بریلی: الیکشن سے ٹھیک پہلے یا بعد کسی لیڈر کے پارٹی بدلنے کی خبریں تو آپ نے اکثر سنی ہوں گی، لیکن الیکشن میں شکست سے افسردہ کوئی امیدوار اپنا مذہب بدلنے کی دھمکی دے ڈالے تو حیرانی ہر کسی کو ہوگی۔ کچھ ایسا ہی ایک معاملہ اتر پردیش کے بریلی میں سامنے آیا ہے جہاں گرام پردھان کا الیکشن ہارنے والے ایک امیدوار نے پولس کو خط لکھ کر اعلان کر دیا کہ وہ فیملی کے ساتھ مذہب تبدیل کرنے جا رہے ہیں۔ اس اعلان سے بی جے پی میں کھلبلی مچ گئی۔ آناً فاناً میں بی جے پی کی ایک ٹیم سمجھانے کے لیے اس کے گھر پہنچی، لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں ہوئے۔ بالآخر بی جے پی لیڈروں نے مرکزی وزیر سنتوش گنگوار سے فون پر شکست خوردہ امیدوار کی بات کرائی اور مرکزی وزیر کی یقین دہانی کے بعد انھوں نے مذہب تبدیل کرنے کا ارادہ ترک کیا۔

 معاملہ بریلی کے بھدپورا بلاک واقع گاؤں ٹھریا بنّو جان کا ہے۔ یہاں رہنے والے سریش چندر گنگوار کی ایک زمانے سے یہی تمنا ہے کہ وہ گرام پردھان بن جائیں۔ انھوں نے پہلی بار 2010 میں گرام پردھان الیکشن کے لیے نامزدگی کرائی تھی لیکن وہ الیکشن ہار گئے تھے۔ تب انھیں 625 ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ اس کے بعد 2015 میں بھی نامزدگی درج کرائی لیکن برادری کے لوگوں نے سمجھا کر دوسرے امیدوار کی حمایت میں نامزدگی واپس کرا دی۔ سریش گنگوار نے 2021 میں تیسری بار گرام پردھان بننے کی امید کے ساتھ نامزدگی کا پرچہ داخل کیا۔

الیکشن سے پہلے انھوں نے کئی دعوتیں دیں، جن میں بہت سارے لوگ شامل ہوئے۔ کئی بی جے پی لیڈروں نے بھی ان کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ سریش نے کافی پیسہ بھی خرچ کر ڈالا۔ لیکن جب ووٹوں کی گنتی ہوئی تو پتہ چلا کہ سریش گنگوار کو صرف 46 ووٹ پڑے تھے۔ انھیں اپنی ہی ذات کے کرمیوں کے ووٹ بھی نہیں ملے، جب کہ گاؤں میں برادری کے تقریباً 400 ووٹ ہیں۔ بریلی سے رکن پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر سنتوش گنگوار بھی کرمی ہیں اور ان کا یہاں کافی اثر مانا جاتا ہے۔ لیکن اس بات کا بھی سریش کو فائدہ نہیں ملا۔ اسی وجہ سے سریش گنگوار کا غصہ ساتویں آسمان پر چلا گیا۔ انھوں نے کیولڑیا پولس کو خط لکھ کر بتایا کہ وہ مذہب تبدیل کرنے جا رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی چار بیٹیاں ہیں، جن میں سے دو کی شادی ہو چکی ہے اور وہ اپنی بیوی اور دو غیر شادی شدہ بیٹیوں کے ساتھ مذہب تبدیل کریں گے۔ سریش نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس فیصلے میں ان کی فیملی ان کے ساتھ ہے۔

سریش کی اس دھمکی کے بعد ان کی برادری اور گاؤں میں ہی نہیں بلکہ بی جے پی میں بھی کھلبلی مچ گئی۔ دراصل بی جے پی مذہب تبدیلی کے خلاف بڑی بڑی مہم چلانے کا دعویٰ کرتی رہی ہے۔ دوسری اہم بات یہ رہی کہ سریش گنگوار اور مرکزی وزیر سنتوش گنگوار ایک ہی ذات (کرمی) سے ہیں۔ اس لیے آناً فاناً میں بی جے پی لیڈروں کی ایک ٹیم گاؤں بھیجی گئی جو سریش کے گھر جا کر ان سے ملی۔ اس ٹیم میں بی جے پی لیڈر بھوجیندر گنگوار، راکیش گنگوار اور شیام رستوگی شامل تھے۔ ان لوگوں نے منتیں کیں، لیکن سریش فیصلہ بدلنے کو راضی نہیں تھے۔ آخر کار بی جے پی لیڈروں نے مرکزی وزیر سنتوش گنگوار اور بی جے پی ضلعی صدر پون شرما سے سریش کی فون پر بات کرائی۔ ان لوگوں نے سریش کو یقین دلایا کہ انھیں حکومت کے سبھی فلاحی منصوبوں سے جوڑا جائے گا اور بی جے پی ہر موقع پر ان کا ساتھ دے گی۔ اس کے بعد سریش مان گئے اور کسی طرح بی جے پی لیڈروں کی جان میں جان آئی۔