گجرات میں مسلمانوں کوخوفزدہ کرنے کی کوشش ٗ اے ٹی ایس کی 150مقامات پر چھاپے ماری، 65 افراد گرفتار

601

احمد آباد:گجرات میں اسمبلی انتخاب کی سرگرمی عروج پر ہے۔ اس درمیان انسداد دہشت گردی دستہ (اے ٹی ایس) نے ریاست کے 13 اضلاع کے تقریباً 150 ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 11 نومبر کی شب چھاپہ ماری شروع ہوئی جو ہنوز جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گجرات اے ٹی ایس اور جی ایس ٹی محکمہ مشترکہ طور پر مہم چلا رہی ہے اور اب تک سورت، احمد آباد، جام نگر، بھروچ اور بھاؤنگر جیسے اضلاع میں 150 ٹھکانوں پر چھاپہ ماری ہوئی ہے۔ یہ چھاپہ ماری بین الاقوامی راستوں پر ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کو لے کر کی جا رہی ہے۔

اے ٹی ایس کی چھاپہ ماری سے متعلق اے بی پی نیوز پر ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں نامہ نگار رونق پٹیل کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ساجد اجمل شیخ اور شہزاد نام کے شخص اے ٹی ایس کے نشانے پر تھے۔ ان کے اوپر اے ٹی ایس کی کئی دنوں سے نظر تھی۔

اے ٹی ایس نے جمعہ کی شب سب سے پہلے انہی دو لوگوں کو گرفتار کیا۔ جانچ کے دوران پایا گیا کہ ساجد اور شہزاد مبینہ طور پر پوری ریاست میں جی ایس ٹی چوری کا ایک بڑا ریکٹ چلاتے ہیں۔ اس معاملے میں کروڑوں روپے کی جی ایس ٹی چوری بتائی جا رہی ہے۔ اندیشہ ہے کہ گرفتار کیے گئے لوگوں کے تار پی ایف آئی اور حوالہ ریکٹ سے جڑے ہوئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ جمعہ کے روز گجرات میں انکم ٹیکس نے بھی کئی ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی۔ بھج، راجکوٹ اور گاندھی دھام کے تقریباً 30 ٹھکانوں پر یہ چھاپہ ماری ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ معاملہ فائنانس بروکر اور ریئل اسٹیٹ سے جڑے لوگوں سے متعلق ہے، ان پر انکم ٹیکس چوری کا الزام ہے۔