گجرات فسادات: کتنے لوگوں کو انصاف ملا اور کتنے لوگ نامراد رہے؟

35

انڈیا کی مغربی ریاست گجرات میں آنند ضلع کے اوڈ گاؤں کے 40 سالہ ادریس نے اپنی آبائی جائیداد چھوڑ دی ہے۔ ان کی دادی، ماں اور ایک قریبی دوست کو ان کے سامنے ایک ہجوم نے قتل کر دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قاتلوں کی اس بھیڑ میں ان کے سکول کے دوست اور پڑوسی بھی شامل تھے۔ادریس وورا سنہ 2002 میں رونما ہونے والے گجرات فسادات کے ان متاثرین میں سے ایک ہیں جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ انھیں انصاف نہیں ملا۔ اب وہ آنند ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں سمرتھا میں رہ رہے ہیں۔ جب ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنی آبائی جگہ کیوں چھوڑی تو ادریس نے کہا کہ وہ واپس نہیں جانا چاہتے۔وہ کہتے ہیں ‘جو کچھ میں نے دیکھا ہے وہ کسی کو نہ دیکھنا پڑے۔ ایسا کسی کے ساتھ بھی نہیں ہو۔انھوں نے بتایا کہ ان کے خاندان کے افراد کے قتل کے معاملے میں 80 ملزمان نامزد تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی جیل میں نہیں ہے۔ ادریس کے مطابق سب کو عدالت سے ضمانت مل چکی ہے۔ایسا ہی نرودا پاٹیہ کیس کے اہم گواہ سلیم شیخ کا کہنا ہے جنھوں نے ریاست میں برسر اقتدار پارٹی بی جے پی کی سابق ایم ایل اے مایا کوڈنانی کے خلاف گواہی دی تھی۔ سلیم شیخ کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ 20 سالوں سے انصاف حاصل کرنے کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔ٹرائل کورٹ میں کوڈنانی کو نرودا پاٹیہ کیس میں اہم سازشی قرار دیا گیا تھا لیکن کوڈنانی کو ضمانت مل چکی ہے۔ سلیم شیخ پوچھتے ہیں کہ ان تمام سالوں کی جدوجہد کا نتیجہ کیا نکلا؟

سپریم کورٹ نے حال ہی میں ذکیہ جعفری کی شکایت پر اپنا حتمی فیصلہ سنایا ہے۔ فیصلے کے بعد گجرات پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انسانی حقوق کی کارکن تیستا سیتلواڑ، سابق ڈی جی پی آر بی سری کمار اور سابق آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔ان تینوں پر ریاستی حکومت کو بدنام کرنے کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ گجرات حکومت کے اس قدم پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر تنقید بھی ہو رہی ہے۔یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ نے ذکیہ جعفری کی شکایت کی بنیاد پر ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔ذکیہ جعفری کانگریس کے سابق رکن پارلیمان احسان جعفری کی اہلیہ ہیں۔ 2002 کے فسادات میں گلبرگہ سوسائٹی قتل عام میں احسان جعفری سمیت 69 لوگ مارے گئے تھے۔ ذکیہ جعفری نے گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سمیت 63 لوگوں کے خلاف شکایت درج کرائی تھی جس کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ایس آئی ٹی کی تشکیل کے بعد ٹیم کو نو معاملات کی جانچ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ بی بی سی نے نو مقدمات کی موجودہ صورتحال جاننے کی کوشش کی۔ سب سے پہلے گودھرا واقعہ کی بات کرتے ہیں جس کے بعد ریاست میں فسادات بھڑک اٹھے جس میں ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

1. گودھرا کا واقعہ
گودھرا ریلوے سٹیشن کے باہر سابرمتی ایکسپریس ٹرین کی کوچ S6 پر حملے کے بعد ہی پورے گجرات میں فسادات شروع ہو گئے تھے۔ گودھرا میں ہجوم کے پرتشدد حملے کے بعد ٹرین کے ایس 6 کوچ کو آگ لگا دی گئی، جس میں 59 لوگ مارے گئے۔مرنے والوں میں زیادہ تر کار سیوک (ہندو رضاکار) تھے جو ایودھیا سے احمد آباد لوٹ رہے تھے۔ یہ واقعہ 27 فروری سنہ 2002 کو پیش آیا تھا۔ گودھرا پولیس نے اس معاملے میں 103 لوگوں کو گرفتار کیا، جس کے بعد ایس آئی ٹی نے تحقیقات کی اور 31 دیگر افراد کو گرفتار کیا۔اس معاملے میں ہزاروں صفحات کی کل 26 چارج شیٹ داخل کی گئیں۔ اس معاملے میں 34 لوگوں کو مجرم قرار دیا گیا جب کہ 67 لوگوں کو بری کر دیا گیا۔ بری کیے جانے والے 67 افراد میں سے تین کی موت ہو چکی ہے۔گجرات ہائی کورٹ میں کل 13 اپیلیں دائر کی گئی تھیں جن میں سے دو اپیلیں نمٹا دی گئی ہیں جبکہ باقی تمام اپیلیں زیر التوا ہیں۔ بی بی سی گجراتی سے بات کرتے ہوئے اس کیس میں شامل ایک وکیل رولامن اکیلا نے کہا کہ اس کیس میں 10 افراد اس وقت جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ ضمانت پر رہا ہیں۔

2. سردار پورہ واقعہ
سردار پورہ شمالی گجرات کے پٹن ضلع کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ پٹن ضلع کے سردار پورہ گاؤں میں مسلمانوں کی تین الگ الگ بستیاں تھیں۔ ان تینوں بستیوں پر یکم مارچ سنہ 2002 کی رات ہجوم نے حملہ کیا۔بھیڑ کے خوف سے 33 لوگوں نے ایک گھر میں پناہ لی۔ ہجوم نے اس گھر کا سراغ لگایا اور اس گھر میں بجلی کے ایک ننگے تار سے کرنٹ دوڑا دیا جس میں 29 افراد کی جائے حادثہ پر ہی موت ہو گئی۔ہجوم نے گاؤں کی تمام سڑکیں بند کر دیں تاکہ مسلم کمیونٹی کے لوگوں کو اپنی جان بچانے کا موقع نہ ملے۔سپریم کورٹ کی جانب سے ایس آئی ٹی کی تشکیل سے قبل مقامی پولیس نے اس معاملے میں 54 لوگوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف چارج شیٹ بھی داخل کی گئی تھی۔ جب ایس آئی ٹی نے تحقیقات سنبھالی تو تین اور چارج شیٹ داخل کی گئیں اور 22 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ان 76 افراد میں سے 31 کو عدالت میں سزا سنائی گئی جب کہ ایک نابالغ سمیت 43 کو بری کر دیا گیا۔ 76 ملزمان میں سے دو مقدمے کی سماعت کے دوران فوت ہو گئے۔ قصورواروں نے گجرات ہائی کورٹ میں چار اپیلیں دائر کی تھیں اور ان سبھی کو جنوری 2012 میں نمٹا دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ میں تین اپیلیں دائر کی گئیں اور یہ تمام اپیلیں زیر التوا ہیں۔دی وائر کی ایک رپورٹ کے مطابق اس قتل عام میں دو سرکردہ افراد سرپنچ کچرا بھائی پٹیل اور سابق سرپنچ کنو بھائی پٹیل ملوث تھے اور ان دونوں کا مبینہ طور پر بی جے پی سے تعلق تھا۔انڈیا کی سپریم کورٹ نے سنہ 2003 میں فسادات کے دیگر مقدمات کے ساتھ مقدمے کی سماعت پر روک لگا دی تھی اور 2008 میں کیس کو ایس آئی ٹی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ کیس کا فیصلہ نومبر 2011 میں آیا۔ اس معاملے میں 31 ملزمان کو قصوروار ٹھہرایا گیا جن میں سے 30 کا تعلق پاٹیدار برادری سے تھا۔

3. اوڈ گاؤں
آنند ضلعے کے اوڈ گاؤں میں تین الگ الگ واقعات میں 27 مسلمان مارے گئے۔ تاہم صرف دو معاملوں میں ہی شکایت درج کی گئی اور ان دونوں معاملوں کی جانچ ایس آئی ٹی کو سونپی گئی۔اوڈ گاؤں میں تشدد کا پہلا مقدمہ یکم مارچ سنہ 2002 کو درج کیا گیا تھا۔ معلومات کے مطابق پیراولی بھاگول علاقے میں 23 افراد کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ لاشوں کو اس طرح جلایا گیا کہ مرنے والوں کی شناخت بھی نہ ہوسکی۔پولیس صرف دو لوگوں کی شناخت کر سکی اور باقی کو لاپتہ قرار دیا گیا۔ رفیق محمد عبدالخلیفہ نامی شخص نے کھمبولج پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج کرایا۔تحقیقات کے دوران پولس نے 51 لوگوں کو گرفتار کیا اور کیس میں چارج شیٹ بھی داخل کی۔ ایس آئی ٹی نے 51 ملزمان میں سے 23 کو قصوروار ٹھہرایا اور 23 کو بری کر دیا گیا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران تین ملزمان کی موت ہو گئی۔اس معاملے میں گجرات ہائی کورٹ میں کل چھ اپیلیں دائر کی گئیں، جس کے بعد گجرات ہائی کورٹ نے 23 میں سے 19 مجرموں کی سزا کو برقرار رکھا جبکہ سپریم کورٹ نے سنہ 2020 میں اس معاملے میں 15 لوگوں کو ضمانت دے دی۔وڈ گاؤں میں دوسرا معاملہ پہلے معاملے کے ایک دن بعد رونما ہوا۔ اس سلسلے میں 5 مارچ 2002 کو پولیس میں شکایت درج کرائی گئی تھی۔ اس معاملے میں درمیانی گاؤں میں دو خواتین سمیت تین افراد کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں مقامی پولیس نے 44 لوگوں کو گرفتار کیا تھا، ان تمام کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔ایس آئی ٹی کی جانچ کے بعد چار دیگر کو گرفتار کیا گیا۔ کل ملزمان میں سے چھ افراد تاحال لاپتہ ہیں جبکہ دیگر دو ملزمان مقدمے کی سماعت کے دوران ہی فوت ہوگئے۔ٹرائل کورٹ نے اس کیس میں 10 افراد کو مجرم قرار دیا جبکہ 30 کو بری کر دیا۔ اس معاملے میں چار اپیلیں فی الحال گجرات ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں۔ادریس وورا نے تشدد کے اس واقعے میں اپنی دادی، اپنی ماں اور اپنے ایک قریبی دوست کو کھو دیا تھا۔ ادریش بھی اس کیس کے اہم گواہ ہیں۔ وہ اور ان کے والد ہجوم سے اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے کیونکہ دونوں نے خود کو 10 گھنٹے سے زیادہ بیت الخلا میں بند رکھا تھا۔ادریس کا کہنا ہے کہ وہ یہ حقیقت ہضم نہیں کر سکتے کہ سب کچھ تباہ کرنے والے کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 20 سال بھٹکنے کے بعد بھی انصاف نہیں ملا۔

5. نرودا پاٹیہ کیس
28 فروری 2002 کو، بجرنگ دل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی قیادت میں ایک ہجوم نے نرودا پاٹیہ علاقے کو گھیر لیا اور بستی کے کئی گھروں کو آگ لگا دی۔ اس قتل عام میں 97 افراد مارے گئے تھے۔ایس آئی ٹی کی تشکیل سے پہلے مقامی پولیس نے اس معاملے میں 46 لوگوں کو گرفتار کیا تھا اور چار چارج شیٹ داخل کی تھیں۔ بعد میں ایس آئی ٹی نے 24 دیگر کو گرفتار کیا اور چار اور چارج شیٹ داخل کی گئی۔مقدمے کے کل 70 ملزمان میں سے سات مقدمے کی سماعت کے دوران فوت ہوگئے اور دو ابھی تک مفرور ہیں۔ اس معاملے میں 32 لوگوں کو سزا سنائی گئی ہے جس میں سے دو کی موت ہو چکی ہے۔اپنے فیصلے میں نچلی عدالت نے بی جے پی کی وزیر مایا کوڈنانی کو فسادات کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے انھیں 28 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس معاملے میں بجرنگ دل کے بابو بجرنگی کو بھی قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔مایا کوڈنانی سمیت 32 لوگوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا۔ مجسٹریٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کوڈنانی نے بطور ایم ایل اے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ جب انھیں گرفتار کیا گیا تو وہ نریندر مودی کی حکومت میں خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کی وزیر تھیں۔
اس معاملے میں موجودہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ایس آئی ٹی کے سامنے مایا کوڈنانی کے حق میں گواہی دی تھی، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ انھوں نے کوڈنانی کو پہلے ودھان سبھا (ریاستی اسمبلی) میں اور بعد میں سولا سول ہسپتال میں دیکھا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کوڈنانی نے 2002 کے فسادات میں نام آنے کے بعد بھی سنہ 2007 میں ہونے والے اسمبلی الیکشن میں امیدوار تھیں۔ ایس آئی ٹی کی تشکیل کے بعد انھیں 2009 میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس معاملے میں ہائی کورٹ میں 12 اپیلیں دائر کی گئیں اور یہ تمام اپیلیں 25 اپریل سنہ 2018 کو نمٹا دی گئیں۔اس کیس کے 32 قصورواروں میں سے 18 کو ہائی کورٹ نے بری کر دیا، جن میں بی جے پی کی وزیر مایا کوڈنانی بھی شامل ہیں، جب کہ 13 افراد کو قصوروار پایا گیا۔ سزا پانے والوں میں بابو بجرنگی بھی شامل ہیں تاہم ان کی عمر قید کی سزا کو کم کر کے 21 سال کر دیا گیا۔فی الحال اس معاملے پر سپریم کورٹ میں 10 اپیلیں زیر التوا ہیں۔ کیس کے مرکزی گواہ سلیم شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہائی کورٹ میں تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ‘میں آج بھی نرودا پاٹیا میں رہتا ہوں، لیکن اس فساد سے پیدا ہونے والے خلاء کو کوئی عدالت پر نہیں کر سکے گی۔’

6. نرودا گاؤں کا معاملہ
نرودا پاٹیہ کے قریب نرودا گاؤں میں 11 مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا تھا اور پولیس شکایت میں 49 لوگوں کو ملزم نامزد کیا گیا تھا۔ایس آئی ٹی نے تحقیقات سنبھالنے کے بعد 37 لوگوں کو گرفتار کیا تھا، جن میں سے سبھی کو ضمانت مل گئی ہے۔ ایس آئی ٹی کی جانب سے چھ اور مجموعی طور پر نو چارج شیٹ داخل کی گئی تھی لیکن 20 سال گزرنے کے بعد بھی اس کیس کی سماعت شروع نہیں ہوئی ہے۔متاثرین کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے ایڈووکیٹ ایم ایم ترمذی نے بی بی سی کو بتایا: ‘ایسا کئی بار ہو چکا ہے۔ سماعت کے بعد جب معاملہ سننے کا وقت آیا تو ایک سے زیادہ بار ایسا ہوا ہے کہ مجسٹریٹ کو تبدیل کر دیا گیا یا ترقی دی گئی۔ اب نئے مجسٹریٹ آ چکے ہیں اور ہم پر امید ہیں کہ معاملے کی سماعت کا عمل دوبارہ شروع ہو جائے گا۔
7. دیپدا دروازہ
28 فروری سنہ 2002 کو مہسانہ کے وِس نگر کے دیپدا دروازہ علاقے میں مسلم کمیونٹی کے 11 افراد کو قتل کر دیا گیا۔ اسی دن مقدمہ بھی درج کر لیا گیا۔اس معاملے میں مقامی پولیس نے 79 لوگوں کو گرفتار کیا تھا اور سبھی کو ضمانت دے دی گئی تھی۔ جب ایس آئی ٹی نے جانچ شروع کی تو چھ مزید لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور کل پانچ چارج شیٹ داخل کی گئیں۔ٹرائل کورٹ نے کیس میں 22 ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی تھی۔ فی الحال گجرات ہائی کورٹ میں اس سلسلے میں کل 13 اپیلیں دائر کی گئی ہیں لیکن تمام اپیلیں زیر التوا ہیں۔اس معاملے میں 85 ملزمان میں سے 61 لوگوں کو بری کر دیا گیا ہے جن میں وس نگر کے سابق بی جے پی ایم ایل اے پرہلاد پٹیل اور میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی کے صدر داہیا بھائی پٹیل بھی شامل ہیں۔
8. برطانوی شہریوں کا معاملہ
28 فروری سنہ 2002 کو تین برطانوی شہریوں اور ان کے ڈرائیور کو ایک ہجوم نے قتل کر دیا۔ کیس کی معلومات کے مطابق برطانیہ سے آنے والے عمران داؤد نامی شخص اپنے تین رشتہ داروں کے ساتھ گاڑی میں سفر رہے تھے۔
ہجوم نے گاڑی کو روک کر ایک ہی جگہ پر دو افراد کو نذر آتش کر دیا۔ دو افراد جان بچا کر بھاگے لیکن ہجوم نے ان کا پیچھا کیا اور انھیں مار ڈالا۔ پولیس کی مدد سے عمران داؤد خود کو بچانے میں کامیاب رہے۔پولیس نے اس معاملے میں چھ لوگوں کو گرفتار کیا تھا لیکن ان سبھی کو نچلی عدالت میں رہا کر دیا گیا۔ تاہم ان کے خلاف اپیل ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق عدالت نے سنہ 2015 میں اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اس کے پاس گرفتار ملزمان کو رہا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ ان کے خلاف جرم ثابت نہیں ہو سکا۔ 182 صفحات کے حکمنامے میں عدالت نے کہا تھا کہ ایس آئی ٹی نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ گواہ ملزم کی شناخت نہیں کر سکے۔قابل ذکر ہے کہ اس معاملے میں تین اہم گواہ سماعت کے دوران منحرف ہو گئے تھے۔

9. گلبرگ قتل عام
28 فروری سنہ 2002 کو چمن پورہ کی گلبرگ سوسائٹی میں رہنے والے 69 افراد کو ہجوم نے قتل کر دیا۔ کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل تھے۔ سوسائٹی میں 19 بنگلے اور 10 اپارٹمنٹس ہیں۔
مقامی پولیس نے میگھانی نگر پولیس سٹیشن میں شکایت درج کرنے کے بعد 46 لوگوں کو گرفتار کیا۔ ایس آئی ٹی کی جانچ شروع ہونے کے بعد اس معاملے میں 28 دیگر کو گرفتار کیا گیا اور کل 12 چارج شیٹ داخل کی گئیں۔ کل ملزمان میں سے 24 کو سزا سنائی گئی جبکہ 39 کو بری کر دیا گیا۔اس معاملے میں ہائی کورٹ میں 17 اپیلیں دائر کی گئیں اور یہ تمام اپیلیں اس وقت ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں۔گلبرگ سوسائٹی کے قتل عام میں اپنے رشتہ داروں کو کھونے والی 64 سالہ سائرہ بانو نے کہا کہ جن لوگوں کو پولیس نے گرفتار کیا تھا، شناخت ہونے کے بعد بھی انھیں ضمانت دے دی گئی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔سائرہ بانو کے مطابق ملزموں کی گرفتاری تیستا سیتلواڑ اور آر بی سری کمار جیسے انسانی حقوق کے کارکنوں کی مدد سے ممکن ہوئی۔گلبرگ سوسائٹی فسادات میں اپنے بیٹے کو کھونے والے دارا مودی کا کہنا ہے کہ ‘ہمیں ابھی تک انصاف نہیں ملا، تمام ملزمان اس وقت جیل سے باہر ہیں، ایس آئی ٹی نے اپنا کام کیا ہے، لیکن تمام ملزمان اعلیٰ عدالتوں میں جا کر انصاف حاصل کر رہے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہماری لڑائی بے سود رہی۔

راکسی گاگڈیکر چھارا بی بی سی گجراتی سروس، احمدآباد