یورپی یونین کے ڈرگ ریگولیٹرز نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی نئی قسم کا جائزہ لے رہے ہیں، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس کے لیے نئی ویکسین کی ضرورت ہوگی۔نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جمعے کو یورپی میڈیسن ایجنسی (ای ایم اے) نے کہا کہ یہ دیکھنے کےلیے مزید تفصیلات درکار ہیں کہ نئی قسم پہلے سے طے شدہ چار خوراکوں پر بھاری ہوگی۔
ایمسٹرڈیم میں موجود ای ایم اے نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم حال ہی میں سامنے آنے والی B. 1.1.529 قسم کا جائزہ لے رہے ہیں جو کئی شکلیں تبدیلی کرتی ہے۔‘

بیان کے مطابق ’موجودہ معلومات اتنی زیادہ نہیں ہیں جن سے اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ وائرس بہت زیادہ پھیلے گا اور ویکسین سے حاصل کی گئی قوت مدافعت کافی نہیں ہوگی۔‘’ای ایم اے سمجھتی ہے کہ اس وقت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نئی قسم کےلیے ایک نئی ویکسین بنانے کی ضرورت ہوگی۔‘یورپی یونین نے وائرس کی نئی قسم پر تشویش ظاہر کی ہے اور ممبر ممالک سے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ سے آنے اور جانے والی فلائٹس بند کی جائیں۔

جمعے کو بیلجیم نے کہا کہ ملک میں یورپ میں نئی قسم کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔ای ایم اے نے یورپ میں کورونا کی چار ویکسینز منظور کی ہیں جس میں فائزر، موڈرنا، ایسڑازینیکا اور جانسن اینڈ جانسن شامل ہیں۔فائزر نے کہا کہ کورونا کی نئی قسم کے خلاف اس کی ویکسین کا ڈیٹا دو ہفتوں میں سامنے آئے گا۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یورپی یونین، برطانیہ اور انڈیا نے کورونا کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد سخت سرحدی کنٹرول کا اعلان کیا ہے۔ برطانیہ نے جنوبی افریقہ اور پڑوسی ممالک سے پروازوں پر پابندی لگا دی ہے اور وہاں سے واپس آنے والے برطانوی مسافروں کو قرنطینہ میں رہنے کو کہا ہے۔
یورپی یونین نے بھی جنوبی افریقہ سے سفر پر پابندی عائد کر دی ہے تاکہ کورونا وائرس کی نئی قسم کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکے۔سائنس دان رواں ہفتے سامنے آنے والے اس ویریئنٹ کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم اس خبر نے عالمی سٹاک اور تیل کی مارکیٹوں کو ہلا دیا ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔