شراب پر پابندی اور سبزی خوری دو ایسے مسائل ہیں جو گجرات میں مسلسل زیر بحث رہتے ہیں۔ گجرات کو ایک ’سبزی خور ریاست‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے حالانکہ یہاں ایک خاصی آبادی گوشت خور بھی ہے۔

2014 کے رجسٹرار جنرل آف انڈیا کے ذریعے کیے گئے ایک سروے کے مطابق گجرات میں 61.80 فیصد لوگ سبزی خور جبکہ 39.05 فیصد لوگ نان ویج ہیں۔

کیا گجرات میں کبھی بھی گوشت نہیں کھایا جاتا تھا؟

مشہور ماہر طباخ اور مورخ پشپیش پنت اور دوسرے سکالرز کا خیال ہے کہ گجرات میں جین مت یا وشنو مت یا فطری عدم تشدد کے رویے کا اثر بہت پہلے سے ہے۔

صحافی ویر سنگھوی لکھتے ہیں کہ ’انڈیا کبھی بھی سبزی خور ملک نہیں رہا ہے۔ سبزی خوری کی مقبولیت ہندو روایت سے نہیں بلکہ جین روایت سے آئی ہے۔‘

گجرات میں جین تہورا پریوشن، جس میں سال میں ایک مرتبہ روزہ رکھنے جیسی رسم ہے، کے دوران مذبح خانے بند رکھے جاتے ہیں۔

متل پٹیل نے، جو ایک طویل عرصے سے خانہ بدوشوں کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں، بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ ان ’میں سے ستر فیصد لوگ سبزی خور ہیں۔‘

ماہر عمرانیات گورنگ جانی نے بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ ’اگر آپ گجرات کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو بادشاہوں نے جین مت کو پناہ دی جس کا اثر ان کی حکومت پر نظر آتا ہے۔‘

جینوں کے علاوہ وشنو مت کا بھی ریاست کی غذا پر اثر ہوا ہے۔ ان دونوں برادریوں کی آبادی کم تھی لیکن سیاسی اور تجارتی ڈھانچے پر دونوں کی اچھی گرفت تھی۔

گجرات میں ایک عرصے سے پارسیوں، قبائلیوں، کھشتریوں اور سمندری مسافروں کی خوراک میں نان ویج کھانے کا ایک اہم مقام رہا ہے۔ ان کی نئی نان ویج ڈشز بھی کافی مقبول ہیں۔

ملک میں سب سے طویل ساحلی سرحد گجرات میں ہے اور سمندری غذا بھی ریاست کے لیے خوراک کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

گورنگ جانی کہتے ہیں کہ ’ساحل کے قریب رہنے والے لوگ دہائیوں سے سمندری غذا کھا رہے ہیں لیکن سمندر سے وابستہ تاجروں کا تعلق بنیا اور جین متوں سے ہے۔‘

ساحلی لوگوں کے علاوہ ریاست کا ایک خاصہ رقبہ قبائلی ہے جہاں لوگ گوشت کھاتے رہے ہیں۔

آزادی سے پہلے گجرات اور کاٹھیاواڑ کی ریاستوں میں بھی گوشت کھایا جاتا تھا۔ اس وقت ان علاقوں میں شکار غیر قانونی نہیں تھا۔

ایران سے آکر گجرات میں آباد ہونے والے پارسی بھی گوشت اور کباب کے اپنے اپنے روایتی پکوان لے کر آئے تھے۔ اور ساحل کے قریب رہنے کی وجہ سے ان کی غذا میں مچھلی بھی شامل رہی ہے۔

صحافی ویر سنگھوی نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’ملک میں سب سے بہترین نان ویجیٹیرین ڈشز گجراتی ہیں جنھیں گجرات کے مسلم معاشرے مثلاً کھوجا اور میمن وغیرہ نے دیا ہے۔‘

جانی کہتے ہیں کہ ’جب گجراتی تھالی کی بات ہوتی ہے تو اعلیٰ طبقے کے اثر و رسوخ کی وجہ سے صرف سبزی تھالی کی بات ہوتی ہے۔ گجراتی تھالی میں نان ویج کھانا بھی ہوتا ہے لیکن اسے غائب کر دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ گجراتی چینلز پر آنے والے کوکنگ شوز میں کبھی بھی نان ویج ڈشز کی ترکیب نہیں دکھائی جاتی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’سیاست میں فرقہ پرست طاقتیں اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ نئی نسل نان ویجیٹیرین کھانے کی طرف مائل ہو رہی ہے، اس لیے نسل کو ایسی پالیسی سے کیسے جوڑا جائے جو ہندوتوا کو پروان چڑھاتی ہو۔ اور اسی لیے سبزی خوری کو سیاسی طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ہندوتوا کا مسئلہ گجراتی ہونے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔