• 425
    Shares

بی جے پی لیڈروں کے ذریعہ متنازعہ بیان دینے اور ہندو-مسلم اتحاد کو بگاڑنے کی کوششوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ نتن پٹیل نے اب ایک ایسا متنازعہ بیان دے دیا ہے جو ملک کے اقلیتی طبقہ پر سنگین الزامات عائد کرتا ہے۔ انھوں نے ایک تقریب کے دوران کہا کہ ’’آئین، سیکولرزم اور قانون کی بات صرف اس وقت تک چلے گی جب تک ہندو اکثریت میں ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ ’’میرے الفاظ لکھ لیجیے، اگر ہندوؤں کی تعداد کم ہوئی تو اس دن نہ کوئی کورٹ کچہری ہوگی، نہ کوئی قانون ہوگا، نہ کوئی آئین رہے گا، سب ہوا میں دفنا دیا جائے گا۔‘‘

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق نتن پٹیل نے یہ بیان گاندھی نگر واقع ’بھارت ماتا مندر‘ میں دیا جسے گجرات کا پہلا بھارت ماتا مندر تصور کیا جاتا ہے۔ جس وقت گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ یہ بیان دے رہے تھے، اس وقت ریاست کے زیر داخلہ پردیپ سنگھ جڈیجہ اور وی ایچ پی-آر ایس ایس کے سرکردہ لیڈران بھی موجود تھے۔ نتن پٹیل کے بیان کو سبھی موجود لوگ بغور سن رہے تھے، لیکن ان کے اس متنازعہ بیان نے ایک بار پھر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کے بیج بونے کی کوشش کی ہے۔

نتن پٹیل نے اپنی تقریر کے دوران ہندوستان میں سیکولرزم کی بقا کے لیے اکثریتی طبقہ کو ذمہ دار بتایا اور کہا کہ ’’ہمارے ملک میں کچھ لوگ آئین اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں، لیکن میں آپ کو بتاتا ہوں اور اگر آپ ویڈیو ریکارڈ کرنا چاہتے ہیں تو اسے کریں… میرے الفاظ کو لکھ کر رکھ لیں۔ آئین، سیکولرزم اور قانون وغیرہ کی بات کرنے والے ایسا تب تک کریں گے جب تک کہ اس ملک میں ہندو اکثریت میں ہیں… جس دن ہندوؤں کی تعداد گھٹتی ہے، دوسروں کی بڑھتی ہے، تب نہ سیکولرزم، نہ لوک سبھا اور نہ آئین بچے گا۔ سب کچھ ہوا میں اڑا دیا جائے گا۔ کچھ نہیں رہے گا۔‘‘ لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’میں سبھی کے بارے میں بات نہیں کر رہا۔ مجھے یہ بھی صاف کر دینا چاہیے کہ لاکھوں مسلمان حب الوطن ہیں، لاکھوں عیسائی حب الوطن ہیں۔ گجرات پولیس میں ہزاروں مسلمان ہیں، وہ سبھی حب الوطن ہیں۔‘‘

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔