احمد آباد: گجرات میں بلدیاتی انتخابات کے لئے ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ ریاست میں چھ میونسپل کارپوریشنوں کے لئے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ احمد آباد، سورت، وڈودارا، بھاو نگر، جام نگر اور راجکوٹ میونسپل کارپوریشن انتخابات کو وزیر اعلی وجے روپانی کے لئے ایک امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے مزاج کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان انتخابات میں بی جے پی نے بھروچ سے 31 مسلم امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔

عہدیداروں نے بتایا کہ مجموعی طور پر 575 نشستوں کے لئے ووٹنگ ہوگی، جس کے لئے 2276 امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں سے بی جے پی سے 577، کانگریس سے 566، عام آدمی پارٹی سے 470 ، این سی پی کے 91 اور دیگر جماعتوں سے 353 اور 228 آزاد امیدوار ہیں۔ انتخابات کی گنتی کا عمل 23 فروری کو ہوگا۔

اس سلسلے میں ایک انتخابی عہدیدار نے بتایا کہ ان چھ شہروں میں ووٹرز کی کل تعداد 1.14 کروڑ ہے، جس میں سے 60.60 لاکھ مرد اور 54.06 لاکھ خواتین ووٹر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 11121 انتخابی بوتھوں میں سے 2255 کو حساس اور 1188 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد 31 فروری کو 31 اضلاع اور 231 تعلقہ پنچایتوں اور 81 شہری اداروں کے لئے انتخابات ہوں گے۔

امت شاہ بھی ووٹ دیں گے
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بھی آج احمد آباد میں بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالیں گے۔ شاہ احمد آباد میونسپل کارپوریشن کے نارن پور وارڈ میں اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ ان کے علاوہ وزیر اعلی وجے روپانی اپنے آبائی شہر راجکوٹ میں ایک اسکول کے پولنگ بوتھ میں اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ کورونا کی زد میں آنے والے روپانی اس وقت احمد آباد کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

بی جے نے بھروچ سے اتارے 31 مسلم امیدوار
گجرات کے بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی نے اپنی روایت سے پرے جاتے ہوئے متعدد مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ بی جے پی نے بھروچ کی 320 بلدیاتی سیٹوں میں سے 31 پر مسلم امیدواروں کو موقع دیا ہے۔ خیال رہے کہ ہندوتواوادی ایجنڈے پر چلنے کی وجہ سے بی جے پی لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں مسلم امیدواروں کو موقع نہیں دیتی۔

احمد آباد مہانگر پالیکا کے گزشتہ انتخابات میں بی جے پی نے ریاست کے سابق ڈی جی پی ایس ایس کھنڈواوالا کو جوہاپورا سے موقع ضرور دیا تھا لیکن وہ انتخاب ہار گیے تھے۔ دراصل بھروچ قبائل اکثرت والا علاقہ ہے اور یہاں کے ووٹروں پر اسد الدین اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ساتھ اتحاد میں شامل بی ٹی پی (بھارتیہ ٹرائبل پارٹی) کا خاصہ اثر ہے۔