نئی دہلی: سپریم کورٹ نے عید الاضحیٰ کے موقع پر کیرالہ حکومت کی جانب سے کورونا سے متعلق پابندیوں میں ریاعت فراہم کیے جانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے پنارائی وجین حکومت کو سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ بازار کے دباؤ میں آ کر لوگوں کے صحت مند رہنے کے حق کے ساتھ کھلواڑ نہیں کیا جا سکتا۔

آج تک پر شائع رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ وحشت ناک ہے کہ کورونا کی صورت حال ابتر ہونے کے باوجود پابندیوں میں اس طرح کی رعایت فراہم کی گئیں۔ تاہم، سپریم کورٹ نے کہا کہ اب ہم کیرالہ حکومت کے نوٹیفکیشن کو منسوخ بھی نہیں کر سکتے کیونکہ تیر اب کمان سے نکل چکا ہے!

سپریم کورٹ نے کہا کہ کیرالہ حکومت کا تاجروں کے مطالبہ پر لاک ڈاؤن کے اصولوں میں رعایت فراہم کرنا حیران کن ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ کیرالہ میں فراہم کی گئی رعایت سے اگر کورونا کے پھیلاؤ کا ایک بھی معاملہ ظاہر ہوتا ہے تو اس کی اطلاع عدالت کو دیں، عدالت اس پر سخت کارروائی کرے گی۔

خیال رہے کہ کیرالہ حکومت نے عید الاضحیٰ کے موقع پر کورونا کی پابندیوں میں 18 سے 20 جولائی کے درمیان کچھ رعایات فراہم کی تھیں۔ ان رعایتوں میں بازار سے وابستہ اصولوں میں نرمی بھی شامل ہے۔ ادھر، چونکہ کورونا کے پیش نظر کانوڑ یاترا کو منسوخ کر دیا گیا ہے تو کیرالہ میں اس طرح کی نرمی پر سوال اٹھائے جانے لگے اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔

سپریم کورٹ نے کیرالہ حکومت سے اس معاملہ پر جواب طلب کیا تھا۔ منگل کے روز ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ کچھ طبقات کے دباؤ میں آکر شہریوں کی سب سے قیمتی جانوں کو داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ کیرالہ حکومت کو انہیں ہدایات پر عمل پیرا ہونا ہوگا جو کانوڑ یاترا کے تعلق سے یوپی حکومت کے لئے جاری کی گئی ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ کیرالہ حکومت آئین کی دفعہ 21 یعنی حق مساوات اور زندہ رہنے کے حق کے ساتھ دفعہ 144 کا بھی خیال کرے۔ واضح رہے کہ کیرالہ میں عید الاضحیٰ کے موقع پر فراہم کی گئی پابندیوں پر انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے اعتراض ظاہر کیا گیا تھا۔ ایسوسی ایشن نے ریاستی حکومت کو کورونا کے خطرے کے تئیں آگاہ بھی کیا تھا۔