کیا کانگریس پارٹی نے ساورکر کو تسلیم کرلیا۔۔۔؟

896

ترواننتاپورم: کانگریس پارٹی کی بھارت جوڑو یاترا میں آج ایک ایسی نئی چیز دکھائی دی جسے دیکھ کر نہ صرف کانگریس کے حامی بلکہ اس کے محالفین بھی بھونچکا رہ گئے۔کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا سینئر لیڈر راہول گاندھی کی قیادت میں کیرالہ میں جاری ہے۔ آج بھارت جوڑو یاترا کی ریالی جیسے ہی ارناکولم ضلع میں پہنچی، پارٹی کو ایک ایسی غلطی کا سامنا کرنا پڑا جس کا اسے اندازہ نہیں تھا۔

یاترا کے ایک پوسٹر میں ویر ساورکر کی تصویر دیگر مجاہدین آزادی کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ واضح رہے کہ کانگریس نے کبھی بھی ساورکر کو تسلیم نہیں کیا ہے اور ہمیشہ انہیں انگریزوں سے لڑنے کے بجائے ان سے معافی مانگنے والا قرار دیا ہے۔

یہ پوسٹر جیسے ہی سوشیل میڈیا پر وائرل ہوا، بی جے پی آئی ٹی سیل نے اسے اچک لیا۔ بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے بیانر کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے راہول گاندھی پر طنز کیا کہ دیر سے ہی سہی، راہول گاندھی کو وی ڈی ساورکر کی اہمیت کا اندازہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ راہول کے پڑدادا نہرو نے پنجاب کی نابھا جیل سے رہائی کے لئے انگریزوں سے التجا کی تھی اور صرف دو ہفتوں میں باہر آگئے تھے۔

امیت مالویہ کے ٹویٹ پر سینئر کانگریس لیڈر جئے رام رمیش نے ایک جوابی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اس بات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ امیت مالویہ جھوٹی باتیں پھیلانے میں ماہر ہے۔ جواہر لال نہرو نے 10 سال جیل میں گذارے اور کوئی رحم کی درخواست نہیں کی۔ایک اور سینئر کانگریس لیڈر پون کھیرا نے بھی بی جے پی آٹی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہرو نے تقریباً 10 سال جیل میں گذارے اور کبھی بھی ویر ساورکر اور واجپائی و دیگر کی طرح انگریزوں کو معافی نامے نہیں لکھے۔

دوسری طرف کیرالہ کے ارناکلم میں جیسے ہی اس بات کا علم ہوا، کانگریس ورکرس نے ساورکر کی تصویر کو مہاتما گاندھی کی تصویر سے ڈھانپ دیا۔

متعلقہ ذمہ داران نے اس بات کی وضاحت کی کہ یہ جان بوجھ کر اٹھایا گیا قدم نہیں ہے بلکہ پرنٹنگ کی غلطی ہے۔ بیانر ڈیزائن کرنے والے لڑکے کو مجاہذین آزادی کی تصاویر لگانے کی ہدایت دی گئی تھی اور اس نے انٹرنیٹ سے یہ تصویریں حاصل کرکے بیانر میں ڈال دیں۔تاہم کانگریس نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مناسب طریقے سے جانچ کے بغیر بیانر کو پرنٹنگ کے لئے بھیج دیا گیا تھا۔