احمدآباد:(ایجنسیز)اب گجرات کے اسکولوں میں طلبا کو ’بھگوت گیتا‘ کی تعلیم دی جائے گی۔ یہ اعلان گجرات کے وزیر تعلیم جیتو وگھانی نے کیا ہے اور کہا ہے کہ تعلیمی سال 23-2022 سے ریاست کے اسکولوں میں بھگوت گیتا پڑھائی جائے گی۔ وزیر تعلیم کے مطابق اسکولی تعلیم میں ہندوستانی ثقافت اور معلوماتی نظام کو شامل کرنے کے لیے پہلے مرحلہ میں بھگوت گیتا میں موجود اقدار و اصولوں کو درجہ 6 سے 12 تک پڑھائے جانے کا منصوبہ ہے۔ ان درجات کے درمیان بچوں کے شعور اور دلچسپی کے مطابق تعلیمی مواد کو پیش کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ دعائیہ جلسہ میں بھی گیتا کے شلوک کو شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔گجرات کے وزیر تعلیم جیتو وگھانی نے کہا کہ 6 سے 8 درجہ میں بھگوت گیتا کو نصابی کتابوں میں کہانی اور سبق کی شکل میں پیش کیا جائے گا۔ درجہ 9ویں سے 12ویں میں بھگوت گیتا کو پہلی زبان کے نصاب میں کہانی اور سبق کی شکل میں پیش کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں 6 سے 12 درجہ تک کے لیے اصل لٹریچر/ مطالعہ کے لیے مواد (شائع، آڈیو-ویزوئل) فراہم کیا جائے گا۔ آئندہ تعلیمی سال سے اسے نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔گجرات کے وزیر تعلیم وگھانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’اسکول کے دعائیہ جلسہ میں بھگوت گیتا کے کچھ حصوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔

اسکولوں میں بھگوت گیتا پر مبنی مختلف مقابلے اور تعمیری سرگرمیاں جیسے شلوکوں کو گانے کا مقابلہ، شلوکوں کو مکمل کرنے کا مقابلہ، مضمون نگاری مقابلہ، ڈرامہ، مصوری، سوال و جواب وغیرہ کا انعقاد کیا جانا چاہیے۔‘‘ واضح رہے کہ اس سے قبل ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے دسمبر 2021 میں اعلان کیا تھا کہ ہریانہ کے اسکولوں میں طلبا کو بھگوت گیتا کے شلوک پڑھائے جائیں گے۔