تازہ ترین گلوبل ہنگر انڈیکس میں بھارت 116 ممالک میں 101 ویں نمبر پر ہے ، جو پاکستان ، بنگلہ دیش اور نیپال سے کم درجے پر ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں لوگوں کو کافی خوراک نہیں ملتی ، MBA گریجوئیٹ خواجہ معین الدین نے اپنے منافع بخش کیریئر چھوڑ دیا تاکہ وہ کھانا بنا سکے ، ویڈیو بنا سکے اور بھوکے بچوں کو کھانا کھلا سکیں : دیکھیں ویڈیو رپورٹ

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں عالمی قوت بننے کی راہ پر گامزن ہندوستان ورلڈ ہنگر انڈیکس-2021 کی 116 ممالک کی فہرست میں پچھڑ کر 101ویں مقام پر آ گیا ہے۔ یعنی اس سے خراب حالت صرف 15 ممالک کی ہے۔ جمعرات کو جاری اس رپورٹ میں ہندوستان اپنے پڑوسی ممالک پاکستان، بنگلہ دیش، یہاں تک کہ نیپال سے بھی پیچھے ہے۔ اس سے قبل سال 2020 میں جاری گلوبل ہنگر انڈیکس کی فہرست میں ہندوستان 94ویں مقام پر تھا۔

دنیا بھر میں بھوک اور نقص تغذیہ کی حالت کی جانکاری دینے والے گلوبل ہنگر انڈیکس (جی ایچ آئی) کی ویب سائٹ پر جمعرات کو جاری اس رپورٹ میں کہا گیا کہ اس فہرست میں چین، برازیل اور کویت سمیت 18 ممالک سرفہرست ہیں، جن کا جی ایچ آئی اسکور پانچ سے کم ہے۔ اس رپورٹ میں ہندوستان کا جی ایچ آئی اسکور 28.8 سے 27.5 کے درمیان رہا، جو 2000 میں 38.8 تھا۔

اس رپورٹ کو آئرلینڈ کی ایجنسی کنسرن ورلڈ وائڈ اور جرمنی کی تنظیم ویلڈ ہنگر ہلف نے مل کر تیار کیا ہے۔ 2020 میں اس فہرست میں 107 ممالک تھے، تب ہندوستان 94ویں مقام پر تھا۔ اب اس سال اس فہرست میں 116 ملک ہو گئے ہیں، تو ہندوستان 101ویں مقام پر پھسل گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان سب سے زیادہ چائلڈ ویسٹنگ والا ملک ہے جہاں کووڈ-19 وبا اور اس کے سبب لگائی گئی پابندیوں سے لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

غور طلب ہے کہ ہندوستان کے پڑوسی ممالک کی گلوبل ہنگر انڈیکس میں حالت زیادہ بہتر ہے۔ اس فہرست میں نیپال 76ویں مقام پر ہے۔ بنگلہ دیش بھی 76ویں مقام پر اور پاکستان 92ویں مقام پر ہے، جب کہ میانمار 71ویں مقام پر ہے۔ رپورٹ میں ان ممالک میں بھی بھوک کی حالت کو فکر انگیز قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ ملک ہندوستان کے مقابلے اپنے شہریوں کی بھوک مٹانے میں کہیں زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔