گجرات کے وزیر پر خاتون کو یرغمال بنا کر عصمت دری کرنے کا الزام

221

محمد آباد:28۔جولائی(ایجنسیز)گجرات کے ایک سابق سرپنچ نے ریاست کے وزیر برائے دیہی ترقیات اور محمد آباد سے بی جے پی رکن اسمبلی ارجن سنگھ چوہان کے خلاف اپنی بیوی سے عصمت دری کرنے اور اسے یرغمال بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ سابق سرپنچ کی شکایت پر کھیڑا ضلع پولیس نے معاملے کی جانچ کی بات کہی ہے۔ ہلدرواس گاؤں کے سابق سرپنچ نے بدھ کو ڈی ایس پی کو اس سلسلے میں درخواست دی ہے۔

نام نہ شائع کرنے کی شرط پر سابق سرپنچ نے الزام عائد کیا کہ دیہی ترقی کے وزیر ارجن سنگھ چوہان نے میری بیوی کو یرغمال بنایا اور اس کے ساتھ عصمت دری کی۔کھیڑا ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ دِویہ مشرا نے بتایا کہ ’’ہمیں محمد آباد تعلقہ کے ہلدرواس گاؤں میں رہنے والے ایک شخص کی درخواست ملی ہے۔ پولیس پہلے درخواست دہندہ کی بیوی کی عصمت دری اور غیر قانونی طریقے سے یرغمال بنانے کے الزامات کی ابتدائی جانچ کرے گی۔ اگر الزام درست پائے جاتے ہیں تو قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔‘‘

سابق سرپنچ نے الزام عائد کیا ہے کہ ’’میری بیوی ارجن سنگھ کے رابطے میں آئی، جب وہ 2015 میں بی جے پی کی ضلع سمیتی سربراہ تھیں۔ انھوں نے میری بیوی کو تعلقہ پنچایت امیدوار کی شکل میں نامزد کیا تھا اور وہ منتخب ہو گئیں۔ 2016 سے 2021 کے درمیان اسے ارجن سنگھ نے جلسوں کے نام پر الگ الگ مقامات پر بلایا اور عصمت دری کی۔ سابق ضلع صدر انھیں دیگر اثر والے لوگوں کے ساتھ سونے کے لیے بھی مجبور کر رہے تھے۔‘‘شکایت میں سابق سرپنچ نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’میری بیوی نے مجھے بتایا کہ کس طرح کورونا وبا کے دوران اس کا استحصال کیا گیا۔ ارجن سنگھ نے اسے غیر قانونی طور پر اپنی جگہ پر قید کیا اور اس کا استحصال کیا۔ جب میں نے اپنی بیوی سے چوہان کے خلاف مجرمانہ شکایت درج کرنے کے لیے کہا تو اس نے منع کر دیا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ وہ ایک طاقتور شخص ہے اور ہماری فیملی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘‘