اوپیک ورچول اجلاس میں سعودی عرب اور امارات کے درمیان تیل کوٹہ میں اضافہ کے مسئلہ پر اختلافات

دبئی۔ متحدہ عرب امارات نے رواں برس تیل نکالنے کا کوٹہ بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے تیل نکالنے والے بڑے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کی جانب سے 2022 کے اختتام تک تیل کی پیداوار کم رکھنے کے منصوبے کی مخالفت کر دی ہے۔اوپیک ممالک نے جمعے کو رواں برس دسمبر تک تیل کی یومیہ پیداوار 20 لاکھ بیرل تک بڑھانے کی تجویز دی تھی جب کہ آئندہ برس کے اختتام تک تیل کی پیداوار کم رکھنے کا منصوبہ تھا جس کی امارات نے مخالفت کی ہے۔اماراتی سرکاری نیوز ایجنسی وام کے مطابق اماراتی وزارتِ توانائی نے امارات کا کوٹہ بڑھائے بغیر معاہدے میں توسیع کو ‘غیر منصفانہ’ قرار دیا ہے۔ اماراتی حکام کا موقف ہے کہ ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں تیل کی طلب بڑھ گئی ہے۔ لہذٰا اس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اْسے زیادہ کوٹہ درکار ہے۔امارات کے اس اقدام کو سعودی عرب کی جانب سے آئندہ برس بھی تیل کی عالمی پیداوار کو کم رکھنے کے منصوبے کی کھل کر مخالفت قرار دیا جا رہا ہے۔امارات اور سعودی عرب کے درمیان یہ اختلاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بہت سے ممالک کرونا وبا کی شدت کم ہونے پر معیشت کھول رہے ہیں اور تیل کی طلب میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔خیال رہے کہ تیل پیدا کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک طلب، رسد اور قیمتوں میں توازن قائم رکھنے کے لیے تیل کی پیداوار میں کمی بیشی کرتے رہتے ہیں۔متحدہ عرب امارات کا شمار دنیا بھر میں تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی فہرست میں ہوتا ہے۔ وہ تیل پیدا کرنے والے 13 بڑے ممالک کی تنظیم ‘اوپیک’ کا رْکن ہے جس میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔متحدہ عرب امارات کا یہ اعتراض جمعے کو ‘اوپیک’ اور ‘اوپیک پلس’ ممالک کے ورچوئل اجلاس کے دوران سامنے آیا ہے۔ اوپیک پلس میں خام تیل برآمد کرنے والے 10 ممالک شامل ہیں جس کا روس بھی رکن ہے۔متحدہ عرب امارات کا یہ موقف تھا کہ وہ تیل کی پیداوار میں اضافے کے منصوبے کی حمایت کرتا ہے کیوں کہ موسمِ گرما میں مارکیٹ میں تیل کی طلب بڑھ جائے گی۔اماراتی حکام نے اجلاس کے دوران مطالبہ کیا کہ امارات کی پیداواری صلاحیت کے مطابق اس کا کوٹہ بڑھایا جائے۔ماہرین کے مطابق امارات نے حالیہ عرصے میں اپنی تیل کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ‘اوپیک’ کی جانب سے تجویز کردہ کوٹے کے برعکس اسے یومیہ 0.6 ملین بیرل اضافی تیل پیدا کرنے کی اجازت دی جائے جس کے بعد وہ یومیہ 38 لاکھ بیرل تیل پیدا کر سکے گا۔البتہ، سعودی عرب کا یہ موقف ہے کہ اگر امارات کو تیل کی پیداوار بڑھانے کی اجازت دی گئی تو دیگر رْکن ممالک اس معاملے میں احتجاج کر سکتے ہیں۔ سعودی وزیرِ توانائی نے اتوار کو ایک بیان میں کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ ‘حقیقت پسندی’ کے ذریعہ اختلافی امور طے کیے جا سکتے ہیں۔خیال رہے کہ کرونا وبا کی وجہ سے ایئر لائن انڈسٹری اور مختلف صنعتیں بند ہونے سے گزشتہ برس تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔
جس کی وجہ سے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو معاشی خسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ماہرین کے مطابق رواں برس کے اختتام تک تیل کی یومیہ عالمی طلب نو کروڑ 40 لاکھ بیرل سے بڑھ کر نو کروڑ 99 لاکھ بیرل ہونے کا امکان ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں