اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ،پڑھ اپنے ر ب کے نام کے ساتھ جس نے تجھے پیدا کیا ۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے نازل ہونے والی وحی "پڑھنے” سے متعلق تھی۔ اس سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ اسلام میں پڑھنے کی اور تعلیم و تعلم کی کتنی اہمیت ہے۔ لیکن اس اقرأ کے ساتھ رب کا نام جڑا ہونا ضروری ہے یعنی ہماری تعلیم کا،اسلامی تصور تعلیم سے آراستہ ہونا لازمی ہے ورنہ یہی تعلیم انسانیت کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب تعلیم اسلام کے تصور علم سے خالی ہوگی تو یہی تعلیمی ادارے ہر قسم کی برائیوں کی آماجگاہ بن گئے۔

*# بےحیائی فحاشی و عریانیت:*

یہ ایک ایسی برائی ہے جس سے شاید ہی آج کوئی کالج محفوظ ہو ،ہر خاص و عام اس کا شکار ہے یہاں تک کہ ایک متقی پرہیزگار طالب علم کو بھی اپنے دامن کو اس گندی سے بچانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے لہذا ان تعلیمی اداروں میں ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جنہیں بیان کرنے کی حیا اجازت نہیں دیتی۔

کالج کیمپس میں منائے جانے والے مختلف ڈیز، سالانہ گیدرنگس،کلچرل پروگرامس ،لڑکے لڑکیوں کا آزادانہ میل جول اور موبائل وانٹرنیٹ اس برائی کے مختلف اسباب ہیں ۔

تعلیمی اداروں میں پنپ رہی مختلف برائیوں کی بنیادی وجوہات میں مخلوط تعلیمی نظام کا بڑا دخل ہے غیر مسلم تعلیمی اداروں کی بات نہیں، لیکن آج مسلم اسکول کالجز بھی اس کو برا نہیں سمجھتے۔ مخلوط تعلیمی نظام جہاں لڑکے لڑکیاں ایک ساتھ پڑھتی ہو یا لڑکیوں کو کوئی مرد تعلیم دیتا ہوں یا لڑکیوں کو کوئی عورت ٹیچر پڑھاتی ہو، سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ سے کسی نے سوال پوچھا، ‘کیا ایک مرد ایک عورت کو پڑھا سکتا ہے؟” فرمایا، "اگر پڑھانے والا بایزید بسطامی ہو اور پڑھنے والی رابعہ بصری ہو اور جس جگہ پڑھا جاۓ وہ خانہ کعبہ ہو اور جو پڑھا جاۓ وہ قرآن ہو تب بھی یہ جائز نہیں.”

ظاہر ہے کہ مرد اور عورت جنس جب ہم مجلس ہوں گے ایک فطری جذبہ جو ان کو کو ایک دوسرے کی طرف مائل کرے گا اور یہ جذبہ انہیں کہاں تک لے جائے گااس کے عملی تجربات ہم آۓدن دیکھ رہے ہیں. لڑکوں کا اپنی نظروں پر قابو نہ رکھنا اور لڑکیوں کے بے پردہ رہنے سے اس برائی کی آبیاری ہورہی ہے

آج کالج میں پڑھنے والی مسلم لڑ کی کے لیے پردہ کرنا مشکل ہوگیا اور اپنے حجاب کو اتار پھینک کر اپنے ہم مکتب بےحجاب بے حیا لڑکیوں کے رنگ میں رنگ جانا آسان ہوگیا۔ کہیں تو ایسا ہے کہ کالج کے ماحول میں میں دھیرے دھیرے اسلام کی بیٹیاں پردے میں گھٹن اورشرم محسوس کر رہی ہے ( ایسی مثالیں بھی ہے کہ لڑکیاں گھر سے تو نقاب پہن کر نکلتی ہے لیکن جب وہ کالج پہنچتی ہے تو نقاب ان کے بیگ میں ہوتا ہے ) اور کہیں ہماری وہ بہنیں ی جو اسلامی اصول و آداب کی پابندہیں جو اپنی حیااور نسوانیت کے تحفظ لیے پردے کا اہتمام کرتی ہے تو کالج اور انتظامیہ انہیں مجبور کرتاہے کہ وہ اپنا حجاب اتار پھینکے کے ورنہ ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کی حالیہ مثال ہمارے سامنے ہیں۔

موبائل و انٹرنیٹ نے فحاشیوں عریانیت کی اس آگ آگ کو وہ ہوا دی ہے جس سے آج سب کچھ بھسم ہونے کو ہے ایک نوجوان ہے ۔۔۔۔۔ہاتھ میں موبائل ہے۔۔۔۔ فری ان لمیٹڈ انٹرنیٹ ہے۔۔۔۔۔۔ اور تنہائی۔۔۔۔۔۔۔اوراس کی ایک کلک پر ہر طرح کی گندی اور انتہائی سڑی گلی فلمیں نیٹ پر دستیاب ہے۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ کیا کالج اور کیا اسکول کیا لڑکے اور کیا لڑکیاں کیا بڑے اور کیا چھوٹے کیا شہر اور کیادیہات، بڑے عجیب بات کے کیا اسٹوڈنٹس اور کیا ٹیچر سب اپنی نظروں کواس سے خیرہ کر رہے ہیں، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ادھر لیکچر شروع ہے اور دو چار لڑکے بینچ کی آڑ میں ننگی فلمیں دیکھ رہے ہیں۔ یہ نفسیاتی حقیقت ہے کہ انسان جو کچھ دیکھتا ہے ،ویسا ہی کرنا چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج پانچ سال کی معصوم بچی اور 80سال کی بوڑھی بھی درندوں کی ہوس کا شکار ہے

*#منشیات:*

اسٹوڈنٹس آج تمباکو اور سگریٹ کی عادی تو اسکول کے زمانے سے ہی ہو جاتے ہیں لیکن جب وہ کالج اور یونیورسٹی پہنچتے ہیں تو ان کے عادتوں اور معیار میں ‘ترقی’ ہوتی ہے پھر ان کی محفلیں سگریٹ کے دھوئیں کے ساتھ ساتھ جام اور پیمانوں سے سجدے لگتی ہے. پنجاب حکومت کے ذریعے کئے گئے سروے میں یہ رپورٹ سامنے آئی کے نشہ اور ڈرگس کا شکار %80 لوگ تعلیم یافتہ ہے اور %75 نوجوان نوشی کی لت میں ہے۔ ایک اور چشم کشا رپورٹ یہ بھی ہے کہ بھارت میں ہر دن دس لوگ نشے کی لت کی وجہ سے خودکشی کرلیتے ہیں لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ وہ طلباءاور طالبات جو اپنے شاندار مستقبل کا خواب سجا کر کالج کیمپس میں داخلہ لیتے ہیں، لیکن دھیرے دھیرے اس طرح کی برائی ان کی صحت،مستقبل، دوستوں اور سماج کے ساتھ ان کے تعلقات کو damageکر لیتی ہے

*#مادہ پرستی*

شاعر مشرق نے کہا تھا ،

وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں

جس علم کا حاصل ہو جہاں میں دو کفِ جو

یعنی وہ علم آزاد لوگوں کے لئے علم نہیں نہیں بلکہ زہر ہے جس کا مقصد بس دنیا میں دو مٹھی جو یعنی دنیا اور ظاہری شان و شوکت کا حصول ہو

لہذا تعلیم و علم کے حصول کے اصل مقاصد سے غفلت برتنے کی وجہ سے آج کا تعلیم یافتہ محض اپنے پیٹ اور خواہشات کا غلام نظر آتا ہے اور جب وہ خواہشات کی تکمیل کے راستے پر چل پڑتا ہے تو کیا صحیح کیا غلط،جائز وناجائز ،حلال و حرام اسے کسی چیز کی تمیز نہیں ہوتی۔وہ ہر چیز کو اپنے ذاتی فائدے کی عینک سے دیکھتا ہے ۔ملک و ملت کی تعمیر تو کجا وہ اپنے گھر اور خاندان کے بھی کام کا نہیں ہوتا۔ ان دو بھائیوں کی طرح جنہیں مغربی دنیا کی چکاچوند اس قدر غافل کر دیا تھا کہ جب ان کے باپ کا انتقال ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ باپ جس نے انہیں ہی محنت مزدوری سے پڑھا لکھا کر اس قابل بنایا تھا کہ وہ ایک مغربی ملک میں اچھے عہدے پر فائز تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو باپ کی میت پر اپنے ملک میں چھوٹا بھائی پہنچتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خاندان والے پوچھتے ہیں تیرا بڑا بھائی کیوں نہیں آیا؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔ تو اس کا جواب ہوتا ہے بھیا نے کہا ہے ابو کی میت پر تو چلے جا امی کے انتقال پر میں چلے جاؤں گا۔۔۔۔

*#الحادو خدا بیزاری:*

اسلام کے نزدیک علم کے حصول کا بنیادی مقصد معرفت خداوندی ہے ۔علم ایک اکایٔ ہے۔ اسلام علم کی دینی اور دنیوی تقسیم کا قائل نہیں۔ ایک طالب علم مدرسے میں بیٹھ کر قرآن وحدیث پڑھے یا کالج میں بیٹھ کر سائنس پڑھے، ان کی تعلیم اپنے رب کے تعارف کا اور قربت کا ذریعہ بننا چاہیے۔ لیکن آج کالجس میں پڑھنے والے مسلم طلبہ کو دھیرے دھیرے الحادوخدا بیزاری کا سبق پڑھایا جارہا ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم

کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

آج بڑے بڑے کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے والے مسلم طلباء اپنے دین ،شریعت اور اسلامی اصول کی پابندی کرنے میں شرمندگی محسوس کر رہے ہیں، اپنی تہذیب و اقدار کو دقیانوسی سمجھتے ہیں اور افسوس اس کا شکار بڑے بڑے دینی و تحریکی گھرانوں کے چشم وچراغ بھی ہو رہے ہیں۔

*#لادینی تہذیب کے نرغے میں:*

آج کالج کیمپس میں پڑھنے والا مسلم نوجوان مغربی اور ہندوانہ تہذیب کے زیر اثر ہے ۔جہاں ان کا ایمان، تہذیب اور شناخت خطرے میں ہے۔

حالانکہ یہ مغربی تہذیب جس پر یہ نوجوان طالب علم فریفتہ نظر آتا ہے ، بظاہر خوشنما نظر آتی ہے لیکن یہ اندر سے سڑ گل چکی ہے، کھوکھلی ہوچکی ہے

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی

مگر یہ جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

لیکن آج ایک مسلم مشرقی نوجوان اپنے گھریلو ماحول سے نکل کر مغربی تہذیب کی چکاچوند کو دیکھتا ہے تو اسے سب نیا لگتا ہے اور وہ دھیرے دھیرے اس تہذیب کی رنگارنگی کی طرف لپکتا چلا جاتا ہے اور ایک وقت وہ اسکا دلدادہ ہو جاتا ہے۔

میں نے دیکھا ہے کہ فیشن میں الجھ کر اکثر

تم نے اسلاف کی عزت کے کفن بیچ دیے

نئی تہذیب کی بے روح بہاروں کے عوض

اپنی تہذیب کے شاداب چمن بیچ دیے

علامہ اقبال جنہوں نے اس تہذیب و کلچر کو بڑے قریب سے دیکھا تھا فرماتے ہیں،

اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں

نئی تہذیب کے انڈے ہیں بڑے گندے

یہ تہذیب جس سے آج کامشرق نوجوان مرعوبیت کا شکار ہے، اپنے وطن میں ہی دم توڑ رہی ہے ۔اس تہذیب کی ترقی کا یہ نتیجہ نکلا کہ امریکہ میں %54 عورتوں کو معلوم نہیں ہوتا ہے کہ ان کے پیٹ میں پلنے والے بچے کا باپ کون ہے ،اپنی ہوس کی بھوک مٹانے کے لیے وہ کتے اور بلی کے استعمال سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ایک امریکی مصنف لکھتا ہے ‘اگر امریکہ میں اسی طرح مار دھاڑ کی فلمیں جاری رہے تو ایک وقت امریکہ چوروں، ڈاکوؤں اور زانیوں کا ملک بن جائے گا ۔1955 میں فرانس کے صدر نے کہا تھا کہ ” ہمارے درمیان ایک عورت بھی باعصمت باقی نہیں اور ہمیں اس بات پر فخر ہے” ان مغربی اور یورپی ممالک کے چوراہوں، بس اسٹاپ اور ہوٹلوں پر یہ ہدایت چسپاں ہوتی ہے کہ

"No nude please”

(ننگے مت ہوئیے) باقی جو کرنا ہے کر سکتے ہو۔

وہاں کا خاندانی نظام درہم برہم ہوچکا ہے۔ بوڑھے اور لاچار مجبور والدین سے اولڈ ایج ہاؤس بھرے پڑے ہیں۔ یہ تو وہاں کی "تہذیبی ترقی” کی ادنی عکاسی ہے ورنہ "فسانہ اور بھی ہے”

شاعر مشرق نے کہا تھا

دیار مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے

کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو ، وہ اب زر کم عیار ہو گا

تمھاری تہذیب اپنےخنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

بہرحال وہ مغربی تہذیب جو اپنے دیار میں دم توڑ رہی ہے آج ہمارے طلباء اس کی تقلید میں فخر اور عزت خیال کر رہے ہیں۔

کر بلبل و طاؤس کی تقلید سے توبہ

بلبل فقط آواز ہے طاوس فقط رنگ

یہی درس دے رہا ہے ہر شام کا سورج

مغرب کی طرف جاؤ گے تو ڈوب جاؤ گے

تہذیب و کلچر کے حوالے سے سے دوسرا بڑا چیلنج ہندوانہ تہذیب کا ہے موجودہ حکومتی زعفرانی ٹولہ تعلیم کے ذریعے ہندوانہ تہذیب، رسوم و رواج تھوپنے کی پوری تیاری کر چکا ہے۔ اس حوالے سے بڑے پیمانے پر نصاب میں تبدیلی کی جارہی ہے ۔یوگا جیسی ہندوانہ عبادت کو صحت اور ورزش کے نام پر لازمی قرار دیا جارہا ہے۔ کالجز میں ہندو تہوار مثلاً گنپتی، کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔اور ایسی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ بارہویں تک مسلم ادارےمیں پڑھنے والا نوجوان ان تہواروں میں شروع سے آخر تک شریک ہو رہے ہیں۔

دوسری بڑی عجیب چیز جو ان تعلیمی اداروں کے اندر پروان چڑھ رہی ہے وہ یہ کہ مرد اپنی مردانگی اور عورتیں اپنی نسوانیت بھول رہے ہیں۔ لڑکیاں لڑکوں کے جیسا انداز چال چلن اختیار کر رہی ہے اور وہ لڑکے ،شجاعت، بہادری اور مردانگی جن کی شناخت تھی ان کے اندر زنانہ پن اور نرم و نازکی پیدا رہی ہے۔ چال چلن اور انداز تو بہت دور کی بات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مردوں کا اور مردوں کو عورتوں کا لباس تک اختیار کرنے سے سخت منع کیا ہے

علامہ اقبال نے بڑی سختی سے کہا تھا

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نا زن

کہتے ہیں اسی علم کو ارباب نظر موت

اُس زمانے میں تو صرف زن،نازن ہو رہےتھے لیکن آج نازن بھی زن ہو رہے ہیں

#اخلاقی زوال:

تعلیم اخلاقی اقدار سے خالی ہوتی جارہی ہے جس سے آج تعلیمی اداروں سے ایسی نسل تیار ہو رہی ہے جن کے پاس بڑی بڑی ڈگریاں تو ہے لیکن وہ اخلاق و کردار سے بالکل عاری ہے ہے اور وہ انسانیت کی خیرخواہی و ہمدردی، بڑوں کا ادب واحترام اور ماں باپ آپ کے حقوق کی ادائیگی جیسی بنیادی اخلاقی صفات سے خالی ہے اکبر الہ آبادی نے کہا تھا کہ

ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں

کہ جن کو پڑھ کے بیٹےباپ کو خبطی سمجھتے ہیں

اسی اسلام کا تصور یہ ہے کہ صرف تعلیم کافی نہیں بلکہ تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت بھی ضروری ہے اگر علم کے ساتھ اخلاق نہ ہو تو اکثر اوقات اچھا سے اچھاعلم انسان کو فائدہ پہنچانے کے بجائے انسانیت کے لئے نقصان اور ہلاکت کا سبب بن جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کہ کہ ملک میں شرح تعلیم ٹیم میں اضافہ تو ہو رہا ہے ہے لیکن قابل شرم حقیقت یہ بھی ہے کہ ساتھ ہی تعلیم یافتہ مجرمین کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے بعض جرائم تو ایسے ہیں جو صرف اعلی تعلیم یافتہ طبقہ میں ہی پائے جاتے ہیں جیسے کرپشن ، کرپشن کے نوے فیصد واقعات اعلیٰ سیاسی قائدین، اونچے درجہ کے سرکاری وپرائیویٹ عہدیداران اور صنعت کاروں میں پائے جاتے ہیں،۔

اخلاقی اقدار سے خالی تعلیمی اداروں سے تعلیم یافتہ اساتذہ ز امتحان میں پیسے لے کر نمبر دیتے ہیں ،تعلیمی ماہرین رشوت لے کر اساتذہ کی تقرری کراتے ہیں، ڈاکٹر مریض سے فیس لینے کے علاوہ فارمیسی سے، پیتھالوجسٹ سے اور ہسپتالوں سے کمیشن وصول کرتے ہیں، بلاوجہ ٹیسٹ لکھتے ہیں، بلا سبب دوائیں تجویز کرتے ہیں اور بلاضرورت آپریشن کا کیس بناتے ہیں، انجینئرس تعمیری میٹریل کے بارے میں غلط رپورٹ دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں پلوں اور اور عمارتوں کے گرنے کے حادثات پیش آتے رہتے ہیں، یہ سب جاہل وناخواندہ لوگوں کی طرف سے نہیں؛ بلکہ پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی طرف سے پیش آتا ہے، پس یہ حقیقت ہے کہ کتنا بھی مفید علم ہو، اگر اخلاق سے اس کا رشتہ ٹوٹ جائے تو وہ نافع کے بجائے مضر اور مفید کے بجائے نقصان دہ بن جاتا ہے۔

تدارک کی کچھ عملی تدابیر:

برائیوں کے اس طوفان سے سے ہوسکتا ہے کسی اور کو کوئی فرق نہ پڑے لیکن بہی سے بحیثیتِ امت مسلمہ ہمیں ضرور فرق پڑتا ہے۔ نہ صرف ہمیں خود کو اس طوفان سے بچانا ہوگا بلکہ ان برائیوں کے خلاف برسرے پیکار ہو کر ایک چیلنج بننا ہوگا۔ طاقت سے زبان سے اور دل سے برا جان کر تینوں درجات میں اِنکا مقابلہ کرنا ہوگا ۔ورنہ کوئی گھر اس کے شر سے محفوظ نہیں رہے گا۔ دنیا میں ذلت و رسوائی ہوگی اور آخرت میں اللہ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔

ان برائیوں تدارک کے لیے کچھ عملی تدابیردرج ذیل ہو سکتی ہیں

#بے حیائی کی روک تھام کے لیے مختلف ذرائع سے اسلام کی حیا سے متعلق جو تعلیمات ہے اسے عام کیا جائے مثلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

"جب تم حیا نہ کرو تو جو جی چاہے کرو(بخای و مسلم)”

"حیا اور ایمان دونوں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی اٹھ جائے تو دوسرا بھی خود بخود اٹھ جاتا ہے(مشکوٰۃ شریف)

"بے حیائی جب بھی کسی چیز میں ہو گی تو اُسے عیب دار ہی بنائے گی ۔ اور حیاء جب بھی کسی چیز میں ہو گی تو اُسے مزین اور خوبصورت ہی کرے گی”(مشکوٰۃ شریف)

لڑکے اپنی سوچ اور نظروں میں حیا پیدا کریں، لڑکیاں پردے کا اہتمام کرے والدین اپنے بچوں کو بہ ضرورت ہی موبائل دلوائیں۔ ساتھ ہی اس کی نگرانی بھی کرتے رہیں۔

اور یہ کیوں ممکن نہیں کہ اس گندے ماحول میں اپنی حیا اور نوجوانی کے تحفظ کے لیے طلبہ وطالبات دوران تعلیم ہی نکاح کرلیں۔ ایسی مثالیں موجود ہے کہ دورانے تعلیم ہیں لڑکے اور لڑکی کا نکاح ہوگیا اور برسرے روزگار ہونے تک لڑکے کا خرچ اس کے والدین اور لڑکی کا خرچ اس کے والدین اٹھا رہے ہیں ۔

# مسلمان طلباء کے سامنے اسلام کے تصور علم کو واضح کیا جائے تاکہ وہ علم کو صرف دنیا کمانے کا ذریعہ نہ سمجھے بلکہ ان کے اندر اس کے ذریعے معرفت خداوندی ، انسانیت کی خدمت کا جذبہ اور آخرت میں جوابدہی کا احساس پیدا ہو۔ان کے سامنے دنیا کی حقیقت وہ بے ثباتی کو واضح کیا جائے کہ دنیا اپنی تمام تر رعنائیوں کے باوجود مختصر اور فانی ہیں۔ انسان دنیا میں ایک مسافر کی طرح ہیں اور بالآخر اسے اس سفر کے اختتام پر اپنے ایک ایک عمل کا جواب دینا ہے ۔

# اسٹوڈنٹس اور نوجوانوں میں نشہ آور چیزوں کی روک تھام کے لئے انہیں اس کے دینی و دنیوی نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔ مثلا انہیں بتایا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "ہر وہ چیز جو نشہ پیدا کرے حرام ہے”۔ اور ان چیزوں کا استعمال ایک طرح سے دھیمی خودکشی کے مترادف ہے اور خودکشی اسلام میں حرام ہے۔ سگریٹ، تمباکو، شراب اور دیگر نشیلی چیزوں کے صحت پر کیا اثرات پڑتے ہیں اس سے متعلق معلومات بہم پہنچائی جائیں۔ مثلاً

ایک سگریٹ پینے پر 4ہزار سے زائد خطرناک مادے جسم کا حصہ بنتے ہیں۔سگریٹ کا %15دھواں پھیپھڑوں کو اور باقی ماحول کو خراب کرتا ہے ، ایک سگریٹ انسان کی عمر 8سے14منٹ کم کرتا ہے ۔ہر سال دنیا میں 50 لاکھ سے زائد افراد سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

تمباکو نوشی سے انسان اپنی اوسط عمر سے 15 سال پہلے دنیا سے چلا جاتا ہے ۔ تمباکو 13 قسم کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے ۔Tobbaco Addict کے ساتھ رہنے پر بھی %15 موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ہر سال ایک لاکھ چالیس ہزار لڑکیاں تمباکو نوشی سے مر جاتی ہے ۔وغیرہ

نوجوان عموماً اس طرح کی نشیلی چیزوں کے عادی غلط صحبت کی اثرسے ہوتے ہیں اور نوعمری میں اس کا شکار ہوتے ہیں ۔اس لئے سرپرست اپنے بچوں کی صحبت پر ان کے دوستوں پر خصوصی دھیان دیں۔

اور ان تمام ترکوششوں کے باوجود اگر نوجوان ان منشیات کے عادی ہوجائیں، تواس سے پہلے کہ ان کی زندگی اِن نشیلی چیزوں پر منحصر ہو جائے ان کا میڈیکلی اور سائیکولوجیکل علاج کروایا جائے ۔

# الحاد اور خدا بیزاری سے بچانے کے لیے اسکول اور کالج کے علاوہ ایسے صباحی اور مسایٔ مکاتب قائم کیے جائیں جہاں کم وقت میں ان کے ایمان و عقائد کو مضبوط کرنے کا موثر انتظام ہو تاکہ کل کو وہ کسی بھی ماحول میں چلے جائیں تو ان کے کے اندر ہر قسم کے باطل نظریات کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہو ۔

#نہ صرف مسلمان بچوں کو بلکہ اساتذہ کو بھی اسلام کے تابناک ماضی اور شاندار اسلامی تاریخ کا درس دیا جائے تاکہ وہ کسی بھی قسم کی مرعوبیت کاشکار ہوئے بغیر اپنے دین ،اپنی تہذیب اور اپنی شناخت پر فخر اور بڑی شان کے ساتھ باقی رہ سکے اور وہ کسی بھی مغربی اور ہندوانہ تہذیب سے متاثر نہ ہوں ۔ان کے نزدیک اللہ کے نبی کا یہ فرمان ہو کہ "جو کوئی کسی قوم کا تشبہ اختیار کرے گااس کا شمار انہیں میں ہوگا”۔

#اسلامی تعلیم و تربیت کے بغیر گھر میں بچوں کی پرورش اپنے دشمن تیار کرنا ہے ، لہذا ماں اور باپ گھر میں بچوں کی ایسی تعلیم و تربیت کا انتظام کرے کہ ان کے بچوں کے اندر اعلی اسلامی اقدار پروان چڑھے اور برائیوں سے ان کے دلوں میں نفرت پیدا ہوا ورنہ ان کی چہیتی اولاد خود انہیں کی ذلت اور تباہی کا سبب بنیں گی۔

#کالج کیمپس میں پھیل رہی برائیوں کے معاملے میں مختلف دینی و سماجی تنظیمیں تنظیموں کو سامنے آنا ہوگا اور پورے خلوص کے ساتھ ان برائیوں کے تدارک کے لئے مؤثر طریقے اختیار کرناہوگا ۔وہ کالج انتظامیہ سے تعلقات استوار کریں وقتاً فوقتاً برائیوں کی روک تھام کے لیے مہمات، سیمینار،کارنر میٹنگس اور اجتماعات کا اہتمام کریں۔

# ایک اہم بات یہ کہ ایک ایسا گروپ ہر شہر میں تیار ہو جو طاقت کے زور پر تعلیمی اداروں میں پھیل رہی برائیوں کے اسباب کا خاتمہ کرسکے اور ساتھ ہی کیمپس میں ایسا پریشر ڈیولپ کرے کہ اسٹوڈنٹس کے لیے برائیوں میں مبتلا ہونا بہت مشکل ہو جائے۔

#عمل صالح کرنے اور برائیوں سے بچنے کے لئے سب سے موثر ترین جذبہ، فکرآخرت یعنی آخرت میں جوابدہی کا احساس ہے ۔لہذا نوجوانوں اور اسٹوڈنٹس کے اس احساس کو کو جگایا جائے کہ کل ان کو آخرت میں ان کے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے، جس کی بنیاد پر ان کے لیے جنت یا دوزخ کا فیصلہ ہونا ہے ساتھ ہی ان کے اندر یہ سوچ پروان چڑھائی جائے کہ ان کے معمولی سے معمولی گناہ کو چاہے جسے وہ سب کے سامنے کرے یا تنہائی میں، اللہ تبارک و تعالی دیکھ رہاہے۔

تم شوق سے کالج میں پڑھو، پارک میں جھولو

ممکن ہے فضاؤں میں اڑو، عرش کو چھوؤ

بس ایک سخن بندۂ عاجز کی رہے یاد

اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو

سید ریحان