہب سے باہر ایک مسلمان لڑکی سے باقاعدہ شادی کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔

’اکال تخت نے رنجیت کو کوڑوں کی سزا سنائی‘

سکھ مذہب کے مذہی افراد نے رنجیت سنگھ کے اس فیصلے کا بہت بُرا منایا۔ مہاراجہ کو امرتسر میں واقع سکھوں کی مقدس عبادت گاہ اکال تخت پر طلب کر لیا گیا۔ اکال تخت کو سکھ مذہب میں زمین پر خالصہ کی اعلٰی ترین جائے حاکمیت تصور کیا جاتا ہے۔

بعض تاریخی حوالوں کے مطابق اکال تخت نے گل بہار سے شادی کرنے پر سزا کے طور پر رنجیت سنگھ کو اپنے ہاتھوں سے پورے گرودوارے کے فرش کو دھونے اور اسے صاف کرنے کی سزا دی۔

تاہم اقبال قیصر کہتے ہیں کہ ان کی تحقیق کے مطابق ایسا نہیں تھا۔ ’اکال تخت نے رنجیت سنگھ کو کوڑے لگانے کی سزا دی۔ اپنی اس ملکہ کے لیے رنجیت سنگھ نے یہ سزا بھی قبول کی۔‘

کیا واقعی رنجیت سنگھ کو کوڑے لگائے گئے؟

اس وقت رنجیت سنگھ کی عمر 50 برس سے زیادہ تھی۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ مہاراجہ تھے جن کی سلطنت کی حدیں پنجاب سے باہر بھی چلی جاتی تھیں۔ اس قدر بااثر شخصیت کو کوڑے کون لگا سکتا تھا؟ دوسری طرف اکال تخت کا حکم بھی تھا جو رد کرنا رنجیت سنگھ کے لیے بھی ممکن نہیں تھا۔

اقبال قیصر کے مطابق ’اس کا حل یہ نکالا گیا کہ ریشم کا کوڑا تیار کیا گیا اور اس کے ساتھ رنجیت سنگھ کو کوڑے لگائے گئے اور حد پوری کی گئی۔‘ وہ کہتے ہیں اس طرح مہاراجہ نے ’کوڑے بھی کھا لیے اور گل بہار کو بھی نہیں چھوڑا۔‘

رنجیت سنگھ اور گل بہار کی اس شادی اور اس پر ہونے والے جشن کو کئی مؤرخین نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جن بڑے بوڑھوں نے اس شادی کو لاہور اور امرتسر میں دیکھا تھا وہ بعد میں یاد کرتے تھے کہ یہاں کبھی ایسی شادی بھی ہوئی تھی۔

’رنجیت نے باقاعدہ مہندی لگائی‘

محقق اقبال قیصر بتاتے ہیں کہ اس شادی کا احوال مؤرخ سجان رائے نے اپنی ایک کتاب ’خلاصہ تواریخ‘ میں تحریر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’مہاراجہ رنجیت سنگھ نے باقاعدہ طور پر مہندی لگوائی، طلائی زیورات زیب تن کیے، اپنا شاہی لباس پہنا اور ہاتھی پر سوار ہوئے۔‘

امرتسر کے رام باغ میں ایک بنگلہ تھا جس میں یہ شادی کی تقریب منعقد ہونا تھی۔ اس بنگلے کو چند روز قبل بند کر دیا گیا اور کئی روز تک اس کی تزین و آرائش کی گئی۔ اس کو خالی کروا لیا گیا تھا اور اس کے بعد جو پہلا شخص اس میں داخل ہوا وہ گل بہار تھیں۔

شادی کی تقریب سے ایک رات قبل اس میں محفلِ موسیقی منعقد ہوئی، مجرے ہوئے اور چراغاں کیا گیا۔ ’اس محفل میں گانے والوں کو انعام میں سات ہزار روپے دیے گئے۔ یہ اس وقت ایک بہت بڑی رقم تھی۔‘

’گل بہار کے گزرنے کے لیے راوی کے نالے پر پل تعمیر کیا گیا‘

شادی کی تقریب دھوم دھام سے ہوئی جس کے بعد شاہی جوڑا امرتسر سے لاہور کے لیے روانہ ہوا۔ لیکن لاہور میں داخل ہونے سے قبل دریائے راوی کا ایک چھوٹا سا نالہ ان کے راستے میں حائل ہو گیا۔

اگر کوئی اور ہوتا تو وہ پیدل چل کر اس کو عبور کر سکتا تھا لیکن گل بہار اب لاہور کی ملکہ تھیں۔ یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ ملکہ پالکی سے اتر کر پیدل چل کر نالہ عبور کرتیں۔ گل بہار نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔

اقبال قیصر کے مطابق ’کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس نالے کے اوپر ایک پل تعمیر کیا گیا جس پر چل کر ملکہ نے نالہ عبور کیا۔‘

بعد میں یہ ’پُل کنجری‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ اقبال قیصر کے مطابق اس کا کچھ حصہ آج بھی موجود ہے اور پاکستان اور انڈیا کے درمیان سنہ 1971 کی جنگ کے دوران یہ پل کافی زیادہ خبروں میں رہا تھا۔

تاہم بعض روایات کے مطابق یہ پل وہ مقام ہے جہاں رنجیت سنگھ امرتسر کی طرف سفر کے دوران قیام کرتے تھے۔ اس کے لیے بنائی جانے والی تعمیرات آج بھی یہاں موجود ہیں۔

اس روایت کے مطابق اس پل کا نام ’پُل کنجری‘ رنجیت سنگھ کی محبوبہ موراں سرکار سے منسوب کیا جاتا ہے جس نے پیدل چل کر نالہ عبور کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

کیا گل بیگم نے اپنا مقبرہ خود تعمیر کروایا؟

گل بیگم سے شادی کے آٹھ برس بعد رنجیت سنگھ کی موت واقع ہو گئی۔ اس کے کچھ ہی عرصہ میں انگریز پنجاب پر پوری طرح قابض ہو گئے۔

رنجیت سنگھ کی آخری بیگم جنداں کو دیس نکالا دیا گیا کیونکہ ان کے بیٹے دلیپ سنگھ کو ہی رنجیت کا جانشین مقرر کیا گیا تھا۔ بہار بیگم کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے ان سے انگریز سرکار کو خطرہ نہیں تھا۔

مہاراجہ کی اہلیہ ہونے کے ناطے گل بیگم کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کر دیا گیا جو ماہانہ 1200 روپے کے لگ بھگ تھا۔گل بیگم نے ایک مسلمان لڑکے سردار خان کو گود لے رکھا تھا۔ سنہ 1851 میں گل بیگم نے اپنے لیے لاہور کے قدیمی میانی صاحب قبرستان کے پہلو میں ایک باغ تعمیر کروایا۔ اقبال قیصر کے مطابق اسی باغ میں انھوں نے اپنا مقبرہ بھی تعمیر کروایا۔

اس کی دیواروں پر بنے نقش و نگار تو مٹ چکے ہیں تاہم مقبرے کے اندر چھت اور دیواروں پر بنے خوبصورت نقوش آج بھی ایسے موجود ہیں جیسے کل ہی میں بنائے گئے ہوں۔

’یہ اجڑا دیار کبھی لاہور کی ملکہ تھی‘

اس باغ کی تعمیر کے تقریباً دس برس بعد گل بیگم کی بھی وفات ہو گئی اور انھیں اسی مقبرے میں دفن کیا گیا۔

اقبال قیصر کہتے ہیں ’اس مقبرے کے اندر جو فریسکوز بنے ہوئے ہیں وہ انتہائی قیمتی ہیں۔ پہلے سے مغلیہ دور چلا آ رہا تھا، پھر اس میں سکھ شامل ہو گئے اور یہ سب اپنے عروج کی شکل میں اس مقبرے میں موجود ہے۔‘

باغ گل بیگم آج بھی اسی جگہ موجود ہے تاہم اس کی حالت انتہائی خستہ حال ہو چکی ہے۔ اقبال قیصر کے مطابق ’یہ اجڑا دیار کبھی لاہور کی ملکہ رہنے والی خاتون کا مقبرہ تھا۔‘

اقبال قیصر بتاتے ہیں کہ گل بیگم کے پاس اتنی بڑی جائیداد اور جاگیر تھی کہ اس کو سنبھالنے کے لیے انھوں نے اپنا ایک مال خانہ بنا رکھا تھا اور وہ خود اس کا انتظام سنبھالتی تھیں۔ ان کی موت کے بعد یہ جائیداد ان کے لے پالک بیٹے سردار خان کو منتقل ہو گئی۔

جس جگہ آج یہ باغ موجود ہے اس کے ارد گرد سردار خان کا خاندان آج بھی آباد ہے۔ باغ گل بیگم بھی ان ہی کی ملکیت ہے اور اس علاقے کو محلہ گل بیگم کہا جاتا تھا۔ سردار خان کی قبر بھی اسی باغ کے وسط میں ایک احاطے کے اندر موجود ہے۔