سہیل انجم

بنگلور کی فارما کمپنی بائیوٹیک لمٹیڈ کی ایکزیکٹیو چیئرپرسن کرن مجمدار شا نے کرناٹک میں مسلم محالف نفرت انگیز اقدامات و بیانات کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے ریاست کرناٹک میں مسلمانوں کے خلاف ہندوتوا وادی تنظیموں کی سرگرمیوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ اگر مسلمانوں کو فرقہ وارانہ بنیاد پر الگ تھلگ کرنے کی کوششیں جاری رہیں تو ریاست کرناٹک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی عالمی قیادت سے محروم ہو جائے گا۔

انھوں نے پہلے حجاب پر پابندی، اس کے بعد مندروں کے تہواروں میں مسلم دکانداروں پر عاید کی جانے والی پابندی اور اب حلال گوشت پر پابندی کے مطالبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کرناٹک ہمیشہ جامع اور مشترک اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن رہا ہے۔ ہمیں اس مہم کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ اگر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بائیو ٹیکنالوجی میں بھی فرقہ واریت آگئی تو ہماری عالمی پیشوائی تباہ و برباد ہو جائے گی۔ انھوں نے وزیر اعلیٰ بسو راج بومئی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مذہبی تقسیم کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔

کرن مجمدار شا کارپوریٹ کی وہ پہلی شخصیت ہیں جنھوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ جبکہ اس سے قبل کسی نے ایسی جرأتمندی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ فسطائی عناصر اس قدر طاقتور ہو گئے ہیں کہ ان کے خلاف بولنے کی ہمت کوئی نہیں کرتا۔ تاجر برادری اس لیے نہیں بولنا چاہتی کہ اسے اس کا تجارتی نقصان ہوگا۔ اس سے قبل کئی کمپنیوں کو فرقہ واریت کی حمایت نہ کرنے پر نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔ لہٰذا متعدد افراد نے کرن مجمدار کی اس جرأتمندی کی ستائش کی ہے اور ان کے خدشات کو درست قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ بومئی سے اس مسئلے کو حل کرنے پر زور دیا ہے۔

حالانکہ کچھ ہندوتوا نواز عناصر نے ان کے اس بیان کی مخالفت کی اور کہا کہ وہ کشمیر جا کر دیکھیں کہ وہاں ہندووں کے ساتھ کیا ہوا۔ ایک شخص نے مندروں کے آس پاس مسلم دکانوں کے بائیکاٹ کی حمایت کرتے ہوئے کرن سے سوال کیا کہ کیا مسجدوں کے پاس ہندو دکاداروں کو اپنی دکانیں لگانے کی اجازت دی جائے گی؟ اس پر کرن نے جواب دیا کہ میں بنگلور میں ایسے کئی مقامات سے واقف ہوں جہاں مسجدوں کے پاس ہندووں کی دکانیں ہیں۔ انھوں نے پوچھا کہ کب سے مذہب کی بنیاد پر دکانداروں کی شناخت کی جانے لگی۔

بہرحال کرن مجمدار شا کی جرأت و ہمت کی داد دینی چاہیے کہ انھوں نے ہندوتوا وادی طاقتوں کے خلاف اور مسلمانوں کی حمایت میں یا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی حمایت میں آواز بلند کی۔ حالانکہ ان کو بھی اس کا اندازہ رہا ہوگا کہ ان کے اس بیان کی مخالفت ہوگی اور ان کی کمپنی کو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے باوجود انھوں نے اپنے دل کی بات کہی۔ ملک کے سیکولر نواز افراد کو چاہیے کہ وہ کرن مجمدار کی حمایت میں سامنے آئیں اور کرناٹک کو فرقہ واریت کے دلدل میں دھنسنے سے بچانے کی کوشش کریں۔

دراصل جب سے بی جے پی نے ریاست میں کانگریس اور جنتا دل ایس کی حکومت گرا کر اپنی حکومت بنائی ہے ریاست کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنے کی سازشیں مسلسل چل رہی ہیں۔ 2018 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شکست ہوئی تھی اور کانگریس اور جنتا دل ایس کی مخلوط حکومت قائم ہوئی تھی۔ بی جے پی سے یہ شکست ہضم نہیں ہوئی اور اس نے دونوں جماعتوں کے لالچی ارکان اسمبلی کو توڑ کر اپنے ساتھ ملا لیا اور ان کو وزیر بنا کر اپنی حکومت بنا لی۔ سابق وزیر اعلیٰ یدی یورپا کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا لیکن کچھ دنوں کے بعد انھیں برطرف کرکے بسو راج بومئی کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ بسو راج بومئی سابق کانگریسی وزیر اعلیٰ ایس آر بومئی کے بیٹے ہیں اور وہ بھی پہلے کانگریس ہی میں تھے لیکن پھر وہ بی جے پی میں شامل ہو گئے۔

سیاسی مشاہدین کا خیال ہے کہ چونکہ ریاست میں بی جے پی حکومت کی پوزیشن بہت خراب ہے وہ ایک کمزور حکومت ہے اور اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اس کی کامیابی یقینی نہیں ہے اس لیے مذہب کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ الیکشن میں شکست کا منہ نہ دیکھنا پڑے۔ اس کے لیے پہلے تعلیمی اداروں میں طالبات کے حجاب پہننے کی مخالفت کی گئی۔ اس معاملے کو اچھالنے کے لیے کالجوں میں حجاب پر پابندی لگا دی گئی۔ جب عدالت میں اس پابندی کو چیلنج کیا گیا تو عدالت نے طویل سماعت کے بعد پابندی کو برقرار رکھا اور کہہ دیا کہ تعلیمی اداروں میں مذہبی لباس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

عدالت کے اس فیصلے سے فرقہ پرست عناصر کے حوصلے بلند ہو گئے اور انھوں نے ساحلی کرناٹک میں مندورں کے سالانہ تہوار میں یہ مطالبہ کیا کہ مندروں کے پاس مسلمانوں کو دکان لگانے کی اجازت نہ دی جائے۔ خیال رہے کہ کئی روز تک چلنے والے اس تہوار میں اچھی خاصی دکانداری ہوتی ہے اور کروڑوں اربوں روپے کی فروخت ہوتی ہے۔ اس میں مسلمان بھی اپنی دکانیں لگاتے تھے لیکن ریاستی حکومت نے شرپسندوں کے مطالبے کو تسلیم کرکے مندورں کے آس پاس مسلمانوں کی دکانوں پر پابندی عاید کر دی۔

اب ایک نیا شوشہ چھوڑا گیا ہے۔ شرپسندوں کی جانب سے اب یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ریاست میں حلال گوشت کی فروخت پر پابندی لگائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب مسلمان غیر حلال یا جھٹکے کا گوشت نہیں کھاتے تو ہندو حلال گوشت کیوں کھائیں۔ ٹھیک ہے حلال گوشت مت کھاؤ لیکن دوسروں کو نہ کھانے پر کیوں مجبور کر رہے ہو۔ اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ وہ حلال گوشت کھائے تو دوسرا کون ہوتا ہے اس کو روکنے والا۔ اگر کوئی ہندو مسلم دکاندار سے حلال گوشت لینا نہیں چاہتا تو نہ لے لیکن وہ دوسروں کو کیوں روک رہا ہے۔ اسلام میں غیر حلال ذبیحہ کے کھانے کو حرام قرار دیا گیا ہے تو پھر مسلمانوں کو کیوں مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ جھٹکے کا گوشت کھائیں۔

دراصل یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں اور ہندووں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے اور بی جے پی الیکشن میں اس کا فائدہ اٹھائے۔ ایک طرف وزیر اعظم اور وزیر داخلہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ سب کا ساتھ سب کا وشواس حکومت کا نعرہ ہے اور دوسری طرف دوسروں کے وشواس کو توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کس قانون میں لکھا ہے کہ لوگ وہی کھائیں گے جو سنگھی کھلانا چاہیں گے۔ ملک کا آئین کہیں بھی تجارت کرنے اور اپنی پسند کے کھانے کی آزادی دیتا ہے لیکن یہ ہندوتوا وادی عناصر اس سلسلے میں دوسروں کو اپنی مرضی کا پابند بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پہلے گجرات کو ہندوتوا کی تجربہ گاہ بنایا گیا پھر اترپردیش کو بنایا گیا اور اب کرناٹک کو بنایا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ بی جے پی کو انتخابی فائدہ تو پہنچا سکتا ہے لیکن اس سے ملک کو شدید نقصان ہو رہا ہے۔ ملک کا مشترکہ کلچر تباہ ہو رہا ہے اور ہندو-مسلم اتحاد و یکجہتی کی جڑیں کھوکھلی ہو رہی ہیں۔ کیا وزیر اعظم اس جانب توجہ دیں گے۔ وزیر اعلیٰ بسو راج بومئی تو ایک کمزور وزیر اعلیٰ ہیں لیکن مودی تو ایک مضبوط وزیراعظم ہیں۔ کیا وہ نفرت انگیزی کے اس سلسلے کو روکنا چاہیں گے یا وہ بھی پارٹی کے انتخابی فائدے کے لیے اس کو ہوا دیں گے؟