گربا پروگرام کے دوران غیر ہندو شخص نظر آیا تو بجرنگ دل کارکنان نے پٹائی کر دی

349

احمد آباد:اس بار گربا پروگراموں پر ہندوتوا تنظیموں کی سخت نظر ہے۔ مذہبی تنظیموں کے ساتھ ساتھ کچھ سیاسی لیڈروں کے بھی ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جن میں گربا پروگراموں سے اقلیتی طبقہ کے لوگوں کو دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق احمد آباد کے کرناوتی کلب میں گربا پروگرام کے دوران ایک غیر ہندو شخص کی موجودگی پر بجرنگ دل کارکنان کا خوب ہنگامہ دیکھنے کو ملا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بجرنگ دل کارکنان شہر میں گربا پروگراموں کا دورہ کر رہے تھے جب سندھو بھون علاقہ میں ایک گربا پروگرام کی جگہ پر انھیں چار غیر ہندو نوجوان مل گئے۔ کارکنان نے انھیں پکڑنے کی کوشش کی، لیکن اس دوران تین افراد بھاگنے میں کامیاب رہے۔ حالانکہ ایک شخص پکڑا گیا جس کی بری طرح پٹائی کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ پٹائی کے بعد اسے وہاں سے بھگا دیا گیا۔ اس معاملے میں ایک بجرنگ دل کارکن کا کہنا ہے کہ مسلم نوجوان ہندو لڑکیوں کو لبھانے اور غلط ارادے سے گربا پروگرام میں شامل ہوتے ہیں، اور اس بار وہ ایسا کچھ نہیں ہونے دیں گے۔

واضح رہے کہ گجرات ہی نہیں، مدھیہ پردیش میں بھی اس بار مسلمانوں کو گربا پروگرام سے دور رہنے کے لیے متنبہ کیا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش کی وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر نے دو ہفتہ پہلے ایک بیان دیا تھا جس میں کہا تھا کہ جو بھی اقلیتی طبقہ کے لوگ اپنے مذہب سے اوب گئے ہیں، جس مسلم شخص کی مورتی پوجا کرنے میں عقیدت ہے، وہ اپنے کنبہ کے ساتھ گربا مہوتسو میں آ سکتے ہیں۔ دوسرے مذاہب کے لوگ جو گربا میں آنا چاہتے ہیں، انھیں شناختی کارڈ دکھا کر گربا میں داخلہ دیا جائے گا۔ اس سے قبل انھوں نے گوالیر میں کہا تھا کہ اس بار گربا کے پروگراموں میں آدھار کارڈ دیکھ کر ہی داخلہ دیا جائے گا، کیونکہ گربا پروگرام لو جہاد کا بڑا ذریعہ بن چکے تھے۔