Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

کیا 21 دن کا لاک ڈاؤن، مزید 49 دنوں یا 67 دنوں تک کا ہوگا؟

IMG_20190630_195052.JPG

نقاش نائطی 966504960485+

31 جنوری 2020 وہ پہلا مبحوس دن تھا جب بھارت گھومنے آنے اٹلی کے سیلانیوں نے۔چمنستان بھارت کو، سب سے پہلے کورونا بیماری میں مبتلا کیا ہوا تھا۔تب یا اب تک کسی سنگھی حکمران کو، بھارت میں سازش کے تحت کورونا پھیلانے کا الزام اٹلی والوں کو یا اٹلی حکومت پر عاید کرنے کی ہمت نہیں ہوئی ہے.

13 مارچ 2020 تک مرکزی وزارت صحت اپنے آفیشیل پریس ریلیز سے، کورونا کو بھارت کے لئے پریشانی والا معاملہ نہی ہے بتا رہے تھے، مدھیہ پردیش کی کانگریس سرکار کو گراتے ہوئے، شیوراج سنگھ والی بی جے پی سرکار قائم کرنے کے لئے، 21 کانگریسی ایم ایل ایز کا اغوا کر، سنگھی راجیہ کرناٹک میں انہیں نظر بند رکھتے ہوئے، آپریشن کمل پر عمل پیرا مدھیہ پردیش کے اور مرکزی سنگھی سیاستدان، نہ صرف 21مارچ تک پارلیمنٹ سیشن جاری رکھے ہوئے تھے، بلکہ ہزاروں سنگھیوں کی جئے جئے کار میں، شیوراج سنگھ کو مدھیہ پردیش شپتھ دلوائی بھی جارہی تھی۔

مدھیہ پردیش آپریش کنول کامیاب ہونے کے پکے یقین بعد، مہان مودی جی نے، 22 مارچ ایک دن کے جنتا کرفیو لگانے کا اعلان کیا تھا۔اور جنتا کرفیو کو کامیاب کرنے کی عوامی التجا کی گئی تھی۔ کوئی زور زبردستی نہیں تھی۔ بھولی بھالی عوام نے مودی جی کی التجا پر،جنتا کرفیوکو کامیاب کیا کیا؟ کہ 24 مارچ کی شب 8 بجے 21 دن کے دیش بھر لاک ڈاؤن کی سزا، دیش واسیوں کو سنائی گئی۔مدھیاوتی اور امیر بھارت واسیوں کو اس 21 دن کے لاک ڈاؤن کا اتنا بڑا اور برا اثر، نہ جھیلنا پڑا، یوپی بہار کے لاکھوں روزانہ اجرتی مزدور، ریل و بس سروسز کی عدم موجودگی میں، اپنے اپنے گاؤں دیہات پہنچنے کے لئے، بھوکے پیٹ، بچوں کو کندھوں پر اٹھائے، شاہراؤں پر نکل آنے مجبور ہوگئے، 13 سے 15 مارچ تک ہونے والا، کئی مہینوں پہلے سے طہ شدہ، تبلیغیوں کے، عالمی مشورہ مرکز نظام الدین میں پہنچے، 3000 ہزار عالم بھر کے تبلیغی، پرائم منسٹر مودی مہان کے اچانک اعلان کئے 21 دن کے بھارت لاک ڈاؤن کی وجہ سے، مرکز نظام الدین پھنس کر رہ گئے، 25 مارچ دہلی پولیس اور مرکزی سنگھی سرکار ذمہ داروں سے ملاقاتیں کر ،دہلی مرکز پھنسے تبلیغیوں کو، ان کے گھروں تک پہنچانے کی تمام تبلیغیوں کی کوششیں، 29 مارچ تک دھری کی دھری رہ گئیں۔

ایسے ویسے ڈیڑھ سے دو ہزار لوگ اپنے گھروں میں پہنچ گئے، 29 مارچ تک دہلی و مرکز سرکار کے عدم تعاون سے پھنسے رہ گئے دہلی مرکز ایک ہزار لوگ، روزانہ اجرتی لاکھوں یوپی بہار مزدوروں کے ،لاک ڈاؤں توڑتے،دہلی شاہراوؤں پر پہنچنے کے سبب، دنیا والوں کے سامنے بدنام ہوتی سنگھی مرکزی حکومت کو، اپنی پرانی روش، ھندو مسلم منافرتی ماحول پیدا کر، اپنی ناکامیوں پر سے دیش واسیوں کی نظر ہٹوانے کے لئے، خود انکے عدم ٹاؤن سے دہلی مرکز پھنسے رہ گئے ایک ہزار تبلیغی، بکاؤمیڈیا پر 24/7 منافرت آمیز پرچار سے، 95 سالہ دعوت تبلیغ والے سیدھے سادھے مسلمانوں کو، دیش بھر میں، کورونا مرض پھیلاتے، جہادی تبلیغی مانؤ بم ثابت کرتے، چمنستان بھارت کی ہزاروں سالہ سیکیولر، پر امن فضا کو، نفرت آمیز کرنے کا سنگھی مودی یوگی امیت شاہ حکومت کو موقع مل گیا۔*

*اب جب 21 دن کے لاک ڈاؤن گھروں میں قید بیسیوں کروڑ بھارتیہ مرد آہن، کام دھندے کی ماورائیت کے چلتے،ذہنی مریض بنتے، اپنی اپنی صنف نازک پر کرتے ہتھیا چار کی خبریں، میڈیا پر آنی شروع بھی نہیں ہوئی تھیں، کہ سو کروڑ دیش واسیوں کی دھیرج و صبر کا امتحان لینے، کل تک 21 دن کا لاک ڈاؤن، کسی صورت آگے نہیں بڑھایا جائیگا کہنے والی سنگھی سرکار، اپنے بکاؤ اے بی سی، میڈیا مادھیم سے، 49 دنوں کے سیدھے مزید لاک ڈاؤن، یا 21 دن، 28 دن اور 18 دن پر مشتمل ، درمیان میں 5 دن کے وقفہ سے، جملہ 67 دن والا مرحلہ وار ، بھارت بھر کا لاک ڈاؤن، کس طرح ہو، تین تین الگ الگ سجھاؤ یا پرستاؤ، عوام کے سامنے رکھتے ہوئے،49 یا 67 دن کے گھروں میں قید و بند رہنے کے سنگھی فیصلے کو، عوامی فیصلے کی شکل میں، 137 کروڑ دیش واسیوں پر نافذ کرنے کی تیاری میں لگتی ہے سنگھی مودی امیت شاہ حکومت۔ یہ تو اچھا ہے ہمارے بدھیمان پی ایم مودی جی، وقفے وقفے سے کبھی تالی اور تھالی تو کبھی دیپ موم بتی اندھیرے اجالے کا کھیل کھیلتے، قید و بند کے کٹھن لمحات کو بھی، ہنستے کھیلتے توضیع وقت کرتے، کاٹنے کے حسین مواقع فراہم کررہے ہیں۔ پتہ نہیں اب کے لاک ڈاؤن میں بچے 10 دن اور آنے والے لاک ڈاؤن کے 49 یا 67 دن دوران، اور کتنے توضیع اوقات والے، تالی تھالی یا دیپ موم بتی والے کھیل، مودی جی، دیش واسیوں کو سجھاتے ہیں، یہ دیکھنا اب باقی رہ گیا ہے۔اس سنگھی 6 سالہ دور میں، ایک بات جو سب سے اچھی مودی جی کی لگتی ہے وہ ہے 1977 کی اندرا گاندھی والی ایمرجنسی سے بھی برے دن میں بھی، دیش واسی، اندرا گاندھی محترمہ سے متنفر و بے زار ہوئے جیسا، تالی تھالی اور دیپ موم بتی اندھیرا اجالا، کھیلتے کھیلتے، پہلے سے بھی زیادہ مودی بھگت بننے پر مجبور جو ہوگئے ہیں، اس لئے کسی بھی دیش واسی کو، کروڑوں مودی بھگتوں اور بكاؤ میڈیا کے ہاتھوں دیش دروھ کا الزام سہنے کی، اور کل تک پچاس ساٹھ کروڑ عالم بھر کے تبلیغی مسلمانوں کے عزت دار سعد کاندھلوی کے، آسارام کے مماثل بدنام کئے جاتے، دیکھتے ڈر سے، سنگھی حکمرانوں سے، پنگا لیتے یقینا ہر کوئی خوف کھائینگے۔وما علینا الا البلاغ