کیا گوتم اڈانی این ڈی ٹی وی کے مالکانہ حقوق حاصل کر سکیں گے؟

246

انڈیا کے مشہور ٹی وی چینل این ڈی ٹی کو ایشیا کے امیر ترین شخص گوتم اڈانی کی جانب سے معاندانہ طور مالکانہ حقوق حاصل کرنے کی کوششوں میں نیا موڑ آیا ہے۔

اڈانی گروپ کی جانب سے این ڈی ٹی وی کے مالکانہ حقوق حاصل کرنے کے لیے مزید حصص خریدنے کی کوششوں کے معاملے میں ابھی سوال جواب کا سلسلہ تھما نہیں ہے۔

انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق اڈانی گروپ نے اس بارے میں تازہ بیان جاری کرتے ہوئے این ڈی ٹی وی کے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے کہ مزید شیئرز حاصل کرنے کے لیے اڈانی گروپ کو سیبی کی اجازت کی ضرورت پڑے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ سیبی کے جو بھی ریگولیٹری احکامات ہیں، ہولڈنگ کمپنی آر آر پی ایل اس کا حصہ نہیں ہے۔

این ڈی ٹی وی کی انتظامیہ چینل کو گوتم اڈانی کے ہاتھوں میں جانے سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

این ڈی ٹی وی انڈیا کے چند مقبول ترین چینلز میں سے ایک ہے جسے خاص طور پر اپنی غیر جانبدارنہ نیوز کوریج کے لیے جانا جاتا رہا ہے۔ یہ چینل ملک کے ان چنندہ خبر رساں اداروں میں سے ایک ہے جو اکثر وفاقی حکومت کے اقداامت پر تنقید کرتے ہیں۔

گوتم اڈانی کو حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

این ڈی ٹی وی نے ریگولیٹری پابندیوں کے امکانات کو بنیاد بتا کر کہا تھا کہ اڈانی گروپ کی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی۔

گزشتہ دنوں اڈانی گروپ نے اس چینل کے تیس فیصد حصص کو بالواسطہ طریقوں سے خرید لیا۔ اڈانی گروپ نے بامبے سٹاک ایکسچینج اور نیشنل سٹاک ایکسچینج کو بتایا کہ وہ چینل میں مزید چھبیس فیصد حصص خریدنے کے لیے بھی ایک اوپن آفر پیش کریں گے۔

اس سے یہ اندازہ بھی لگایا جا رہا ہے کہ اڈانی گروپ کا این ڈی ٹی وی میں مالکانہ حصہ داری کا ارادہ ہے۔ اگر ان کا اوپن آفر کامیاب رہا تو این ڈی ٹی وی میں ان کی کل حصہ داری 55 فیصد ہو جائے گی۔

حالانکہ این ڈی ٹی وی کی انتظامیہ نے اس بارے میں حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بارے میں کچھ بھی پتا نہیں تھا۔

گوتم اڈانی نے اعلان کیا کہ وہ این ڈی ٹی وی کے مزید 26 فیصد حصص کے لیے اوپن آفر دے رہے ہیں.

نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق این ڈی ٹی وی نے اس بارے میں ریگولیٹری پابندیوں کے حوالے سے کہا ہے کہ اڈانی گروپ چینل کے مزید حصص نہیں خرید سکے گا۔

انڈین سٹاک ایکسچینج کو دی جانی والی اطلاعات کے مطابق این ڈی ٹی وی کے بانی پرانوئے رائے اور رادھیکا رائے پر 2020 سے شیئر بازار میں اپنے حصص بیچنے یا مزید خریدنے پر پابندی عائد ہے۔ اس لیے وہ لوگ اڈانی گروپ کو ان شیئرز کی منتقلی نہیں کر سکیں گے۔ یعنی وہی شیئرز جن کی بنیاد پر اڈانی گروپ این ڈی ٹی وی کے مالکانہ حقوق کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

منگل کو اڈانی گروپ نے کہا تھا کہ وہ این ڈی ٹی وی سے کنٹرول کے لیے ضروری حصص حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالانکہ این ڈی ٹی وی نے کہا تھا کہ یہ ’مکمل طور پر غیر متوقع‘ قدم ہے اور اس بارے میں کمپنی سے کوئی مذاکرات نہیں کیے گئے۔ نہ ہی ان سے ایسی کوئی اجازت لی گئی ہے۔

این ڈی ٹی وی 2020 میں جاری ہونے والے سیبی (سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا) کے جس آرڈر پر زور دے رہا ہے اس کے مطابق سیبی نے 26 نومبر تک پرانوئے رائے اور رادھیکا رائے کے انڈین شیئر بازار میں ٹریڈنگ کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

سیبی نے یہ کارروائی ایک تفتیش میں یہ سامنے آنے کے بعد کی تھی کہ ان دونوں نے مشکوک ’انسائیڈر ٹریڈنگ‘ کے ذریعے این ڈی ٹی وی کے شیئرز میں غلط طریقے سے منافع کمایا تھا۔

انڈیا کی ایک لا فرم پاینیئر لیگل کی پارٹنر پریتا جھا نے رائٹرز سے کہا ’ایسا لگتا ہے کہ این ڈی ٹی وی کی جانب سے ایک عمل کو روکنے یا اس کی رفتار کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن ایسا نہیں لگتا کہ وہ اڈانی گروپ کی کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کو روک پائیں گے، اس عمل کو وہ تھوڑا سست بھلے ہی کر لیں۔‘

مخالفت اور خدشات کی بنیاد

گوتم اڈانی ایشیا کے امیر ترین شخص ہیں جن کے وزیر اعظم نریندر مودی اور حکمران جماعت بی جے پی کے ساتھ نزدیکی تعلقات سمجھے جاتے ہیں۔

این ڈی ٹی وی کا شمار ہندی اور انگریزی دونوں ہی زبانوں میں ملک کے ان چنندہ اداروں میں کیا جاتا ہے جو بی جے پی اور نریندر مودی پر تنقید کرنے سے گھبراتا نہیں۔

این ڈی ٹی وی کے اعتراضات کے مطابق اڈانی گروپ نے دعویٰ اور تجاویز پیش کرنے سے قبل ’مشاورت، اجازت یا نوٹس’ کو ضروری نہیں سمجھا۔ جبکہ حزب اختلاف سمیت چند میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ اڈانی گروپ کے پاس این ڈی ٹی وی کے مالکانہ اختیارات آ جانے سے ملک میں صحافتی آزادی اور خبروں کی غیر جانبدارانہ کوریج متاثر ہوگی۔

2022 کے آغاز میں اڈانی گروپ نے میڈیا کی صنعت میں قدم رکھنے کے بارے میں اعلان کے ساتھ قوئنٹلیئن بزنس میڈیا لمیٹڈ کو خرید لیا تھا جو کہ اقتصادی شعبے کے خبروں کا ادارہ ہے۔

اس درمیان آزادی صحافت کو خطرہ ایک بڑے خدشے کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ انڈیا میں بی جے پی کے حکومت میں آنے کے بعد سے ہی ان پر میڈیا پر دباؤ ڈالنے اور متعدد اداروں اور بااثر اینکر پرسنز کی مدد سے عوام کو گمراہ کرنے والے انداز میں خبروں کو پیش کرنے کی کوششوں کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔

اڈانی گروپ کے این ڈی ٹی وی پر مالکانہ حق حاصل کرنے کی کوششوں کے سبب ان کے وزیر اعظم مودی کے ساتھ نزدیکی تعلقات ایک بار پھر موضوع بحث بن گئے ہیں۔

میڈیا کی نگران ویب سائٹ نیوز لانڈری کی ایک رپورٹ کے مطابق ’نریندر مودی کے ایک حامی کے پاس مالکانہ اختیارات آ جانے کا اثر ایک مین سٹریم نیوز چینل کی خبروں کے تنوع پر واضح ہو گا۔‘

سکرول نیوز ویب سائٹ نے اس بات پر زور دیا کہ ’یہ ان چند چینلز میں سے ایک ہے جنہوں نے نریندر مودی کی حکومت پر تنقید کو جاری رکھا۔‘

جبراً ٹیک اوپر کی کوشش؟

اگر اڈانی گروپ واقعی پرانوئے رائے اور رادھیکا رائے، اور این ڈی ٹی وی کی اتنظامیہ کمیٹی کی مرضی کے خلاف کمپنی کے حصص حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو اسے ’ہوسٹائل ٹیک اوور‘ کہتے ہیں۔

کمپنی کے تمام ملازمین کو این ڈی ٹی وی کی سی ای او سوپرنا سنگھ نے ایسا ہی لکھ کر بتایا بھی ہے۔

یہاں یہ بھی سوال اہم ہے کہ اڈانی گروپ این ڈی ٹی وی پر کنٹرول حاصل کرنے یا اس کے 50 فیصد سے زیادہ حصص حاصل کرنے کی کوشش کمپنی کے موجودہ پرموٹروں کے ساتھ مل کر، ان کی رضا سے کر رہا ہے یا ان کے ساتھ زبردستی کی جا رہی ہے۔

سوپرنا سنگھ نے کمپنی کے کارکنان سے جو کہا ہے اسے سچ مانا جائے تو یہاں معاملہ زور زبردستی کا ہی لگ رہا ہے۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اڈانی گروپ کی جانب سے اعلان کیے جانے کے ایک روز قبل ہی این ڈی ٹی وی نے سٹاک ایکسچینج کو لکھ کر بتایا تھا کہ ایک اخبار کے صحافی نے ان سے پوچھا ہے کہ کیا پرانوئے رائے اور رادھیکا رائے اپنی ہولڈنگ کمپنی آر آر پی اے کے ذریعے محفوظ اپنی حصہ داری کو بیچ رہے ہیں۔

کمپنی نے اس صحافی اور ایکسچینج کو یہ لکھ کر دیا تھا کہ یہ افواہیں بے بنیاد ہیں اور یہ بھی کہ رادھیکا یا پرانوئے نے کمپنی کے مالکانہ حقوق تبدیل کرنے کے بارے میں کسی سے کوئی بات کی ہے نہ ہی کرنے کا ارادہ ہے۔

ان دونوں کے پاس الگ الگ اور آر آر پی ایل ہولڈنگ کے ذریعے کمپنی کی کل ’پیڈ اپ کیپیٹل‘ کا 61.45% حصہ ہے۔

کمپنی کی جانب سے فروخت یا کسی بڑے حصہ داری کے بارے میں وضاحت پیش کرنا بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ قوائد کے مطابق ایسی کوئی بھی اطلاع سب سے پہلے سٹاک ایکسچینج کو دی جانی چاہیے۔