کورونا وباء اور لاک ڈاون کے دوران پربھنی ضلع میں کئی لوگ ملکِ عدم کوچ کر گئے۔ان مرحومین میں ایک نام محمد قاضی صغیر کا بھی ہے ۔ قاضی صغیر اپنی مخملی آواز میں غزلوں اور پرانی فلموں کے نغمے گاکر لوگوں کادل جیت لیا کرتے تھے ۔انھوں نے کبھی شادی نہیں کی تھی اور مجرد تھے ۔ اُن سے میرے دوستانہ مراسم تقریبا 30 سالوں سے تھے ان کی اچانک موت سے مجھے بھی ذاتی صدمہ پہونچا تھا ۔ جناب ملک بزمی پربھنی کے معروف شاعر اورادیب ہیں۔ جو ملک کے مشہور اردو ادبی رسائل اور اخبارات میں مسلسل چھپتے رہتے ہیں۔انھوں نے قاضی صغیر پر خوبصورت دل کو چھولینے والا مضمون لکھ کر انھیں دل کی گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔اُن کامضمون قارئین کرام کیلئے پیش ہے۔ (محمدتقی)

عموماً نماز جمعہ میں مسجد عیدروسیہ ( پربھنی) میں ادا کرتا ہوں پھر ہم کچھ عزیز اوقارب بھوئی گلی کی چھوٹی سی ہوٹل میں ایک آدھ گھنٹہ مختلف باتوں میں گزارتے ہیں۔ شفیع احمد شفیع ہوتے ہیں‘جاوید احمدخاں جاوید‘ گلوکار افتخارالدین ‘گلوکار قاضی صغیر اور عبدالباقی صاحب بھی ہوتے ہین ۔ 7اگست 2020 کو میں نے قاضی صغیر سے کہا” میاں خواہ مخواہ کے گھومنا گھامنا ملنا ملانا بند کرو“ ۔کورونا کی دہشت ہے اور سرکارکا اعلان بھی ہے ۔ قاضی صغیر گلوکار ہونے کے ناطے ہزاروں اشعار انہیں یاد ہیں ۔حافظہ بھی بلا کا ہے اور موقع مناسبت سے بہت خوبصورت شعر سناتے تھے ۔ کہنے لگے مجروح سلطانپوری کاایک شعر سنئے

سرپر ہواءظلم چلے سوجتن کے ساتھ

اپنی کلاہ کج ہے اُسی پانکپن کے ساتھ

ساتھیوںنے برجستہ شعر پر خوب داد دی ۔ میں نے کہا پھر بھی زندگی کو اس طرح ضائع تو نہیں کیاجاسکا ۔اس بات پر صغیر نے رزاق انور کا یہ خوبصورت شعرسناکر اپنی شعر فہمی کا ایک اور ثبوت دیا۔کہنے لگے۔
ساتھ تو نے دیا آخری سانس تک

کیسے تجھ کوکہیں بے وفا زندگی

دوسراہی جمعہ 14اگست وقت تین بجے ۔ محل وقوع وہی بھوئی گلی کی چھوٹی ہوٹل‘ شفیع احمد شفیع ا س روز اورنگ آباد گئے ہوے تھے ۔ میرے ساتھ ایک دو لوگ تھے ۔تب ہی یہ اطلاع ملی کہ ابھی پندرہ بیس منٹ قبل گلوکار قاضی صغیر انتقال کرگئے ہیں۔سن کر افسوس ہوا ۔قاضی صغیر بہت زندہ دل اور بہت مخلص انسان جس کاکوئی دشمن نہیں ‘ وہ بچوں کادوست ‘ نوجوانوں کا دوست اور بزرگوں کابھی دوست تھا ،کبھی کسی سے ناراض نہیں ہوتاتھا ۔ بارہا یہ دیکھاگیا کہ کوئی دوست اس سے بہت خفا ہوگیا۔سخت سست کہا اور یہ تک کہہ دیا کہ آئندہ مجھ سے کبھی ملنا نہیں ۔ لیکن دوسرے ہی پل قاضی صغیر اس کے پہلو بہ پہلو بیٹھاہوا ہے۔ ایسی اچانک موت‘ ابھی ہنس رہا ہے اورابھی نہیں ہے ۔ مانو ۔
دو ہی ہچکیوں پرہوا بیمارغم کافیصلہ۔ایک ہچکی موت کی تھی ایک تمہاری یاد کی
اس کی گلوکارسی کی مدت کم و بیش پچاس برسوںپر محیط ہے ۔ گزشتہ دس پندرہ برسوں سے آواز ضرور خراب چل رہی تھی لیکن حافظہ خوب تھا ۔ہزاروں غزلیں یاد تھیں۔ فارسی کلام بھی یاد تھا ۔سربازارمی رقصم۔ بہت لہک لہک کرسناتے تھے ۔ چالیس برس قبل ماشا ءاللہ ایسی خوبصورت آواز تھی بقول شاعر شعلہ سالپک جائے ہے آواز تو دیکھو۔ یہ واحد ایسا گلوکار تھا جو کئی ساز بجاتاتھا۔ہارمونیم ‘طبلہ اورڈھول بھی ۔ اگر ڈھول بھی نہ ملے تو یہ ٹیبل اورکرسی تک بجالیتاتھا ۔کبھی بھی کہیں بھی کسی نے غزل کی فرمائش کی اورقاضی صغیر شروع ہوگئے ۔ پھر وہ ہوٹل ہویا کسی کی دکان یا گھر کی بیٹھک۔ اس نے اپنی قیمت خود ہی گھٹادی تھی۔اگر وہ اپنے آپ کوسنبھال ک رکھتاتو یقینا مہدی حسن ‘ غلام علی ‘ پنکج ادھاس ‘انوپ جلوٹہ‘طلعت عزیز اورطلعت محمود جیسے استادوں کی صف میں ہوتا ۔
پھر بھی وہ گلوکار ‘کامیاب گلوکار سے پربھنی کانام روشن کرگیا ہے ۔ اللہ اس کے درجات میں اضافہ کرے ۔(آمین) ۔اب آخر میں نہ صرف قاضی صغیر بلکہ ن تمام مرحومین کےلئے جن کی یہاں تعزیت کی گئی ہے ۔ ایک مشہور استاد شاعر کاقطعہ حاضر ہے ۔

آج لاشہ جو محبت کامکاں سے اُٹھا
سُن کے ظالم نے کہا واہ کہاں سے اُٹھا
کل تو کہتاتھا کہ بستر سے نہیں اٹھ سکتا
اتنی طاقت اسے آئی کہ جہاں سے اُٹھا

ملک بزمی ۔ پربھنی

BiP Urdu News Groups