دہلی میں 26 جنوری کو ہونے والے تشدد کے بعد کسانوں کی تحریک میں بہت کچھ بدلاہے۔ اگر دہلی بارڈر پر سیکیورٹی اور سختی میں اضافہ ہوا ہے تو بہت سے لوگوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ بات چیت کے مباحثوں کے درمیان کسان رہنماؤں نے واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ زیر حراست کسانوں کی رہائی تک حکومت سے باضابطہ بات چیت نہیں کی جائے گی۔ منگل کو متحدہ کسان مورچہ نے کہاہے کہ جب تک پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے ’ہراسانی‘ بندنہیں کی جاتی اور حراست میں لیے گئے کسانوں کی رہائی تک حکومت کے ساتھ کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوگی۔ متعددکسان تنظیموں کی جماعت نے ایک بیان جاری کیاجس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ سڑکوں پردیوارکھینچنا، خاردار تاریں بچھانا ، داخلی روڈ ویز کو بند کرنا ، انٹرنیٹ خدمات میں روک اوربی جے پی اور آر ایس ایس کارکنوں کے ذریعہ مظاہرہ کرنا حکومت کی منصوبہ بندی کاحصہ ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں