ہری پد ( کیرالا ) چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ نے آج کیرالا چیف منسٹر پنارائی وجئین پر تنقید کی اور کہا کہ ان کے دفتر کے افراد سونے کی اسمگلنگ کیس میں ملوث ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ ریاست میں سی پی ایم زیر قیادت ایل ڈی ایف اور کانگریس زیر قیادت یو ڈی ایف نے لو جہاد کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا ہے ۔ ریاست میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ادتیہ ناتھ نے کہا کہ اسمگلنگ کیس ہندوستان کی تاریخ کا انتہائی شرمناک واقعہ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف کی جانب سے لوجہاد کو روکنے بھی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ اس تعلق سے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کیرالار ہائیکورٹ کی جانب سے ریمارکس کے باوجود یہ قانون نہیں بنایا گیا ہے جبکہ اترپردیش میں لو جہاد کے خلاف قانون پر عمل کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے سوال کیا کہ یہ قانون کیرالا میں کیوں نہیں بنایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو لوجہاد کے ذریعہ نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کے باوجود یہاں یہ قانون بنانے سے اقتدار کے دعویدار دونوں ہی گروپس اور اتحادوں نے گریز کیا ہوا ہے ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں